چند شخصیات کےلئے قوانین تبدیل: سابق سیکرٹری و ممبر پی ایس سی نعیم شیراز چیئرمین احتساب بیورو تعینات

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں ایک طویل عرصہ کے بعد احتساب بیورو کے چیئرمین کے خالی عہدہ پر تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔اٹھارہ اگست کو جاری کئے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق سردار نعیم احمد شیراز کو چیئرمین احتساب بیورو تعینات کر دیا گیا ہے۔ وہ اس عہدہ پر تین سال کی مدت تک رہیں گے، جبکہ تنخواہ، الاﺅنسز اور دیگر مراعات بنیادی پے سکیل 21کے برابر انہیں فراہم کی جائینگی۔ سردار نعیم احمد شیراز سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے تھے، بعدازاں موجودہ حکومت نے انہیں پبلک سروس کمیشن کا ممبر مقرر کیا تھا، جبکہ اس وقت وہ یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ کے ممبر بھی تھے۔

سردار نعیم احمد شیراز کی بطور چیئرمین احتساب بیورو تقرری کو جہاں ایک احسن اقدام قرار دیا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا میں انہیں اور حکومت کو مبارکباد دی جا رہی ہے۔ وہیں یہ اعتراض بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ حکومت نے صرف تین شخصیات کو نوازنے کےلئے قوانین میں خصوصی نرمی کرنے کی قانون سازی کی ہے۔ جو کسی طور درست نہیں ہے۔ اس کے علاہ نیشنل مینجمنٹ کالج کی طرف سے 93ویں نیشنل مینجمنٹ کورس کی سردار نعیم احمد شیراز سے متعلق ایک خفیہ کورس رپورٹ بھی منظر عام پر آئی ہے۔ جس میں سردار نعیم احمد شیراز سے متعلق کہا گیا ہے کہ کیریئرکی ترقی کےلئے انکی صلاحیت انتہائی محدود ہیں۔ انہیں صرف اپنے ہی سروس گروپ میں معمول کی ذمہ داریاں تفویض کی جا سکتی ہیں۔

سردار نعیم احمد شیراز کی بطور چیئرمین احتساب بیورو تقرری کےلئے تیار کی گئی فائل پر محکمہ قانون نے اعتراض کر رکھا تھا۔ چار ماہ سے زائد عرصہ قبل حکومت نے سردار نعیم احمد شیراز کو بطور چیئرمین احتساب بیورو تعینات کرنے کی سمری تیار کی تھی۔ محکمہ قانون نے اس سمری پر اعتراض کیا تھا کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے قوانین کے مطابق ایک مرتبہ پبلک سروس کمیشن میں اپنی مدت پوری کرنے والا چیئرمین یا ممبر کسی بھی دوسرے سرکاری عہدے کا اہل نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ سے چیئرمین احتساب بیورو کی تقرری ممکن نہیں تھی۔ سینئرصحافی ملک عبدالحکیم کشمیری نے روزنامہ مجادلہ کو بتایاکہ حکومت نے بجٹ اجلاس سے قبل قانون سازی کرتے ہوئے اس پابندی کا خاتمہ کر دیا تھا۔ اور یہ عمل صرف سابق چیئرمین پبلک سروس کمیشن محسن کمال اور ممبر پبلک سروس کمیشن سردار نعیم احمد شیراز کو نوازنے کےلئے کیا گیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اس قبل بطور ممبر یونیورسٹی سینڈیکیٹ انکی تقرری بھی غیر آئینی اور غیر قانونی تھی۔ لیکن اب قانون میں نرمی کرتے ہوئے انکی تقرری بطور چیئرمین احتساب بیورو کر دی گئی ہے۔

ملک عبدالحکیم کشمیری کے مطابق حکومت نے گزشتہ دنوں صرف ایک شخصیت کو نوازنے کےلئے بھی ایک صدارتی آرڈیننس کے تحت قانون میں خصوصی نرمی کی ہے۔ ان کے مطابق سابق سیکرٹری حکومت سردار رحیم خان کو بطور ممبر الیکشن کمیشن تعینات کرنے کی سفارش ہو رہی تھی۔ لیکن قانون کے مطابق ممبر الیکشن کمیشن تعیناتی کی حد عمر پینسٹھ سال مقرر تھی۔ جبکہ سردار رحیم خان کی عمر چھیاسٹھ سال ہو چکی ہے۔ اس لئے حکومت نے صرف ایک شخصیت کو نوازنے کےلئے عمر کی حد پینسٹھ سال سے بڑھا کر چھیاسٹھ سال کر دی ہے۔ واضح رہے کہ صدارتی آرڈیننس کے بعد نوے روز کے اندر اگراسے اسمبلی سے منظور نہیں کیا جاتا تو وہ آرڈیننس غیر فعال ہو جاتا ہے۔ اس طرح یہ نرمی صرف ایک شخصیت کو ہی فائدہ دے گی۔ اس کے بعد اگر قانون سازی نہ ہوئی تو مستقبل میں کوئی بھی اس نرمی سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔

ملک عبدالحکیم کشمیری کاکہنا ہے کہ حکومت نے چند شخصیات کو نوازنے کےلئے خصوصی قانون سازی کر کے یہ باور کروا دیا ہے کہ طاقتور کےلئے ہر قانون اور قاعدہ تبدیل ہو سکتا ہے لیکن عام انسان کےلئے اس حکومت کے پاس دینے کےلئے کچھ نہیں ہے۔

سینئر صحافی وبانی صدرغازی ملت پریس کلب راولاکوٹ سردار نذر محمد خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی بیوروکریٹ اگر ریٹائرمنٹ کے بعد کسی عہدہ پر تعینات ہوتا ہے تو اسے عرصہ تعیناتی کے دوران پنشن اور مراعات سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔وہ صرف ایک عہدہ ہی کی مراعات اور تنخواہ لے سکتا ہے۔ ایسا قانون ابھی تک پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں موجود نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ اعلیٰ افسران اور ججوں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعدبھی کسی نہ کسی سرکاری عہدے پر تعینات ہو سکیں۔ جس کی وجہ سے انہیں دہری مراعات ، پنشن اور تنخواہیں ملتی رہتی ہے۔انکا کہنا تھا کہ پبلک سروس کمیشن کا ممبر اور چیئرمین اپنی مدت پوری کرنے کے بعد کسی بھی سرکاری عہدے کا اہل نہیں ہو سکتا، اس کےلئے قانون میں نرمی کی گئی ہو گی۔ تاہم انہوں نے قانون میں کسی بھی نرمی سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

دوسری جانب نیشنل مینجمنٹ کالج کی منظر عام پر آنے والی خفیہ کورس رپورٹ پر کوئی تاریخ درج نہیں ہے۔ دو صفحات پر مشتمل اس رپورٹ پر راحت العین نامی ذمہ دار کے دستخط موجود ہیں۔ جبکہ رپورٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کورس اس دور میں مکمل کیا گیا جب سردار نعیم احمد شیراز طور سیکرٹری برائے وزیراعظم تعینات تھے۔ رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ وہ کافی سست مزاج ہیں۔ پبلک پالیسی بنانے اور نافذ کرنے کے حوالے سے ان کی سمجھ بوجھ بھی کافی نرم ہے۔ بہت محدود ایکسپوژر کی وجہ سے پاکستان کی اندرونی اور بیرونی ڈائنامکس سے متعلق انکی سمجھ بوجھ بہت بنیادی نوعیت کی ہے۔رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ دوران کورس انہوں نے کورس میں فراہم کردہ دانشورانہ حاصلات کو حاصل کرنے سے اپنے آپ کوروکے رکھا۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہ کورس انکی ترقیابی کےلئے لازمی ہے، وہ اس ٹریننگ کورس سے بمشکل پاس کرنے کے قابل سمجھ بوجھ اور طریقہ کار سیکھنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ انہیں کورس سے کمیونیکشین اور پریزنٹیشن سکل میں اضافہ کرنے میں مدد ملی ، لیکن تحریری کام میں وہ قابل اطمینان حالت سے بھی کم تر درجے پر رہے۔

رپورٹ میںلکھاگیا کہ وہ یک اچھے اور شریف آدمی ہیں لیکن بطور ٹیم پلیئر وہ اپنے ساتھیوں کا اعتماد جیتنے میں ناکام رہے ہیں۔ ریٹنگ میں انہیں طور لیڈر کورس کے سب سے نچلے درجے میں رکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے آخر میں لکھا گیا کہ سردار نعیم کے پاس کیریئر میں ترقی کی بہت ہی محدود صلاحیت ہے۔ انہیں اپنے ہی سروس گروپ میں صرف معمول کی ذمہ داریاں ہی تفویض کی جا سکتی ہیں۔

رپورٹ میں تقرری کی صلاحیت صرف انکے اپنے ہی سروس ڈپارٹمنٹ میں قرار دی گئی۔ ترقی کی صلاحیت کو محدود قرار دیا گیا۔ ترقیابی کے بعد تقرری بھی صرف اپنے ہی سروس گروپ میں کرنے کی سفارش کی گئی۔ بطور اسنٹریکٹر انکی صلاحیتوں کی بالکل ناکافی قراردیاگیا۔ اپنی سروس گروپ انسٹیٹیوٹ، سول سروس اکیڈمی، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ اور نیشنل مینجمنٹ کالج میں بطور انسٹرکٹر انکی تقرری کے ہر امکان کو رد کیا گیا تھا۔

ایک طرف جہاں نیشنل مینجمنٹ کالج کی اس خفیہ رپورٹ کے لیک ہونے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تو دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر ایک شخص اپنے ہی سروس گروپ میں ، جہاں تقرری سے ریٹائرمنٹ تک کا عرصہ گزارہ، محدود صلاحیتوں کا حامل ہے۔ اسے اپنے ہی سروس گروپ سمیت دیگر کسی بھی محکمہ سے متعلق تربیتی ادارے میں تقرری کا حقدار بھی قرار نہیں دیا جا رہا۔ وہ کسی بھی ادارے کو چلانے اوربطور ٹیم لیڈر کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔ اگر پاکستان کا سب سے بڑا ادارہ اس طرح کی رپورٹ ایک آفیسر کے متعلق جاری کرتا ہے تو پھر حکومت کس طرح ایسے افسران کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اہم ترین ادارہ کی سربراہی کی ذمہ داریاں ایک سے زائد بار دے رہے ہیں۔