پاکستانی کشمیر: 29جولائی سے چار روزہ لاک ڈاﺅن نافذ، انجمن تاجران کی شدید مذمت

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی حکومت نے 29جولائی رات بارہ بجے سے 02اگست رات 12بجے تک چار روزہ لاک ڈاﺅن نافذ کر دیا ہے۔ انجمن تاجران نے حکومتی فیصلہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ میڈیکل سٹورز، بینک، پٹرول پمپس، کریانہ سٹور، سبزی، فروٹ، بیکری، سویٹ، ڈیری، گیس شاپس، گوشت کی دوکانات اور پبلک ٹرانسپورٹ لاک ڈاﺅن سے مستثنیٰ رہیں گی۔

اٹھائیس جولائی کو پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے محکمہ داخلہ کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلاﺅ میں اضافہ کے خدشہ کے پیش نظر حفاظتی اقدامات کے طور پر چوبیس اپریل کو دی گئی نرمی اور دیگر استثنائی احکامات کو موخر کرتے ہوئے 23مارچ کو جاری کئے جانے والے نوٹیفکیشن کو تابع شرائط بحال کرنیکی منظوری دی ہے۔

شرائط کے مطابق لاک ڈاﺅن کا اطلاق 29جولائی رات 12بجے سے 02اگست 2020ءرات 12بجے تک ہوگا۔ دوران لاک ڈاﺅن سیاح حضرات کے پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں داخلہ اور سیاحتی مقامات اور پارکوں پر پابندی بدستور برقرار رہے گی۔ لازمی سروسز (میڈیکل سٹورز، بینک، پٹرول پمپس، کریانہ سٹور، سبزی فروٹ، بیکری، سویٹ، ڈیری،گیس شاپس، گوشت کی دکانات اور پبلک ٹرانسپورٹ معینہ اوقات کار اور ایس او پیز کے تابع لاک ڈاﺅن سے مستثنیٰ رہیں گی۔

انجمن تاجران کے مرکزی صدر سردار افتخار فیروز نے حکومتی فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے آمرانہ فیصلہ قرار دیا ہے اور فی الفور یہ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ روزنامہ مجادلہ سے گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا جب دل کرتا ہے کوئی نوٹیفکیشن جاری کر دیتے ہیں۔ انجمن تاجران کے ذمہ داران سے مشاورت کرنا اور اعتماد میں لینا بھی گوارہ نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل بھی تاجروں نے سب سے زیادہ قربانی دی اور لاک ڈاﺅن پر عملدرآمد میں حکومت کا ساتھ دیا لیکن تاجروں کو ایک روپے کا ریلیف نہیں دیا گیا۔ حکومت نے تاجروں کو ریلیف دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن ریلیف دینے کے بجائے ایک مرتبہ پھر آمرانہ فیصلہ مسلط کر دیا گیا ہے۔ اس طرح کے فیصلہ ہم کسی صورت تسلیم نہیں کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کو حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے اس خطے میں پھیلایاگیا۔ اب جب لوکل ٹرانسمیشن ہو چکی ہے۔ لوگ ہزاروں کی تعداد میں متاثر ہیں لیکن یہ ٹیسٹ کرنے کی بجائے مصنوعی فیصلہ جات کے ذریعے غریب لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔

سردار افتخار فیروز کا کہنا تھا کہ تاجروں نے سب سے زیادہ قربانی دی ہے۔ لیکن حکومت نے تاجروں کو ریلیف دینے کی بجائے انہیں مزید آزمائش میں ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر سمارٹ لاک ڈاﺅن کرنا بھی تھا تو ان چند علاقوں میں کیا جائے جہاں کورونا کے کیس زیادہ سامنے آرہے ہیں۔ ٹیسٹ ہی نہیں کئے جا رہے ہیں۔ صرف ان لوگوں کے نتائج سامنے آرہے ہیں جو زیادہ بیماری کی وجہ سے ہسپتال سے رجوع کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹیسٹ لینے کا سلسلہ ختم کر کے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ کورونا پر قابو پا لیا گیا ہے۔

حکومتی نااہلی کی وجہ سے غیر ریاستی افراد کی ایک بڑی تعداد اس خطہ میں داخل ہو چکی ہے۔ تمام انٹری پوائنٹس پر چیکنگ اور سکریننگ کی خبریں اخبارات کی زینت بن رہی ہیں۔ لیکن دوسری طرف غیر ریاستی بھکاری، چوڑیاں بیچنے والی خواتین سمیت دیگر پیشہ ور خاندانوں کی ایک بڑی تعداد مختلف شہروں میں موجود ہے ۔ حکومت نے اس معاملہ میں کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ انکا کہنا تھا کہ حکومت فوری طور پر نوٹیفکیشن واپس لے ، ورنہ مجبوراً تاجروں کو حکومتی فیصلہ کو ماننے سے انکار کرنا پڑے گا۔