19سوشل میڈیا چینلوں کیخلاف مقدمہ درج:پاکستان کی بدنامی کا باعث و بھارتی میڈیا پروپیگنڈہ کا موجب بننے کا الزام

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی تحصیل کھوئی رٹہ میں 19سے زائد سوشل میڈیا نیوز چینلز اور پیجز کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا چینلز اور پیجز کے خلاف الزام ہے کہ وہ پاکستان ، قومی اداروں ، عدلیہ اور افواج کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ ان چینلز پر چلنے والی خبریں اور ویڈیوز بھارتی میڈیا پروپیگنڈہ کےلئے استعمال کر کے پاکستان اور افواج پاکستان کو بدنام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ صحافیوں اور شہریوں عزتیں اچھالنے کا باعث بھی بن رہے ہیں۔

یہ ایف آئی آر 11اگست2020ءکو ٹیلی گراف ایکٹ31اور APC 88/500/501کی دفعات کے تحت صدر پریس کلب کھوئی رٹہ راجہ اظہر ملک کی درخواست پر درج کی گئی۔پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے صحافیوں کی فلاح کےلئے بنائی جانیوالی ”آزاد جموں و کشمیر پریس فاﺅنڈیشن“ کا ایک مکتوب بھی منظر عام پر آیا ہے۔ جو رواں سال جنوری میں تینوں ڈویژن کے کمشنراور ڈپٹی کمشنر صاحبان کو لکھ کر سوشل میڈیا چینلوں اور پیجوں کو بند کرنے کی تحریک کی گئی تھی۔بظاہر مذکورہ مکتوب ہی کی بنیاد پر مذکورہ چینلز اور پیجز کے خلاف مقدمہ درج کیاگیا ہے۔

پولیس کو دی گئی درخواست پر صدر پریس کلب کھوئی رٹہ اظہر حسین ملک نے موقف اختیار کیا ہے کہ کھوئی رٹہ میں ایسے عناصر موجود ہیں جنکا نہ تو پرنٹ میڈیا ور نہ ہی الیکٹرانک میڈیا سے تعلق ہے، یہ عناصر گھناﺅنے عزائم، بلیک میلنگ اور صحافت کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ لوگ سوشل میڈیا پر نام نہاد نیوز چینل ، پیج اور یوٹیوب پر نان رجسٹرڈ چینل بنا کر صحافت کو بدنام اور صحافیوں کے علاوہ عام شہریوں کی عزت اچھالنے کا باعث بن رہے ہیں۔

درخواست میں اے کے نیوز، کھوئی رٹہ نیوز، النور نیوز، کھوئی رٹہ سٹی نیوز، بناہ نیوز، ڈیلی کشمیر نیوز، کھوئی رٹہ شہر، کھوئی رٹہ ویلی، بولتا کشمیر، اپنا دیس، بناہ ویلی فاسٹ نیوز، کوٹلہ نیوز، سمہ پانی نیوز، سرراہ، کھوئی رٹہ ویلی، عوام کی آواز، کڑوا سچ ود عاقب عابد، ڈونگی نیوز، اندرلہ کٹیڑہ کی سیاست اور دیگر چینلوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

صدر پریس کلب کھوئی رٹہ کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان نام نہاد سوشل میڈیا کے بلیک میلرز اور غیر قانونی ملکی سلامتی کے خلاف کام کرنے والوں کو روکا جائے۔ ان میں ایسے چینل اور فیس بک پیج بھی ہیں جنکی ویڈیوبھارتی چینلوں نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کے طور پر پیش کی ہیں۔ جو ملکی سلامتی اور اقوام عالم میں پاکستان اور آزادکشمیر کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ ان عناصر کے خلاف ملک سے غداری کرنے پر بھی کارروائی کی جانی چاہیے۔ کھوئی رٹہ پریس کلب بوقت تحقیقات ضروری امور پر ہمہ وقت معاونت کےلئے تیار ہے۔ قومی کاز کےلئے ہماری خدمات حاضر ہیں۔ درخواست کے مندرجات کو شامل کرتے ہوئے پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے لیکن تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ پریس فاﺅنڈیشن کی جانب سے رواں سال جنوری کی سات تاریخ کو مظفرآباد، میرپور اور پونچھ ڈویژن کے کمشنر اورتمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرصاحبان کے نام ایک مکتوب تحریر کیاتھا۔ جس میں تینوں ڈویژن کے کمشنر صاحبان کو چیئرمین سوشل میڈیا ٹاسک فورس کے طور پر سوشل میڈیاچینلوں، ویب چینلوں، کیبل ٹی وی چینلوں، فیس بک اکاﺅنٹس ، فیس بک پیجوں، واٹس ایپ گروپوں اور ٹویٹر اکاﺅنٹس وغیرہ کے خلاف کارروائی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ مذکورہ مکتوب نمبر241-57محررہ 07جنوری2020میں عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ان چینلوں اور اکاﺅنٹس کے ذریعے ملکی سالمیت، قومی سلامتی کے اداروں اور عدلیہ کے خلاف فرقہ واریت پر مبنی، غیر اخلاقی اور معاشرہ میں بد امنی پھیلانے والی خبروں اور انٹرویوز کی اشاعت اور تشہیر کی جاتی ہے۔

مکتوب میں کہا گیا تھا کہ صرف وہی خبر سوشل میڈیا پر شائع ہو سکتی ہے جو کسی رجسٹرڈ میڈیا ادارے پر چلائی گئی ہو۔ پیمرا، پریس فاﺅنڈیشن کے پاس رجسٹرڈ یا ڈیکلریشن کا حامل ادارہ ہی رجسٹرڈ صحافتی ادارہ شمار ہوسکتا ہے۔ جبکہ پریس فاﺅنڈیشن کی رکنیت رکھنے والا صحافی ہی اصل صحافی قرار دیا جا سکتا ہے۔ باقی تمام افراد اور اداروں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔ مذکورہ مکتوب میں پریس فاﺅنڈیشن کی رکنیت کے حامل صحافیوں کے کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے پرمانیٹرنگ کمیٹی کو شکایت درج کرنے کی بھی تحریک کی گئی ہے ، مانیٹرنگ کمیٹی رجسٹرڈ صحافیوں کے خلاف کارررائی عمل میں لائے گی۔

واضح رہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں تعلقات عامہ کا ایک محکمہ قائم ہے۔ جوتیرہویں آئینی ترمیم کے بعد ڈیکلریشن جاری کرنے اور میڈیا اداروں کو ریگولیٹ کرنے کے علاوہ حکومت اقدامات کو عوام الناس تک پہنچانے کا ذمہ دار ہے۔ جبکہ اضلاع میں محکمہ اطلاعات کے مقامی دفاتر بھی موجود ہیں۔اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ/ڈپٹی کمشنر اخبارات اور رسائل و جرائد کے ڈیکلریشن سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی مجاز اتھارٹی ہیں۔

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے صحافیوں کی فلاح و بہبود کےلئے ایک فاﺅنڈیشن چند سال قبل قائم کی گئی تھی۔ فاﺅنڈیشن کا چیئرمین عدالت العالیہ کا جج ہو سکتا ہے، جبکہ فاﺅنڈیشن کا سیکرٹری ڈائریکٹر جنرل محکمہ اطلاعات کو مقرر کیا گیا تھا۔ جبکہ فاﺅنڈیشن کے ممبر صحافی جمہوری انداز میں ضلعی گورنر منتخب کر سکتے ہیں، گورنرز مل کر ایک وائس چیئرمین کو منتخب کریں گے ، وائس چیئرمین عدالت العالیہ کے جج اور ڈی جی محکمہ اطلاعات کے ہمراہ فاﺅنڈیشن کی قیادت میں شامل ہوگا۔

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مذکورہ فاﺅنڈیشن کو صحافتی اداروں اور صحافیوں کو ریگولرائز کرنے کی ایک اتھارٹی کی شکل دے دی گئی ہے۔ صحافتی حلقوں کی طرف سے اکثر الزامات سامنے آتے رہے ہیں کہ فاﺅنڈیشن کی ممبر شپ کےلئے ایک جعلی ٹیسٹ انٹرویو کا سلسلہ اختیار کرتے ہوئے ایسے لوگوں کو ممبر شپ دی جاتی ہے جو شعبہ صحافت میں کام کرنے کی بجائے ریاستی اداروںکےلئے کام کرتے ہیں۔ جبکہ یہ الزام بھی لگتا آیا ہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے سینئراور پیشہ ور صحافیوں کو صرف اس وجہ سے ممبر شپ نہیں دی جاتی کیونکہ وہ ریاستی اور غیر ریاستی سکیورٹی اداروںکو پسند نہیں ہیں۔

لیکن سب سے بڑا اعتراض اس ادارہ پر یہ رہا ہے کہ فاﺅنڈیشن کے نام سے قائم ہونے والے فلاحی ادارے کی جانب سے صحافیوں اور صحافتی اداروں کو ریگولرائز کرنے کی اتھارٹی کی شکل دیکر آزادی اظہار رائے کا گلہ گھونٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سائبر کرائم ایکٹ کو صحافیوں اور بالخصوص شہری صحافت کرنے والے سول سوسائٹی اور سوشل میڈیا سرگرموں کے خلاف استعمال کر کے آزادانہ انفارمیشن کے بہاﺅ کو روکنے اور کنٹرولڈ اور مقید اطلاعات کو عوام الناس تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

منظر عام پر آنے والا پریس فاﺅنڈیشن کا مکتوب اور کھوئی رٹہ میں درج ہونے والی ایف آئی آر نے یہ صحافیوں ، سیاسی کارکنان اور سول سوسائٹی سرگرموں کے اعتراضات کو تقویت بخشی ہے۔

یاد رہے کہ اطلاعات کے بہاﺅ کو روکنے اور کنٹرول کرنے کےلئے اسی طرح کی قانون سازی رواں سال بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں بھی کی گئی ہے۔ جس کے تحت پولیس اور سکیورٹی فورسز کے افسران کو بھی صحافیوں کی خبریں مانیٹر کرنے اورخبروں کو درست یا غلط قرار دیکر صحافیوں اور صحافتی اداروں کے خلاف کارروائی کے اختیارات دیئے گئے ہیں۔ جس کے بعد متعدد صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے، انہیں گرفتار کیا گیا اور انہیں اظہار رائے سے روکنے کے علاوہ سوشل میڈیا اکاﺅنٹس کو بلاک کرنے کی پالیسی بھی اپنائی گئی ہے۔

غیر جانبدار مبصرین کا خیال ہے کہ یہ تمام تر اقدامات پاکستان اور بھارت کی کشمیر سے متعلق یکساں پالیسی کو ظاہر کر رہے ہیں۔ منقسم ریاست کے دونوں اطراف صورتحال کو جوں کا توں برقرار رکھنے پر اتفاق کر لیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ متنازعہ ریاست کے شہریوں کی آزادی اور مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیئے جانے کےلئے کی جانیوالی جدوجہد کو کچلنے کےلئے دونوں اطراف ایک ہی جیسے اقدامات اور قوانین نافذ کئے جا رہے ہیں۔ تاہم مسئلہ کشمیر کو مصنوعی دشمنی اور عالمی سطح پر سفارتی مسئلہ کے طورپر استعمال کرنے کےلئے کسی نہ کسی حد تک زندہ رکھنے کےلئے ایک مخصوص نقطہ نظر کو سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ بھی یاد رہے کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں کنٹرول لائن پر فائرنگ، کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں، چین کی سرمایہ کاری سے متعلق خبروں سمیت شہری اور جمہوری آزادیوں پر عائد قدغنوں سے متعلق کوئی بھی خبر مقامی صحافیوں کو جاری کرنے کا اختیار نہیں ہیں۔ جب تک پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے ان معاملہ سے متعلق کوئی ہدایت جاری نہیں ہوتی تب تک ایسی کوئی خبر اور اطلاع نہیں دی جا سکتی۔ شہری صحافت اور سول سوسائٹی اراکین سوشل میڈیا کے ذریعے اطلاعات کو عوام الناس تک پہنچانے سمیت دہرے معیار پرمبنی حکومتی پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ملکی اور عالمی سطح پر دونوں ملکوں کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ جبکہ انسانی حقوق کے ادارے بھی اطلاعات تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ اسی لئے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کہ اطلاعات کے ایسے تمام تر ذرائع کوختم کیا جائے جو آزادانہ طور پر انفارمیشن کے بہاﺅ کا موجب بن سکیں۔