پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع باغ کی پولیس نے معروف قوم پرست مصنف و محکمہ سماجی بہبود کے سرکاری افسر سعید اسد کو گرفتار کرتے ہوئے کتابیں ضبط کر لی ہیں. لیکن بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔کتابیں بھی ان کے حوالے کر دی گئیں۔مذکورہ کتب میںسے کچھ کتب اور ایک نقشہ پر پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر کے محکمہ داخلہ نے پابندی عائد کر رکھی ہے.
باغ پولیس کے مطابق انہیں شکایت موصول ہوئی تھی کہ سعید اسد ایسی کتابیں نمائش کےلئے لیکر جا رہے ہیں جن پر پابندی عائد ہے۔ تاہم پولیس کو ایسی کوئی چیز موصول نہیں ہوئی اس لئے انہیں کتابوں سمیت رہا کر دیا گیا ہے۔ شکایت کرنے والے اور رہائی کے احکامات سے متعلق کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
پیر کے روز سعید اسد نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ انہیںباغ پولیس نے حراست میںلے لیا ہے اور ان کی کتابیں ضبط کر لی گئی ہیں. مذکورہ تصویر میں ایک میز پر کچھ کتابیںپڑی نظر آرہی ہیں.اور وہ کوئی سرکاری دفتر لگ رہا ہے.
دوسری طرف سوشل میڈیا پر ایک صارف نے یہ اطلاع بھی دی ہے کہ سعید اسد پیر کے روز باغ پہنچے تھے. انہوںنے منگل 11 اگست کو باغ کے نواحی علاقے ریڑہ میںکشمیر کے موضوع پر ایک لیکچر دینا تھا. لیکن انہیںباغ پہنچتے ہیگرفتار کر کے کتابیںضبط کر لی گئی ہیں.
باغ انتظامیہ سے بارہا رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن بوجوہ رابطہ نہ ہو سکا. جبکہ پولیس نے بھی کسی گرفتاری سے متعلق معلومات دینے سے گریز کیا ہے.
سعید اسد پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر کے ضلع بھمبر کے رہائشی ہیں. وہ محکمہ سماجی بہبود میںگریڈ 16 کے افسر ہیں. گزشتہ لمبے عرصہ سے وہ نکس کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ چلاتے ہیں. جموںکشمیر کی تاریخ پر متعدد کتابیںانہوںنے مرتب کر رکھی ہیں. جن میںمعلومات جموںکشمیر سمیت معروف حریت پسند رہنما مقبول بٹ شہید سے متعلق کتب بھی شامل ہیں.
سعید اسد کے ادارہ نے بال کے گپتا کی تصنیف (میرپور جب قیامت ٹوٹ پڑی) کا اردو ترجمہ بھی شائع کیا. اس کے علاوہ بھی متعدد تصانیف سعید اسد کے ادارہ کے زیر اہتمام شائع کی گئی ہیں. انکے ادارہ کی جانب سے شائع کی گئی تصانیف اور انکی اپنی مرتب کردہ کتب میںسے اکثر پر پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر کے محکمہ داخلہ نے پابندی عائد کر کھی ہے.
سعید اسد کو مبینہ پاکستان مخالف سرگرمیوں کے الزام میںملازمت سے بارہا معطل بھی کیا گیا ہے. وہ عدالتوںکے ذریعے دوبارہ بحال ہوتے رہے. گزشتہ سال انہیں ضلع حویلی میںکتابوںکا ایک سٹال لگانے سے روک دیا گیا تھا.
سماجی رابطوںکی ویب سائٹس پر سعید اسد کی حراست کی خبر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے. اور صارفین انکی فی الفور رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں.












6 تبصرے “پاکستانی کشمیر:قوم پرست قلمکار سعید اسد کی باغ میں گرفتاری اور بعد ازاں رہائی”