مشرف فارمولا مسئلہ کشمیر کا بہترین حل: بی جے پی حکومت کی موجودگی میں پیشرفت ممکن نہیں، امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ

امریکہ کے ایک معروف تھنک ٹینک کی جانب سے شائع کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق مسئلہ کشمیر کا بہترین حل پاکستان کے سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کا پیش کردہ چار نکاتی فارمولا ہے۔ تاہم اس پر بھارت میں بی جے پی کی حکومت کی موجودگی میں دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات اور کسی قسم کی پیشرفت ممکن نہیں ہے۔

رپورٹ میں گزشتہ سال پانچ اگست کے بھارتی اقدام کے بعد کشمیر میں شورش اور عسکریت پسندی کے بڑھنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ بھارت و پاکستان کے اقدامات کو گہرائی سے دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 2003ءمیں ہوئی جنگ بندی کے خاتمے اور 2011ءسے 2020ءتک کنٹرول لائن میں جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزیوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بھارتی اداروں کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے گزشتہ سال اگست کے بعد گزشتہ بیس سال کے دوران سب سے زیادہ دراندازی کی کوششوں کا الزام پاکستان پر بھی عائد کیا گیا ہے۔ بھارتی الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کنٹرول لائن پر فائرنگ کا تبادلہ عسکریت پسندوں کی دراندازی کی کوششوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔

یہ رپورٹ امریکہ کے ایک غیر سرکاری ادارے یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹیٹیوٹ فار پیس (یوایس آئی پی) نے شائع کی ہے۔ رپورٹ کے مصنف ہیپی مون جیکب نئی دہلی کی جواہر لال یونیورسٹی میں ڈپلومیسی اور اسلحے کی تخفیف کے شعبے کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ بھارت کے معروف انگریزی اخبار ”دی ہندو“ میں مضامین لکھتے ہیں۔ جبکہ ایک اور بھارتی نشریاتی ادارے ”دی وائر“ میں قومی سلامتی سے متعلق ایک ہفتہ وار شو کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔ اس سے قبل ”لائن آف کنٹرول: پاک بھارت افواج کے ہمراہ ایک سفر“ کے نام سے دو سال قبل انکی ایک تصنیف شائع ہو چکی ہے۔ جبکہ ایک سال قبل ”لائن آف فائر: سیز فائر وائلیشنز آف انڈیا پاکستان اسکلیشن ڈائنامکس“ کے نام سے بھی انکی ایک تصنیف شائع ہو چکی ہے۔

مذکورہ رپورٹ میں کشمیر میں شورش اور عسکریت پسندی کا جائزہ لیا گیا ہے۔یہ رپورٹ اگست2019میں بھارت کی جانب سے آئینی تبدیلیوں کے بعدپاکستان اور بھارت کے سینئراور ریٹائرڈ ذمہ داران سے تبادلہ خیال اور پاک بھارت بیک ڈور ٹریک ٹو ملاقاتوں میں شرکت کے بعد مرتب کی گئی ہے۔

امریکی ادارہ برائے امن نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارتی حکومت کا یہ اصرار کہ کشمیر مکمل طور پر اس کا اندرونی معاملہ ہے صرف بھاری تعداد میں سیکیورٹی کی موجودگی سے قائم کیا گیا افسانہ ہے۔

امریکی کانگریس کے فنڈز سے چلنے والے واشنگٹن میں موجود ایک تھنک ٹینک نے اپنی ویب سائٹ پر جاری کی گئی اس رپورٹ سے متعلق ایک نوٹ لکھتے ہوئے یہ وضاحت بھی کی ہے کہ یہ مصنف کی ذاتی تحقیق اور رائے ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’نئی دہلی کو اپنا یہ بیانیہ منظم رکھنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہوگا کہ آئینی اور سیاسی تبدیلیوں سے کشمیر میں امن کی شروعات ہوگی‘۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ کشمیر میں زیادہ تر اشاریے اگست 2019 کے بعد سے تشدد میں اضافہ ظاہر کررہے ہیں۔

رپورٹ میں‌کہا گیا ہے کہ بھارت نے یکطرفہ کارروائی کے ذریعے پاکستانی زیر انتظام علاقوں کو بھی اپنا حصہ ظاہر کرتے ہوئے پاکستان کو مشکل میں‌ڈال دیا. مذاکرات کے حوالے سے بھی بھارت نے مسئلہ کشمیر پر بات چیت سے مکمل انکار کر دیا ہے. تاہم بھارت کا موقف ہے کہ اب صرف پاکستان کے زیر انتظام جموں‌کشمیر اور گلگت بلتستان سے متعلق مذاکرات ہو سکتے ہیں.

رپورٹ میں‌کہا گیا ہے کہ پاکستان نے سفارتی سطح پر بھارت کے خلاف مہم چلانے کی کوشش کی ہے لیکن پاکستان کے قریبی اتحادی عرب ملکوں‌نے پاکستان کا ساتھ دینے کی بجائے بھارت کا ساتھ دیا. تاہم بھارت کو یورپی یونین میں‌سفارتی سطح‌پر مشکلات کا سامنا ضرور کرنا پڑا لیکن کورونا وائرس کی وبائی کیفیت کی وجہ سے بھارت وہاں‌سے بھی بچ نکلنے میں‌کامیاب ہو گیا ہے.

اس مؤقف کہ عدم استحکام کی یہ صورتحال تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنے کی ترغیب دے گی، کے بارے میں رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ 07-2004 میں پاکستانی صدر جنرل (ر) پرویز مشرف اور بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کی جانب سے بیک چینل پر مذاکرات کرنے والوں کی تعیناتی کے معاملے پر نئی نظر دوڑائی جائے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ سابق صدر پرویز مشرف کا تجویز کردہ 4 نکاتی فارمولا، جسے بیک چینل مذاکرات سے بہتر بنایا گیا تھا، کشمیر کے تنازع کا بہترین حل ہے۔

اس کے بعد رپورٹ میں چاروں نکات کا جائزہ لے کر دیکھا گیا کہ کیا یہ اب بھی قابل عمل ہیں، جس میں پہلا نکتہ سیلف گورننس یعنی کشمیریوں کی حکومت تھا جس پر مشرف اور من موہن ڈیل میں اتفاق ہوا تھا جس کے لیے علاقائی اور خطے دونوں کی سالمیت اور خصوصی حیثیت ضروری ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کے 5 اگست کے اقدام نے اس آپشن کو ختم کردیا ہے۔

تاہم رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کشمیر سے فوجوں کا انخلا 07-2004 کی ڈیل کا دوسرا اہم نکتہ تھا جس پر اگر پاکستان اور بھارت متفق ہوجائیں تو اس پر عمل درآمد اب بھی ممکن ہے۔

اس کے تحت بھارت کو کشمیریوں کو ’لائن آف کنٹرل پر عسکری سرگرمیاں روکنے کے لیے بھارتی اور پاکستانی ریاست کے خلاف ہتھیار نہ اٹھانے پر راضی کرنے کی ضرورت ہے’۔

رپورٹ میں تجویز دی گئی کہ اس کا آغاز علاقے کے چھوٹے چھوٹے حصوں سے کیا جائے اگر وہ کامیاب ہوجائیں تو فوجوں کے انخلا کو کشمیر کے دیگر حصوں تک توسیع دی جاسکتی ہے۔

رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ 5 اگست 2019 سے قبل فارمولے سے تیسرے نکتے کے نفاذ کے لیے کچھ اقدامات کیے گئے تھے جس میں بھارت اور پاکستان اور دونوں اطراف کے کشمیر میں لوگوں اور تجارتی سامان کی آزادانہ نقل و حرکت شامل تھی۔

فروری 2005 میں دونوں اطراف نے اعلان کیا تھا کہ سری نگر اور مظفرآباد کے درمیان بس سروس چلائی جائے گی جس کا آغاز اس برس اپریل میں ہوا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اگست 2019 میں بھارت نے کشمیر کے غیر قانونی الحاق کا اعلان کیا اور ’اب مستقبل میں اس فارمولے پر کوئی مذاکرات شروع ہونا بہت مشکل ہے‘۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: