قرارداد الحاق پاکستان کے محافظوں کیخلاف حکومتی ایماء پرمقدمہ قائم ہوا، ضمانتیں نہیں‌کروائیں‌گے، جموں‌کشمیر پیپلزپارٹی

جموں‌کشمیر پیپلزپارٹی ضلع پونچھ کے سابق صدور سردار جاوید نثار ایڈووکیٹ، سردار سیاب شریف نے پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ قرداد الحاق پاکستان کا تحفظ کرنے والوں کے خلاف حکومتی ایما پر قرداد الحاق پاکستان کو سر عام نظر آتش کرنے اور قائدین کے خلاف بے حرمتی اور نازیبا الفاظ کے استعمال کرنے والوں کی ایما پر مقدمات درج کیے گئے ہیں.

جموں کشمیر پیپلزپارٹی کے کارکن تحریک و تاریخ کے وارث ہیں، اس خطہ کو جس قیادت نے آزاد کروایا اور یہاں کے لوگوں کو ووٹ کا حق دلایا اس کی جدوجہد کو جاری و ساری رکھا جائے گا ،نظریہ الحاق پاکستان کے تحفظ کرنے پر حکومت جے کے پی پی کے کارکنوں کے خلاف جتنی بھی ایف آئی آر درج کروائے ہم اسے خندہ پیشانی سے قبول کریں گئے.

جن لوگوں‌نے قرداد الحاق پاکستان و عبوری آئین 1974ء کی کاپیاں نظر آتش کی ہیں، پونچھ کی انتظامیہ نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا ہے بلکہ انتظامیہ سہولت کار بنی رہی.

انہوں‌نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ 19جولائی2020 کے واقعے کی عدالت العالیہ کے جج کے زریعے کمیشن بنا کر انکوئری کروائی جائے اور اس واقعہ کے ذمہ داران کو سامنے لا کر ان کے خلاف کاروائی کی جائے.

اس موقع پر پریس کانفرنس میں قائدین کے ہمراہ سردار عبدالنعیم خان ، سردار رضوان خادم ، سابق سٹی صدر سردار خالد محمود، سابق صدرحلقہ سردار یاسر اسحق،سردار شہزاد انور ایڈووکیٹ،سردار شاہد فاروق، و دیگر بھی موجود تھے.

ان رہنماؤں نے اعلان کیا کہ جے کے پی پی کے جن کارکنوں کے خلاف آیف آئی آر درج کی گئی ہے وہ قانون کا سامناکرنے کے لیے تیار ہیں اگرانہیں گرفتار کیا گیا تو وہ قانونی راستہ اختیار کریں گے. کوئی بھی کارکن عبوری ضمانت نہیں کروائے گا.

راولاکوٹ کے پر امن حالات کو خراب کرنے کے پیچھے ایک بڑی سازش کارفرما ہے،انتظامیہ حکومتی ایماء پر کٹھ پتلی کا کردارادا کر رہی ہے، صدر ریاست اور وزیر اعظم جنہوں نے نظریہ الحاق پاکستان اور قرداد الحاق پاکستان کے حوالے سے حلف اٹھا رکھا ہے انہوں نے اس قرداد کا تحفظ کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کروا کر اس قرداد اور آئین 1974کو نظر آتش کرنے اور کاپیوں کو پاﺅں تلے روندھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی ہے.

ان رہنماوں نے کہا کہ 1947میں غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی طویل جدوجہد کے بعد یہ خطہ آزاد ہوا اور یہاں کے لوگوں کو ووٹ کا حق ملا، جس پر 1970میں عملدرآمد ہوا، مگر آج اسی قیادت کو سر عام گالیاں دی جار ہی ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے،انتظامیہ نے الحاق پاکستان کے نظریے کی مخالفت کرنے والوں کے دباو میں آ کر ان لوگوں کے خلاف مقدمات درج کروائے جو قرداد الحاق پاکستان اور نظریہ الحاق پاکستان کے نہ صرف محافظ ہیں بلکہ اس کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں.

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو اصل میں ان پانچ ججز کی فراغت کا دکھ ہے جو غیر آئینی اور غیر قانونی طورپر صدر ریاست ،وزیراعظم اس وقت کے چیف جسٹس بندر بانٹ کے طور پر لگائے تھے، انہوں نے کہا کہ سردار خالد ابراہیم خان نے اس سے قبل 1992میں بدوں پی ایس سی 486مسلم کانفرنس کے جیالوں کو تعینات کرنے کے حوالے سے آواز اٹھائی تھی ان کا موقف تھا کہ سیاسی وابستگی وبرداری ازم کے بجائے صرف اور صرف اہلیت پر ملازمتیں دی جائیں تاکہ غریب باپ کا بیٹا بھی اپنی اہلیت پر سرکاری ملازمت حاصل کر سکے.

پانچ ججز کی تعیناتی پر سردار خالد ابراہیم خان نے اسمبلی فورم پر یہ آواز اٹھائی تھی کہ اعلی عدالتوں میں ججز کی تعیناتیاں خالصتا میرٹ پر کی جائیں اس پر اس وقت کے چیف جسٹس سپریم کورٹ نے انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کرکے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا بالا آخر اسی سپریم کورٹ نے اس حوالے سے ایک تاریخی فیصلہ دے کر سردار خالد ابراہیم خان کے موقف کی تائید کی اور اس خطہ میں عدلیہ کا وقار بحال کیا.

اس موقع پر سابق ضلعی صدر سردار سیاب شریف نے بتایا کہ 19جولائی کو یو این او کے دفاتر میں جا کر یاداشت پیش کرنے کے حوالے سے انتظامیہ سے باقاعدہ منظور ی لی گی تھی، اور انتظامیہ سے مکمل رابطہ تھا مگر انتظامیہ اور پولیس نے جے کے پی پی کے جلوس اس روٹ پر لے جایاگیا جہاں حسین شہید کالج کے باہر این ایس ایف کے نوجوان پہلے سے مسلح حالت میں بیٹھے ہوئے تھے ان کے پاس اسلحہ ،ڈھنڈے اور چھریاں تھیں. جب ریلی وہاں سے گزری تو انہوں نے اشتعال پیدا کرنے کے لیے غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کے خلاف نازیبا نعرہ بازی کی ، انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی حالانکہ انتظامیہ کو پتہ تھا کہ تصادم ہو گا لیکن انہوں نے متبادل روٹ کا استعمال نہیں کیا اور جان بوجھ کر حالت خراب کیے گئے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ 19 جولائی کو راولاکوٹ میں‌جموں‌کشمیر پیپلزپارٹی اور ایک قوم پرست تنظیم کے کارکنوں‌کے مابین تصادم ہوا تھا. قوم پرست تنظیموں‌کے کارکنوں‌نے دو روز تک راولاکوٹ میں‌ایف آئی آر کے اندراج کےلئے احتجاجی دھرنا دے رکھا تھا. مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ حملہ آور کارکنان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے. جمعرات کی شب مقدمہ درج ہونے کے بعد انہوں‌نے احتجاجی دھرنا ختم کیا.

‌جموں‌کشمیر پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے بھی دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کئے تھے. جبکہ انتظامیہ کی طرف سے بھی مذاکرات کئے گئے. شرکاء دھرنا کا کہنا ہے کہ جموں‌کشمیر پیپلزپارٹی کے رہنماؤں‌نے کہا کہ پارٹی صدر و ممبر اسمبلی سردار حسن ابراہیم کا نام درخواست سے نکال دیا جائے تو باقی کارکنان کے خلاف مقدمہ درج کرنے پر انہیں‌کوئی اعتراض نہیں‌ہے. انکا یہ بھی کہنا تھا کہ انتظامیہ کے افسران نے بھی شرکاء دھرنا کے سامنے یہی شرط رکھی تھی. شرکاء دھرنا کا کہنا تھا کہ ہم اپنی درخواست پر قائم تھے. کیونکہ مذکورہ جلوس کی قیادت حسن ابراہیم ہی کر رہے تھے. ہم نے اسی حد تک درخواست میں‌انکا نام لکھا تھا. شرکاء دھرنا کا یہ بھی کہنا تھا کہ جموں‌کشمیر پیپلزپارٹی کی قیادت کی رضامندی سے ہی مقدمہ درج کیا گیا. حکومت کی طرف سے ہمارے ساتھ کسی نے مذاکرات نہیں‌کئے.