لبریشن فرنٹ کا 4اکتوبر کومرکزی کنونشن اور24اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنیکا اعلان

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے جموں کشمیر کی تقسیم اور سیاسی نقشوں میں شمولیت سمیت دیگر مطالبات کے گرد احتجاجی تحریک چلانے اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ تحریک ستمبر کے دوسرے ہفتے سے باغ میں احتجاجی ریلی اور جلسہ سے شروع ہو گی۔ ستمبر میں ہی حویلی میں جلسہ عام کا انعقاد کیا جائے گا ۔ جبکہ چار اکتوبر کو کوٹلی میں احتجاجی جلسہ اور پارٹی کا مرکزی کنونشن بھی منعقد کیا جائیگا۔ اس دوران عوامی رابطہ مہم چلاتے ہوئے چوبیس اکتوبر کو راولاکوٹ سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

یہ لانگ مارچ معاہدہ کراچی اور ایکٹ 74ءکے خاتمے اور پاکستانی زیر انتظام گلگت بلتستان اور جموں کشمیر کے علاقوں پر مشتمل ایک بااختیار اور عوامی نمائندہ حکومت کے قیام کے مطالبات کے گرد کیا جائے گا۔ لانگ مارچ کا مقصدپاکستانی عوام کے منتخب نمائندوں، سول سوسائٹی اور محنت کش طبقے تک اپنا پیغام پہنچانا اور ان سے جموں کشمیر کے عوام کے حقوق کی بازیابی کےلئے حمایت حاصل کرنا ہوگا۔

مرکزی ترجمان سردار عمر حیات کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی سنٹرل کمیٹی کا ایک اہم اجلاس راولاکوٹ کے مقامی ہوٹل میں چیئرمین سردارمحمد صغیر خان ایڈووکیٹ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں سینئر وائس چیئرمین راجہ مظہر اقبال ایڈووکیٹ،سیکریٹری جنرل شعیب خان، سیکریٹری نشرو اشاعت عثمان کاشر ،زونل صدر انصار احمد خان، سینئر نائب صدرعرفان عباسی،نائب صدر اجمل ساگر ،زونل جنرل سیکریٹری احمد جان بٹ، پبلسٹی سیکریٹری شاید شریف،انیس کشمیری، سینئر رہنماﺅں حمید خان ،عامر کشمیری،جاوید عباسی،راجہ نجیب کشمیری ،عمر نذیر کشمیری ،وقار حیات،جے کے ایس ایل ایف کے چیئرمین عابد راجہ ، سیکریٹری جنرل دانش گلفراز،عرفان عنائت، طلعت انقلابی اور دیگر مرکزی ،ضلعی اور مقامی رہنماوں نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاس میں جموں کشمیر کی موجود صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور ہندوستان پاکستان اور چین کی طرف سے ریاست جموں کشمیر کو مستقل بنیاد پر تقسیم کر کے اس کے حصے بخرے کرتے ہوئے اپنا اپنا قبضہ برقرار رکھنے کی سازش پر بحث ہوئی۔

5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت کی طرف سے ریاست جموں کشمیر کے اپنے زیر قبضہ علاقوں کو انتظامی طور پر تقسیم کر کے براہ راست دہلی کے کنٹرول میں دینے سے پیدا شدہ صورتحال اور پاکستان کی طرف سے گلگت بلتستان اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر پر قبضے اور بھارتی اقدامات کے ایک سال مکمل ہونے سے ایک دن قبل چار اگست کو نیا سیاسی نقشہ جاری کرکے جموں کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھانے کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے ان اقدامات کے خلاف بھرپور سیاسی مزاحمت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جس کا آغاز ایک بھرپور احتجاجی تحریک سے کیا جائے گا۔ جس کے لئے ایک بھرپور عوامی رابطہ مہم چلائی جائے گی اور عوام کو ان اقدامات سے آگاہ کیا جائے گا ۔

عوامی رابط مہم اور احتجاجی تحریک کے سلسلے میں پہلا پروگرام 14 ستمبر کو ضلع باغ جبکہ 20 ستمبر کو حویلی اور چار اکتوبر کو کوٹلی میں احتجاجی پروگرام منعقد کئے جائیں گے۔ اجلاس میں 4 اکتوبر 2020ءکوپارٹی کا مرکزی کنونشن کوٹلی میںمنعقد کروانے کا اعلان کیا گیا، جس میں پارٹی کی مرکزی کا قیادت کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔

اجلاس میں مقررین نے کہا کہ جے کے ایل ایف ایک جمہوری پارٹی ہے اور ہمیشہ جمہوری روایات کی پاسداری پارٹی کا بنیادی اصول اور اساس ہے اور ایک جمہوری عمل کے ذریعے پارٹی کی قیادت کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔

اجلاس میں 24اکتوبر کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد طرف لانگ مارچ کا فیصلہ کیا گیا ہے یہ مارچ راولاکوٹ سے اسلام آباد کی طرف بھرپور عوامی قوت کے ساتھ کیا جائے گا۔ اس مارچ کا مقصد معائدہ کراچی اور ایکٹ 74کو مکمل طور پر ختم کر کے پاکستان کے زیرانتظام دونوں خطوں گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر پر مشتمل ایک بااختیار نمائندہ حکومت کے قیام کے لئے پاکستان کے ارباب اختیار خصوصی طور پر پاکستان کی پارلیمنٹ کے ممبران ،سول سوسائٹی اور پاکستان کے محنت کش عوام کویہ باور کروانا ہے کہ وہ ریاست جموں کشمیر کے عوام کی حقیقی آواز کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی حکومت اور اسٹیبلشمٹ کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ ریاست جموں کشمیر کے اپنے مقبوضہ خطوں سے اپنا قبضہ ختم کر کے یہاں کے عوام کو اپنے فیصلے کرنے کا حق فراہم کریں۔

اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ ریاست جموں کشمیر ایک وحدت ہے، جس کو تینوں پڑوسی ممالک نے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لئے تقسیم کر کے غلام بنایا ہوا ہے ۔ہم غلامی سے نفرت اور آزادی کو انسان کی معراج سمجھتے ہیں اور اس عظیم مقصد کے لئے جدوجہد کا یہ سفر ہر حال میں جاری رکھا جائے گا۔ اجلاس میں ریاست جموں کشمیر کے آزادی پسند عوام، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی کو اس لانگ مارچ اور عوامی رابطہ مہم میں شرکت کرنے کی بھی درخواست کی گئی اور اس امید کا اظہار کیا گیا کہ ریاست جموں کشمیر کے ماضی کی طرح اس دفعہ بھی ہماری اس کال کا بھرپور ساتھ دیں گے اور پارٹی عوام کی شمولیت سے بالادست قوتوں اور غاصب حکمرانوں کے خلاف فیصلہ کن جدوجہد میں عوام کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے گی۔