پاکستانی کشمیر: عسکری تربیت یادینی تعلیم، نوجوان کی بازیابی کےلئے انتظامیہ اور کالعدم تنظیم کے مبینہ مذاکرات

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے ضلع پونچھ میں ایک کالعدم تنظیم کی جانب سے کم عمر نوجوانوں کوبھرتی کر کے عسکری تربیت کےلئے بہالپور بھیجے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ راز اس وقت کھلا جب رواں ماہ کی سات تاریخ کو جمعہ کے روز عباسپور سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر صحافی کا بیٹا ایک کالعدم تنظیم کے ساتھ جلسہ میں شرکت کےلئے قریبی قصبہ علی سوجل گیا لیکن واپس نہ آیا۔ مذکورہ نوجوان کی بڑی بہن عباسپور پریس کلب کی صدر بھی ہیں۔ تاہم مذکورہ نوجوان کو انتظامیہ کی مبینہ مداخلت کے بعد پیر کی صبح چاربجے واپس پہنچاتے ہوئے تھانہ پولیس عباسپور کے حوالے کر دیا گیا۔

ہفتہ کے روز محمد یوسف چغتائی نے اسسٹنٹ کمشنر عباسپور اور ایس ایچ او تھانہ عباسپور کے نام دو الگ الگ درخواستیں لکھیں۔ درخواستوں میں انکا موقف تھاکہ انکا پندرہ سالہ بیٹا وقاص یوسف سکول کا طالبعلم ہے۔ اسے کالعدم تنظیم کے اراکین پہلے عباسپور سے علی سوجل کسی جلسہ میں شرکت کےلئے لے گئے۔ مذکورہ اراکین کی سرپرستی بلال نامی شخص کر رہا تھا۔ علی سوجل سے میرا بیٹا واپس نہیں آیا۔جس گاڑی پروہ علی سوجل گیا تھا اس کے ڈرائیور سے معلومات لی گئی تو اس نے بتایا کہ اسے کچھ افراد اغواءکر کے لے گئے ہیں۔ لہٰذا اغواءکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

یوسف چغتائی کے مطابق کالعدم تنظیم کے مقامی سربراہ بلال نامی شخص کوہفتہ کے روز ہی اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر طلب کیا گیا۔ جہاں اس نے اعتراف جرم بھی کیا۔ ساتھ ہی دھمکی بھی دی کہ اگر یہ بات باہر نکلی تو بیٹا زندہ نہیں ملے گا۔ البتہ ہمیں دو روز کا وقت دیا جائے۔ پیر کے روز شام سے پہلے آپ کا بیٹا واپس پہنچ جائے گا۔

اسسٹنٹ کمشنر عباسپور سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔ تاہم سائرہ یوسف چغتائی نے بھی اسسٹنٹ کمشنر آفس میں ہونےو الے مبینہ مذاکرات سے متعلق مذکورہ بالا تفصیلات ہی بتائیں۔

پیر کے روز وقاص یوسف کے واپس پہنچنے کے بعد پہلے پولیس کے پاس 164کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے جبکہ بعد ازاں مجسٹریٹ /تحصیلداررضوان لطیف کی موجودگی میں 164کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے۔

164کے بیانات سے متعلق بھی بازیاب ہونے والے نوجوان اور انتظامیہ کے بیانات میں تضاد موجود ہے۔ یوسف چغتائی کے مطابق پولیس نے انکے بیٹے سے زبردستی یہ بیان ریکارڈ کروایاہوا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے بہاولپور مدرسہ میں گیا تھا۔ جبکہ بعد ازاں مجسٹریٹ کی موجودگی میں بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے اس نے حقیقت بیان کی کہ اسے ورغلا کر عسکری تربیت کےلئے بہاولپور بھیجا گیا تھا۔

تاہم تحصیلدار عباسپور/مجسٹریٹ رضوان لطیف نے مجادلہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ نوجوان کی عمر انیس سال ہے۔ اور وہ کسی سکول میں نہیں پڑتا۔ اس نے جو بیان ریکارڈ کروایا ہے اس میں بھی اس نے کہا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے بہاولپور میں دینی تربیت کےلئے مدرسہ میں داخل ہونے گیا تھا۔ گھر والوں کے دباﺅ کی وجہ سے واپس آیا ہے اور دوبارہ تعلیم حاصل کرنے بہاولپور مدرسہ جائے گا۔ رضوان لطیف کا کہنا تھا کہ اس نوجوان نے بیان میں یہ بھی کہا کہ وہ عاقل اور بالغ ہے۔ وہ اپنے متعلق فیصلہ کر سکتا ہے۔

تاہم ہفتہ کے روز اسسٹنٹ کمشنر عباسپور اور کالعدم عسکری تنظیم کے مقامی سربراہ کے مابین ہونے والے مذاکرات سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلہ میں اسسٹنٹ کمشنر ہی بہتر معلومات دے سکتے ہیں۔ ان کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہیں۔

پیر کے روز بیٹے کی واپسی کے بعد یوسف چغتائی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکام کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیے۔ ایک طرف وزیراعظم پاکستان عمران خان مظفرآباد میں کھڑے ہو کر یہ کہتے ہیں کہ جو کنٹرول لائن عبور کرے گا وہ پاکستان اور کشمیریوں سے دشمنی کرے گا۔ جبکہ دوسری طرف کالعدم تنظیمیں سرگرم بھی ہیں اور کم عمر بچوں کو ورغلاءکر انہیں نہ صرف اپنے ساتھ شامل کیاجاتا ہے بلکہ گمان ہے کہ کنٹرول کے اس پار بھیجنے کےلئے بھی انکی ذہن سازی کی جاتی ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے ایسے لوگوں سے مذاکرات کرنا اور پھر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنا بھی معنی خیز ہے۔ انہوں نے حکام بالا سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔

عباسپور پریس کلب کی صدر اور لاپتہ ہونے کے بعد بازیاب ہونے والے نوجوان کی بڑی بہن سائرہ یوسف چغتائی نے الزام عائد کیا کہ عباسپور سے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے طالبعلموں کو بڑی تعداد میں ایک کالعدم تنظیم(جیش محمد) کے لوگ اپنے ساتھ شامل کر کے انکی عسکری ذہن سازی کی جا رہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پورے ملک میںعسکری تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔مذکورہ عسکری تنظیم کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ لیکن پونچھ میں وہ سرعام سرگرمیاں کر رہے ہیں۔

سائرہ یوسف چغتائی نے ایک دفتر کی تصاویر ارسال کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ مذکورہ کالعدم عسکری تنظیم کا دفتر ہے ۔ جس کے باہر لگے پرچم ان کے بھائی کا کیس سامنے آنے کے بعد اتار دیئے گئے۔ جبکہ بعد ازاں دفتر کو بھی تالے لگا دیئے گئے ۔

واضح رہے کہ چند روز قبل امریکی تھنک ٹینک یو ایس آئی پی کی جانب سے جاری کی جانیوالی رپورٹ میں بھارتی حکام کی فراہم کردہ معلومات کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ گزشتہ سال پانچ اگست کے واقعہ کے بعد عسکریت پسندوں کی دراندازی میں تیزاضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ رپورٹ میں دیئے گئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران 256سے زائد عسکریت پسند مبینہ دراندازی کرتے ہوئے پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے بھارتی زیر انتظام کشمیر میںداخل ہوئے۔ مذکورہ رپورٹ میں بھارتی حکام کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ کنٹرول لائن پر ہونے والی دو طرفہ فائرنگ کی ایک بڑی وجہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر سے ہونے والی عسکریت پسندوں کی دراندازی کی کارروائیاں ہیں۔ تاہم پاکستان نے بھارتی حکام کے ان تمام الزامات کو ہمیشہ سختی سے مسترد کیا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر سے کسی قسم کی کوئی در اندازی نہیں ہو رہی اور نہ پاکستان کی جانب سے کسی مسلح گروہ کی حمایت کی جا رہی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ ایک سال کے دوران بھارتی الزامات کے جواب میں متعدد بار یہ بات دہرائی ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کبھی بھی کسی پڑوسی ملک کےلئے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ جولائی کے پہلے ہفتہ میں بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں ایک مبینہ فوجی آپریشن میں مارے جانے والے دو عسکریت پسندوں میں سے ایک کے متعلق دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ راولاکوٹ کے نواحی علاقے علی سوجل سے تعلق رکھتا تھا۔ قذافی عارف نامی نوجوان کے گھر میں کالعدم تنظیم کے رہنماﺅںکی جانب سے منعقد کی گئی ایک تقریب ویڈیو بھی ماہ جولائی میں ہی منظر عام پر آئی تھی۔ جس میں کثیر تعداد میں شامل شرکاءکو قذافی عارف کی قربانی کو نہ صرف خراج عقیدت پیش کرتے بلکہ اہل علاقہ میں مٹھائی تقسیم کرتے بھی دیکھا جا سکتا تھا۔

بعد ازاں جولائی میں ہی ولید بھائی نامی ایک عسکریت پسند کے بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کے علاقہ کولگام میں فوجی آپریشن کے دوران مارے جانے کی خبریں سامنے آئیں۔ مذکورہ نوجوان کا تعلق بھی جیش محمد کے ساتھ ظاہر کیا گیا اور اس سے متعلق بھی دعویٰ کیا گیا کہ اس کا تعلق پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر سے ہے۔

ایک اور دعویٰ سوشل میڈیا کے ذریعے رواں ماہ کی سات تاریخ کو سامنے آیا۔ جس میں بتایا گیا کہ ضلع پونچھ کی سرحدی تحصیل ہجیرہ سے تعلق رکھنے والاسلیم نامی عسکریت پسند بھی بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں بھارتی فوج کے ساتھ ایک مبینہ جھڑپ میں مارا گیا ہے۔ تاہم ان تمام واقعات کی پاکستان کی طرف سے تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

وزیراعظم عمران خان نے بھی مختلف تقاریر میں کنٹرول لائن عبور کرنے والی ہر سرگرمی کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے مسلح یا غیر مسلح کنٹرول لائن عبور کرنے کی کوشش کرنے والوں کو کشمیریوں اور تحریک آزادی کشمیر کا دشمن قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہونے کی وجہ سے بھی پاکستان ہر طرح کی عسکری سرگرمیوں سے نا صرف لاتعلقی اختیار کرتا ہے بلکہ تمام تر عسکری تنظیموں کو کالعدم قرار دیکر ان پر پابندی بھی عائد کی گئی ہے۔

#شہید کے گھر #مٹھائی_تقسیم !!!کون لوگ ہیں یہ ؟#علی_سوجل کے لوگ #مبارکباد کے مستحق #قابل_تقلید_عمل تیرہ جولائی 2020…

Posted by Sardar Mazhar on Wednesday, July 15, 2020

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: