راولاکوٹ: مکان پر قبضہ کےلئے 7خواتین کا آہنی ہتھیاروں سے حملہ، 4خواتین گرفتار،مقدمہ درج

راولاکوٹ کے نواحی گاﺅں تراڑ میں مکان پر قبضہ کےلئے آہنی ہتھیاروں سے حملہ کر کے خاتون کو بیٹے اور بیٹی سمیت زخمی کرنے کے الزام میں6خواتین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ جبکہ پولیس نے چار ملزمان کو گرفتار کرتے ہوئے آلہ جات مضروبی ضبط کر لئے ہیں۔ مقدمہ میں مطلوب دیگر تین خواتین نے عبوری ضمانتیں کروا لی ہیں۔ مقدمہ میں مطلوب ایک ملزمہ راولاکوٹ ڈسٹرکٹ بار کی سینئر وکیل ہیں۔

ماڈل پولیس اسٹیشن راولاکوٹ میں مضروبہ بیوہ کی مدعیت میں درج کی گئی ایف آئی آر نمبر 577/20 محررہ 16جولائی 2020ءزیر دفعات 148/149, 337F/147, 452/337A PC میں سائرہ کوثر زوجہ محمد کبیر قوم خواجہ سکنہ دریک(سینئر وکیل ڈسٹرکٹ بار راولاکوٹ)، سمعیہ کریم زوجہ عظمت رزاق سکنہ ٹائیں، شائستہ کریم زوجہ محمد سدھیر سکنہ چک دھمنی، ظہرہ کریم زوجہ محمد سلیم سکنہ چک دھمنی، شاہین کریم زوجہ محمد جاوید سکنہ منڈھول ہجیرہ، اشرف جان وجہ محمد طالب سکنہ دریک، اختر جان بیوہ محمد اکبر سکنہ اسلام گڑھ پلندری کو نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مندرجات کے مطابق ملزم خواتین نے سولہ جولائی کو بیوہ مصور اقبال کے گھر پر قبضہ کی خاطر آہنی ہتھیاروں سے لیس ہو کر حملہ کیا۔ مکان کی جالی کاٹ کر مکان میں داخل ہوئیں اور مار پیٹ شروع کر دی۔ تشدد کی وجہ سے بیوہ مصور اقبال ، انکا ایک بیٹا مبشر الحق اور دو بیٹیاں زخمی ہوئیں۔ اہل محلہ نے مداخلت کر کے حملہ آور خواتین کو روکا۔

بیوہ مصور اقبال کا کہنا ہے کہ انکے خاوند مصور اقبال کا انتقال ہو چکا ہے۔ مذکورہ خواتین خاوند کی بہنیں ہیں۔جو اپنی دو خالاﺅں کے ہمراہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت حملہ آور ہوئیں۔ یہ خواتین ہمارا مکان ہتھیانہ چاہتی ہیں۔ قبل ازیں عدالت کے ذریعے سے مکان حاصل کرنےکی کوشش کی گئی۔ جب فیصلہ ہمارے حق میں آیا تو انہوں نے قانون ہاتھ میں لیکر ہمیں جان سے مار کر مکان اور اراضی پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ انہوںنے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے انصاف کی مانگ کی ہے۔

چوکی پولیس راولاکوٹ کے ایک ذمہ دارنے مجادلہ کو بتایا کہ چار ملزم خواتین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جبکہ ان کے قبضہ سے ایک عدد ٹوکا، ایک عدد تیسہ اور دیگر آہنی ہتھیار برآمد کر لئے گئے ہیں۔ دیگر تین ملزم خواتین نے عبوری ضمانتیں کروا رکھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس جائے وقوعہ پر گئی تھی۔ جو جالی کاٹ کر خواتین مکان کے اندر داخل ہوئیں اور جو توڑ پھوڑ وغیرہ کے شواہد تھے ان کی تصاویر اور ریکارڈ جمع کیاگیا ہے۔ جس سے یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ ملزم خواتین نے گھر میں داخل ہو کر مسلح حملہ کیا اور مضروبین کو زخمی کیا۔

دوسری جانب ملزم خواتین کی جانب سے اس واقعہ کی تردید کی جا رہی ہے اور پولیس پر جانبداری کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ان کے وکیل راجہ اعجاز ایڈووکیٹ نے گفتگو کے دوران کہا کہ مستغیث پارٹی نے حکم امتناعی حاصل کر رکھا تھا۔ عدالت نے جب حکم امتناعی خارج کیا تو سائرہ نسیم ایڈووکیٹ اور انکی بہنیں مکان کا قبضہ حاصل کرنے کی غرض سے گئی تھیں لیکن انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پولیس کے ساتھ ساز باز کر کے انہی کے خلاف مقدمہ بھی درج کروا لیا گیا ہے۔ جو سراسر نا انصافی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کے مابین یہ معاملہ طویل عرصہ سے چلا آرہا ہے۔ مقدمہ میں شامل چار خواتین آپس میں بہنیں ہیں اور جس مکان پرقبضہ حاصل کرنا چاہتی ہیں وہ انکے مرحوم بھائی مصور اقبال کا ہے۔

انکے ایک قریبی رشتہ دار اسامہ علی نے گفتگو کے دوران کہا کہ مصور اقبال ایک سرکاری معلم تھے۔انکی چھ بہنیں ہیں جن کے وہ اکلوتے بھائی تھے۔ جب تک ان بہن بھائیوں کے والد حیات تھے تب تک سب کچھ درست تھا۔ تمام بہنوں کی شادیاں ہوئیں اور وہ اپنے اپنے گھروں میں بس گئیں۔ لیکن والد کی وفات کے بعد بہنیں والدہ کو اپنے ساتھ لے گئیں۔ اور جب والدہ کی وفات ہوئی تب بھی انکی میت آبائی گھر میں نہیں رکھی گئی بلکہ ایک بہن نے انکی میت اپنے گھر رکھی۔ اسامہ علی کا کہنا تھا کہ مصور اقبال کی وفات کے بعد بہنوں نے مکان پر قبضے اور اراضی ہتھیانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ ایک بہن کے وکیل ہونے کی وجہ سے عدالت نے وکلاءکا ایک کمیشن بھی قائم کیا تھا۔ جس کے ایک نمائندہ نے موقع ملاحظہ کیا اور اہل علاقہ کے بیانات قلمبند کئے، جس کے بعد مصور اقبال کی بیوہ اور بچوں کے حق میں فیصلہ دیا گیا تھا۔ تاہم اس کے بعد بھی قبضے کی کوششیں جاری تھیں جس کے بعد مصور اقبال کے بیٹے نے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر رکھا تھا۔ ایک عدالت سے حکم امتناعی خارج ہونے کے بعد دوسری عدالت نے حکم امتناعی جاری کیا لیکن اس کے باوجود حملہ کیاگیا اور بیوہ مصور اقبال اور انکے بچوں کو زخمی کیا گیا۔

تاہم ملزم خواتین کے وکیل اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ انکا کہنا ہے کہ والدین کی دیکھ بھال بیٹیوں نے ہی کی، اور مکان دو حصوں پر مشتمل ہے۔ مصور اقبال اپنے بیوی بچوں سمیت والدین کے حیات ہوتے ہیں الگ ہو چکے تھے۔ بہنیں ہی آبائی مکان میں والدین کے پاس باری باری رہتی رہی ہیں۔ والدین کی وفات کے بعد بھی کافی عرصہ آبائی مکان بہنوں کے ہی پاس رہا۔ تاہم بعد میں اس پر قبضہ کر لیا گیا۔جس کی بازیابی کےلئے سائرہ نسیم ایڈووکیٹ اور ان کی بہنیں تگ و دو کر رہی ہیں۔

ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولاکوٹ کے صدر سردار صابر کشمیری نے اس معاملہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ کیس کی مکمل تفصیلات تو میرے پاس نہیں ہیں، البتہ وکلاءکی جانب سے بطور کمیشن امیر حمزہ ایڈووکیٹ کو نامزد کیا گیا تھا۔ کمیشن رپورٹ کے مطابق بھی مکان کے کچھ حصہ پر سائرہ نسیم ایڈووکیٹ اور انکی بہنوں کے رہائش پذیر ہونے کی بابت بات کی گئی تھی۔ تاہم انہوں نے یہ کہا کہ ان کے پاس مکمل معلومات نہیں ہے۔ دوسری جانب بیوہ مصور اقبال کا موقف ہے کہ وکلاءکے کمیشن نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔

اس سلسلہ میں امیر حمزہ ایڈووکیٹ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم باوجوہ ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔

تاہم اسامہ علی نے گفتگو کے دوران کہا کہ ایک خاتون اپنے وکیل ہونے کا سہارا لیکر اپنی بہنوں کے ساتھ مل کر بے سہارہ بیوہ خاتون کو بچوں سمیت اپنے گھر سے بے دخل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ سولہ جولائی کو ظلم و بربریت کی داستان رقم کی گئی ہے۔ چھریاں، ٹوکے اورکلہاڑیاں لیکر حملہ کیا گیا تھا اگر اہل محلہ موقع پر نہ پہنچتے تو انہوں نے بیوہ مصور اقبال کو جان سے مار دینا تھا۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کی کہ وہ ملزماﺅں کے خلاف سخت کارروائی کریں اور جرائم پیشہ وکیل کا لائسنس منسوخ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ماضی میں مذکورہ ملزمہ خاتون وکیل کے سسرال میں ایک قریبی رشتہ دار نے بار کونسل کو لائسنس منسوخ کرنے کےلئے درخواست دے رکھی ہے۔ اپنے آبائی علاقہ دریک میں بھی مذکورہ ملزمہ خاتون وکیل نے لوگوں کو تنگ کر رکھا ہے۔ انکاکہنا تھا کہ ملزم خواتین اب کہتی ہیں کہ وہ اپنی والدہ کی قبرپر جا رہی تھیں تو ان پر تشدد کیا گیا اور مقدمہ بھی درج کروایا گیا۔ لیکن انہوں نے منصوبہ بندی کہ تحت یہ حملہ کیا ہے۔ انکے قبضے سے ہتھیار بھی برآمد ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹائیں،منڈھول، چک دھمنی اور دریک کے علاقوں سے ایک منصوبہ کے تحت تمام خواتین جمع ہوئیں اور انہوں نے قاتلانہ حملہ کیا ہے۔ غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعدان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ معصوم بچوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات کا تدارک ہو سکے۔