پاکستانی کشمیر: ہائی کورٹ ججز کیخلاف فیصلہ، صدر مسعود کیریئر پر لگا داغ نہیں‌دھوئیں گے

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے صدر مسعود خان نے عدالت العالیہ کے پانچ ججز کی تقرری کالعدم قرار دیئے جانے کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کرنے سے انکار کر دیا ہے.

صدارتی سیکرٹریٹ کے ایک اہلکار نے مجادلہ سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صدر مسعود خان فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی اپیل نہیں‌کر رہے. یہ کام حکومت کا ہے اور حکومت کو ہی نظر ثانی کی اپیل کرنی چاہیے. سپریم کورٹ کے فیصلہ میں‌صدر مسعود خان قواعد کے مطابق ججز تقرری کے دوران ذمہ داریاں‌پوری نہ کرنے اور ججز تقرری کی مجاز اتھارٹی کو گمراہ کرنے جیسے اقدامات کو ثابت قرار دیا گیا ہے.

صدر مسعود خان نے ججزتقرری کےلئے دونوں اعلیٰ عدالتوں‌کے چیف جسٹس صاحبان سے مشاورتی عمل مکمل کئے جانے سے متعلق جو بیان حلفی جمع کروا رکھا ہے اس کو بھی عدالت نے مستند دستاویز قرار نہیں دیا تھا. جسے صدر مسعود خان کے کیریئر پر ایک داغ قرار دیا جا رہا ہے. ججز کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کرنے والے وکلاء اور کچھ سیاسی جماعتوں‌نے بھی اعلیٰ عدالتوں‌میں‌جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے کی بنیاد پر صدر مسعود خان کے مواخذے کا مطالبہ کر رکھا ہے. تاہم صدر مسعود خان نے اس معاملہ میں‌خاموشی اختیار کرنے کا ہی فیصلہ کیا ہے.

سابق پاکستانی سفارتکار مسعود خان کو پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں‌بطور صدر تعینات کرتے ہوئے حکومت نے یہ کہا تھا کہ وسیع سفارتی تجربہ کی وجہ سے وہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے اور بالخصوص بھارتی مظالم کو اجاگر کرنے کے حوالے سے اہم اقدامات اٹھائیں گے. لیکن بوجوہ گزشتہ چار سال کے دوران وہ کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں‌کر سکے. تاہم دور صدارت مکمل کرنے کے بعد بطور سابق صدر جنیوا سمیت دیگر عالمی فورمز پر کشمیر سے متعلق لابنگ کے حوالے سے صدر مسعود خان کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے.

سپریم کورٹ کے فیصلہ پرصدر مسعود خان کے کیریئر پر لگائے گئے اس داغ کی وجہ سے بین الاقوامی فورمز پر انکو پاکستان مخالف قوتوں‌اور بالخصوص قوم پرست قیادتوں‌کی جانب سے الزامات کی بوچھاڑ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے.

واضح رہے کہ ماضی میں‌صدر مسعود خان کے ایک صاحبزادے کے امریکہ میں‌پاکستان مخالف سیاسی تنظیم کی بنیاد پر سیاسی پناہ لئے جانے کی وجہ سے بھی صدر مسعود خان کو سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے. جبکہ مختلف بین الاقوامی فورمز پر انہیں‌کشمیری تارکین وطن کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا ہے. لیکن تاحال بیٹے کی سیاسی پناہ سے متعلق انہوں نے کوئی وضاحت پیش نہیں‌کی. اب عدلیہ کی جانب سے انہیں ججز تقرریوں‌کے دوران جعل سازی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے. جس کی وجہ سے ان کا سفارتی کیریئر کافی خطرات سے دوچار ہو چکا ہے.