پاکستان کی نئی شپنگ پالیسی: رجسٹرڈ کمپنیاں دس سال تک تمام ٹیکسوں سے مستثنیٰ

پاکستان کے وفاقی وزیربرائے بحری امور علی زیدی نے پاکستان کی نئی شپنگ پالیسی کا اعلان کردیا جس کے تحت نجی شپنگ کمپنیوں کو مراعات دی گئی ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علی زیدی نے کہا کہ کئی دہائیوں سے شپنگ سیکٹر کو نظر انداز کیا گیا لیکن جب سے میں نے وزارت کا حلف لیا شپنگ سیکٹر کے لیے نئی پالیسی مرتب کی گئی۔

نئی شپنگ پالیسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جو شپنگ کمپنی رجسٹرڈ ہوگی اور جہاز لے گی اسے 2030 تک کسٹم ڈیوٹی، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس سے استثنیٰ ہوگا اور ان جہازوں کو فرسٹ برتھ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی شپنگ انڈسٹری کئی وزارتوں کے ساتھ براہ راست منسلک ہے، غیر ملکی جہازوں پر کارگو فریٹ کی مد میں ہم سالانہ 5 ارب ڈالر کی ادائیگی کر رہے ہیں۔

علی زیدی نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے وزارت میری ٹائم افیئر کی درخواست پر لانگ ٹرم فنانس سہولت کے لیے ماہی گیروں کو بھی شامل کیا ہے اور اس حوالے سے مرکزی بینک نے شپ فنانسنگ کے لیے لانگ ٹرم فنانس فیسلٹی کی اجازت دے دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی حکومتوں کی پالیسیوں کی وجہ سے فشریز سیکٹر تباہ ہوگیا لیکن ہم اس کی بحالی کے لیے بھرپور اقدامات کررہے ہیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ تین یا چار شپنگ کمپنیاں ملک میں جلد بحری جہاز خریدیں گی۔

اس موقع پر عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ شپنگ سیکٹر کو اسٹریٹجک اہمیت حاصل ہے، نائن الیون واقعے کے بعد غیر ملکی جہازوں نے اپنے ریٹ بڑھا دیے تھے اور اس دوران تاجر انہیں زائد ادائیگیوں پر مجبور ہوگئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں ٹرانس شپمنٹ پالیسی لا رہے ہیں کیونکہ پاکستان میں یہ پالیسی موجود ہی نہیں تھی، سنگاپور ٹرانس شپمنٹ پالیسی کے تحت بڑے پیمانے پر کاروبار کو وسعت دے رہا ہے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: