پاکستانی کشمیر: سپیکر اسمبلی کے بیٹے نے صحافیوں کو بھارتی ایجنڈے پر عمل پیرا قرار دیکر مقدمہ درج کروا لیا

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے ممبر قانون ساز اسمبلی اسد علیم شاہ کی درخواست پر دو صحافیوں اور ایک سیاسی کارکن کے خلاف سائبر کرائم اور جعل سازی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ جبکہ محکمہ جنگلات نے اراضی لیز پر لئے جانے کی خط و کتابت کی بابت ایک انکوائری کمیٹی قائم کر لی ہے۔ ایف آئی آر میں نامزد صحافیوں اور سیاسی کارکن کے بھارتی ایجنڈے کی تکمیل میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے اوراراضی کی لیز کےلئے درخواستوں اور خط و کتابت کو بھی بھارتی سازش قرار دیا گیا ہے اوربورڈ آف ریونیو اور محکمہ جنگلات کے اہلکاران کے خلاف بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ممبر اسمبلی اسد علیم شاہ، جو سپیکر قانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر کے صاحبزادے ہیں، کی درخواست پر ایف آئی آر علت نمبر219/020 مورخہ 17جولائی 2020ء، زیر دفعات419/420, 469/471, 500/489 (y) APC درج کی گئی ہے۔ ایف آئی آر میں دو صحافیوں عثمان طارق چغتائی ، حیات اعوان اور خواجہ عتیق کو نامزد کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے متن میں اسد علیم شاہ کی طرف سے لکھا گیا ہے کہ سولہ جولائی کو سوشل میڈیا پر ایک درخواست اور مکتوب ،جو اسی درخواست کی روشنی میں ناظم اعلیٰ جنگلات کو لکھا گیا تھا، پھیلایا گیا ۔ مذکورہ درخواست میں راقم کی جانب سے زمین کی الاٹمنٹ کے بارے میں لکھا گیا تھا اور بذریعہ معاون خصوصی سپیکر قانون ساز اسمبلی درخواست تحریر کی گئی تھی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپیکر اسمبلی (شاہ غلام قادر) 1990سے تحریک آزادی کشمیر میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اندرون و بیرون ملک بھارتی افواج کے کشمیری عوا م پر مظالم کو اجاگر کرنے میں انکا کلیدی کردار ہے۔ اس لئے یہ پہلو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس اہم کردار پر بھارتی ایجنسیوں کی ہو سکتی ہے اور اس سازش کے پیچھے بھی یہی عناصر کار فرما ہو سکتے ہیں۔درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ درخواست جعلی اور فرض ہے ، اس درخواست کے ساتھ کوئی شناختی کارڈ شامل نہ ہے، درخواست گزار کا نام بھی درست نہیں لکھا گیا۔ میرا نام اسد علیم شاہ ہے جبکہ اس درخواست پر سید اسد علیم شاہ لکھا ہے۔ درخواسست معاون خصوصی برائے سپیکر اسمبلی کے ذریعے دی گئی ہے، ایسی درخواست وزیراعظم کے نام دی جاتی ہے جبکہ یہ درخواست جناب سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کے نام دی گئی ہے۔ درخواست پر دیا گیا موبائل نمبر بھی کسی اور کا ہے۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس جعلی کارروائی میں سازشی عناصر کارفرما ہیں جو میری اور والد کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں اور خدشہ ہے کہ بھارتی افواج کے سیاہ کارناموں کو اجاگر کرنے کی پاداش میں بیرونی اشاروں پر کام کر رہے ہیں۔ اس بارے میں بھی تحقیقات کی جائیں۔ سینئرممبر بورڈ آف ریونیو اور محکمہ جنگلات کے دفتر کے اہلکاران بھی اس سازش میں مبینہ طور پر شامل ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ شناختی کارڈ کے بغیر زمین کی الاٹمنٹ کی درخواست کو وصول کیا گیا اور ممبر اسمبلی کی جانب سے دی گئی درخواست پر تصدیق کے بغیر کارروائی عمل میں لائی گئی۔ اس لئے ان کے خلاف بھی تحقیقات کی جائیں اور جعلی کارروائی کو تیار کرنے اور پھر اسکو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے پر ان تین اشخاص کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔

تحقیقات کےلئے انکوائری کمیٹی کا قیام
رواں ماہ سترہ جولائی کو ہی پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے سیکرٹری جنگلات نے ایک حکم زیر نمبرس۔ج/4970-73/2020 جاری کرتے ہوئے اراضی کی لیز کےلئے دی گئی درخواست اور اس پر ہونے والی خط و کتابت کی بابت انکوائری کا حکم دیتے ہوئے پانچ ایام کے اندر رپورٹ طلب کی ہے۔

سیکشن آفیسر جنگلات و اکلاس فرخ ندیم تمنا کے دستخط سے جاری حکم میں لکھا گیا ہے کہ اسد علیم شاہ معزز ممبر قانون ساز اسمبلی کی جانب سے سیکرٹریٹ کی علمیت میں لایا گیا ہے کہ موصوف کا نام استعمال کرتے ہوئے ضلع نیلم میں زمین کی بطور لیز الاٹمنٹ کی بابت جعلی و فرضی درخواست سیکرٹریٹ جنگلات میں دی گئی ہے۔ لہٰذا متذکرہ درخواست وصول کرنے والے اور Proceedکرنے والے اہلکاران کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

سیکرٹری جنگلات و اکلاس نے مبینہ جعلی و فرضی درخواست بابت الاٹمنٹ رقبہ برائے سیاحتی مقاصد کی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری عمل میں لانے کی بابت ایڈیشنل سیکرٹری جنگلات و اکلاس کو انکوائری آفیسر مقرر کیا ہے۔ انکوائری آفیسر سیکرٹریٹ جنگلات میں Receipt and Dispatchکرنے والے اہلکاران سے درخواست دہندہ کی معلومات، درخواست وصول کرنے کی تاریخ اور وقت اور ذمہ داران کا تعین کرنے کی بابت انکوائری عمل میں لاتے ہوئے جامع سفارشات معہ رپورٹ اندر پانچ ایام پیش کرنے کے پابند ہونگے۔

سوشل میڈیاپر وائرل ہونیوالی درخواستیں وخط و کتابت
رواں ماہ سولہ جولائی کو ممبر اسمبلی کی جانب سے درج کروائی گئی ایف آئی آر میں نامزد صحافیوں کی جانب سے دو درخواستیں اور سیکشن آفیسر جنگلات و اکلاس فرخ ندیم تمنا کے دستخط سے ناظم جنگلات کو لکھا جانیوالا خط سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہوئے انکشاف کیاتھا کہ ممبر اسمبلی اسد علیم شاہ اپنے والد سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر کے حلقہ انتخاب ضلع نیلم کے سیاحتی مقامات کی قیمتی اراضی لیزپر حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ایک درخواست سیکرٹری جنگلات کے نام 14مئی2020ءکو لکھی گئی ہے، جس میں ممبر قانون ساز اسمبلی سید اسد علیم شاہدرخواست گزار ہیں اور درخواست بذریعہ معاون خصوصی ہمراہ سپیکر قانون ساز اسمبلی جمع کروائی گئی ہے۔

مذکورہ درخواست کے متن میں لکھا گیا ہے کہ راقم ممبر قانون ساز اسمبلی ہے اور راقم کے والد سپیکر قانون ساز اسمبلی ہیں، جنکا حلقہ انتخاب ضلع نیلم ہے۔ نیلم ویلی قدرتی حسن کی وجہ سے سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ جن سے استفادہ کر کے وسیع پیمانے پر نیلم کے لوگوں کےلئے نجی شعبے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت آزادکشمیر(پاکستانی زیر انتظام کشمیر) کے ریونیو میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ راقم کے ملک اور بین الاقوامی سطح کے سرمایہ کاروں کے ساتھ روابط ہیں جو آزادکشمیر(پاکستانی زیر انتظام کشمیر) بالخصوص نیلم میں سیاحتی شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں، کے ساتھ پارٹنرشپ کے ذریعے نیلم میں موجود سفید رقبہ جات کو سیاحتی مقاصد کی خاطر لیز پر حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ سیاحت سے متعلق انفراسٹرکچر قائم کر کے ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کو متوجہ کیا جا سکے۔

درخواست میں بابون ویلی سے اراضی تعدادی200کنال، رقبہ پتلیاں سے اراضی تعدادی 150کنال اور رتی گلی جھیل کے مقام پر اراضی تعدادی 150کنال الاٹ کئے جانے کی تجویز کی گئی۔ رقبہ جات کم از کم ننانوے سال کی لیزپر دیئے جانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

منظر عام پر آنے والی دوسری درخواست سینئرممبر بورڈ آف ریونیو کو لکھی گئی۔ یہ درخواست 18مئی 2020ءکو بورڈ آف ریونیو میں وصول کر کے نمبر لگایا گیا۔ جبکہ 19مئی2020کو کئے گئے ایک دستخط بھی مذکورہ درخواست پر موجود ہیں جن کی بابت یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ دستخط کس آفیسر کی جانب سے کئے گئے۔

سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو دی گئی درخواست کا متن اور درخواست گزاربذریعہ بھی سیکرٹری جنگلات کو لکھی گئی درخواست سے مماثلت رکھتا ہے۔ دونوں درخواستوں پر موبائل نمبر بھی ایک ہی لکھا گیا ہے۔ تاہم سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو دی گئی درخواست میں کیل شونٹھر، ہلمت، تاو بٹ، پھولاوئی، سرگن نوری ناڑ کے رقبہ جات ننانوے سال کی لیز پر دیئے جانے کی مانگ کی گئی ہے۔ تاہم کتنے کنال رقبہ الاٹ کیا جائے اس بابت درخواست میں کچھ نہیں لکھا گیا۔

سوشل میڈیاپر جاری ہونے والا تیسرامکتوب سیکرٹریٹ جنگلات کی جانب سے لکھا گیا ہے۔ مذکورہ خط پر سیکشن آفیسر فرخ ندیم تمنا نے دستخط کر رکھے ہیں، جبکہ انکوائری آفیسر کی تعیناتی کےلئے جاری ہونے والے سیکرٹری جنگلات کے حکم پر بھی سیکشن آفیسر فرخ ندیم تمنا کے ہی دستخط موجود ہیں۔

مذکورہ مکتوب یکم جون 2020ءکو ناظم اعلیٰ جنگلات کو لکھا گیا تھا۔مکتوب نمبر س۔ج/3915-16/2020 میں تحریر کیا گیا ہے کہ ممبر اسمبلی کی جانب سے موصولہ درخواست زیر نمبر1609مورخہ18مئی2020ءکی عکسی نقل ارسال کرتے ہوئے تحریر ہے کہ مطابق مروجہ قواعد و ضوابط مطلوبہ کارروائی ضابطہ عمل میں لاتے ہوئے سیکرٹریٹ کو رپورٹ ارسال کی جائے۔ مذکورہ مکتوب کی ایک نقل سیکرٹری جنگلات کو بھی ارسال کی گئی ہے۔

جعلی درخواستیں منظر عام پر لانے والے ملزم کیوں۔۔؟
ممبر اسمبلی سید اسد علیم شاہ اور انکے والد سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر کی جانب سے اراضی کی الاٹمنٹ کےلئے لکھی گئی درخواستوں کو نہ صرف جعلی قرار دیا ہے۔ بلکہ منظر عام پر لانے والے صحافیوں کے خلاف مقدمہ کی دھمکی بھی دے رکھی تھی۔اب جبکہ ممبر اسمبلی کی درخواست پر محکمہ جنگلات نے انکوائری قائم کر لی ہے تو اس کے بعد صحافیوں کے خلاف مقدمہ قائم کئے جانے کے عمل کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مختلف سوشل میڈیا صارفین سوال کر رہے ہیں کہ اگر درخواستیں جعلی تھیں تو ان کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کو انعام دیا جانا چاہیے۔ جس طرح کا مقدمہ درج کیا گیا ہے اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اندرون خانہ باپ بیٹا قیمتی اراضی الاٹ کروانا چاہتے تھے، خفیہ کارروائی کا پردہ چاک کرنے پر انہیں شدید صدمہ ہوا ہے اوروہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔

نیلم سے ہی تعلق رکھنے والے معروف صحافی جلال الدین مغل نے نہ صرف مقدمہ درج کئے جانے کے عمل پر سپیکر اسمبلی اور انکے بیٹے ممبر اسمبلی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے بلکہ سائبر کرائم قوانین کو بھی متنازعہ قرار دیتے ہوئے اس طرح کے قوانین کو صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف ایک ہتھیار قرار دیا ہے۔

مظفرآباد میں ہی نجی ٹی وی سے منسلک صحافی نعیم چغتائی نے صحافیوں کے خلاف اس طرح کی کارروائی کی شدید مذمت کی ہے اور فی الفور مقدمہ واپس لئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو بھارتی ایجنٹ قرار دینے پر ممبر اسمبلی اسد علیم شاہ کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ سیاحتی مقامات پر زمینیں الاٹ کرنے کی کوشش کرنے والے حکمران خود کو تحریک آزادی کا چمپئن قرار دے رہے ہیں۔ کرپشن کو منظر عام پر لانے کے عمل کو بھارتی ایجنڈے کی تکمیل قرار دیئے جانے سے یہ بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ تحریک آزادی بھی اس طرح کے عناصر کےلئے ایک کاروبار ہے۔ جس کے ذریعے سے یہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرتے ہیں۔

سائبر کرائم قوانین کے تحت مقدمات کیوں؟
پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں گزشتہ کچھ عرصہ سے سائبر کرائم ایکٹ کے تحت نافظ کئے جانے والے قوانین کا تواتر کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ عرصہ میں سائبر کرائم قوانین کے تحت چھ سے زائدمقدمات درج کر لئے گئے ہیں۔ لیکن کچھ اضلاع میں سوشل میڈیا پرسرگرمیوں کے خلاف دی گئی درخواستوں پر تاحال سائبر کرائم ایکٹ کے تحت نافذ قوانین کا اطلاق نہیں کیا جا رہا ہے۔

جہاں سائبر کرائم قوانین کو صحافی اور سیاسی کارکنان تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہاں قانون پر نظر رکھنے والے افراد سائبر کرائم قوانین کے تحت مقدمات کو درست اور قانونی تسلیم نہیں کرتے۔ صحافیوں اور سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ مذکورہ قوانین آزادی اظہار رائے پرپابندی لگانے اور حکمرانوں کی کرپشن اور لوٹ مار پرتنقید کا راستہ روکنے کےلئے استعمال کئے جا رہے ہیں۔

جبکہ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میںتجویز کردہ سائبر کرائم ایکٹ کو پاکستانی زیرانتظام کشمیر کی حکومت نے نقل کر کے یہاں نافذ کر دیا ہے۔ جبکہ پاکستان میں مذکورہ مجوزہ سائبر کرائم ایکٹ کو کافی ساری تبدیلیوں کے ساتھ نافذ کیا گیا ہے۔ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں تجویز کردہ ایکٹ کو ہی نقل کر دیا گیا جس میں بہت سارے ایشوز ایڈرس کئے جانے ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ سائبر کرائم ایکٹ کو نافذ کرنے سے حکمرانوں کی ذمہ داری پوری نہیں ہو جاتی بلکہ سائبر کرائم اور انسداد منشیات کے قوانین کے نفاذ کے بعد تحقیقی اور تفتیشی اداروں کا تعین کیا جانا اور مقدمات کی سماعت کےلئے انسداد منشیات اور سائبر کرائم عدالتوں کا قیام ضروری ہے۔ جس کے بعد ان قوانین پر عملدرآمد کروایا جا سکا ہے۔

جن اضلاع میں سائبر کرائم قوانین کو مقدمات میں استعمال نہیں کیا جا رہاہے ان اضلاع سے ایک پولیس آفیسر کا کہنا ہے کہ سائبر کرائم قوانین میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ سائبر کرائم کی تحقیقات کےلئے ادارے کا قیام اور وفاقی تحقیقاتی اداروں کے ساتھ معاہدہ جات کے بعد ہی یہ قوانین لاگو ہونگے۔ ابھی تک کسی تحقیقاتی ادارے کا تعین نہیں ہوا اور نہ ہی سائبر کرائم کی سماعت کےلئے کوئی عدالت متعین کی گئی ہے۔ پھر سائبر کرائم کی تصدیق کےلئے فرانزک انوسٹی گیشن سمیت پی ٹی اے، ایف آئی اے اور وفاقی تحقیقاتی اداروں کے ساتھ معاہدہ جات کا ہونا ضروری ہے۔ جس کے بعد ہی یہ قوانین یہاں پر کارآمد ہو سکتے ہیں۔