قوم پرست تنظیموں کا احتجاجی دھرنا، جموں کشمیر پیپلزپارٹی کے 17کارکنوں کے خلاف مقدمہ درج

قوم پرست جماعت نیشنل عوامی پارٹی کے ایک مقامی گروپ کی سیاسی ریلی پر حملہ کر کے کارکنان کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں جموں کشمیر پیپلزپارٹی کے سترہ کارکنان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ اس حملے کے خلاف قوم پرست جماعتوں کے زیر اہتمام بنائی گئی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام گزشتہ دو روز سے احتجاجی دھرنا جاری تھا۔ احتجاجی دھرنے کے شرکاء19جولائی2020ءکو یوم قرارداد الحاق پاکستان کے موقع پر قرارداد مخالف احتجاجی ریلی کے شرکاءپر جموں کشمیر پیپلزپارٹی کے کارکنان کے حملہ اور تشدد کے ذمہ داران کے خلاف مقدمہ کے اندراج کا مطالبہ کر رہے تھے۔

جمعرات کے روز جموں کشمیر پیپلزپارٹی کی قیادت کی مداخلت کے بعد انتظامیہ نے قوم پرست تنظیموں کا مطالبہ منظور کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کر لی ، جس کے بعد قوم پرست تنظیموں نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ مقررین نے اس توقع کا اظہار کیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اب ایف آئی آر کے تحت قانونی کارروائی کرینگے۔

جمعرات کی شب رات گئے درج کی گئی ایف آئی آر علت نمبر611/20زیر دفعات 337A/147، APC 148/149میں جموں کشمیر پیپلزپارٹی کے سترہ کارکنان کو نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مندرجات کے مطابق درخواست گزارتوصیف خالق اور دیگر کا موقف ہے کہ نیشنل عوامی پارٹی ، این وائے ایف اور این ایس ایف کے زیر اہتمام قرارداد الحاق پاکستان، معاہدہ کراچی اور ایکٹ74ءکے خلاف ریلی کا انعقاد کیا جا رہا تھا۔ دن ساڑھے بارہ بجے ممبر قانون ساز اسمبلی و صدر جموں کشمیر پیپلزپارٹی حسن ابراہیم ولد محمد خالد ابراہیم کے زیر قیادت جموں کشمیرپیپلزپارٹی کا جلوس گاڑیوں سے کالج گراﺅنڈ کے سامنے سے گزر رہا تھا۔ جلوس کے شرکاءنے گاڑیاں کالج گیٹ کے سامنے کھڑی کیں اور ایک منصوبہ بندی کے تحت ریوالور، لاٹھیاں ، ڈنڈے، چھریاں، کلپ، مکے اور دیگر آہنی ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ ایف آئی آر کے مطابق درخواست گزاروں کا الزام ہے کہ حملہ آور پارٹی کی سربراہی سیاب شریف ولد محمد شریف سکنہ ہورنہ میرہ کر رہے تھے۔ نوید حیات ولد محمد حیات سکنہ چہڑھ، شاہد فاروق ولد محمد فاروق سکنہ کھڑک، خالد محمود ولد محمد صدیق سکنہ متیالمیرہ، رضوان خادم ولد محمد خادم سکنہ گرین ٹاﺅن، زاہد اختر ولد محمد اختر سکنہ راولاکوٹ، حماد یوسف ولد محمد یوسف محلہ گرین ٹاﺅن، جمال رحیم ولد محمد رحیم سکنہ راولاکوٹ، بلال شکیل ولد محمد شکیل سکنہ راولاکوٹ، اعتزاز امتیاز ولد محمد امتیاز سکنہ پاچھیوٹ حال گرین ٹاﺅن، وقاص انور ولد محمد انور سکنہ سپلائی بازار راولاکوٹ، مصطفی حیات ولد محمد حیات سکنہ انیاری، فہد رحیم ولد محمد رحیم اور دیگر پچاس سے زائد نامعلوم افراد نے ڈنڈے اور لاٹھیاں اٹھا رکھی تھیںجبکہ ظہوراز اکرم نے خنجر اٹھا رکھا تھا۔ شاہد اختر ولد محمد اختر سکنہ چہڑھ، شہزاد انور ولد محمد انور سکنہ راولاکوٹ اور یاسر اسحاق ولد محمد اسحاق سکنہ پاچھیوٹ نے ریوالور اٹھا رکھے تھے۔درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ ملزمان کے تشدد کے باعث ان کے درجن سے زائد کارکنان شدید زخمی ہوئے۔ مقدمہ کی تفتیش ایڈیشنل ایس ایچ او امجد حسین کے سپرد کی گئی ہے۔

ایف آئی آر کی نقل شرکاءدھرنا کو فراہم کی گئی جس کے بعد اختتامی جلسہ منعقد کرتے ہوئے احتجاجی دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تاہم قانون کے مطابق کارروائی نہ ہونے کی صورت دوبارہ احتجاج کرنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔

قبل ازیں شرکاءدھرنا کے ساتھ مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے کارکنان نے اظہار یکجہتی کیا۔ بائیس جولائی کو دن بارہ بجے احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا تھا۔ جس کے بعد کچہری چوک میں غیر معینہ مدت تک کےلئے احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ احتجاجی دھرنا جمعرات کی شب گیارہ بجے تک مسلسل جاری رکھا گیا۔ شاہراہ عام پر دھرنے کی وجہ سے اندرون شہر ٹریفک کا سلسلہ مکمل طور پر بند رہا۔ مسافر بائی پاس شاہرات کا استعمال کرتے رہے۔ شہر کے تین مرکزی حصوں میں ٹریفک کا سلسلہ مکمل طور پر بند رہا۔