عدالت العالیہ میں تعینات 5 ججز کی تقرری 2 سال بعد کالعدم قرار،کیا صدر نے جعلی بیان حلفی داخل کروایا…؟

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کی عدالت عظمیٰ نے عدالت العالیہ میں‌تعینات پانچ ججز کی تقرری کالعدم قرار دیدی ہے.

جمعہ کے روز سنائے جانے والے 137 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ میں‌قائمقام چیف جسٹس عدالت عظمیٰ جسٹس سعید اکرم اور جسٹس مصطفی مغل نے رضا علی خان، راجہ سجاد، خالد یوسف، سردار اعجاز اور چوہدری منیر کی تقرریاں‌کالعدم قرار دیں. اور خالی آسامیوں‌پر آئین اور قانون کی روح‌کے مطابق از سر نو تقرریاں‌کئے جانے کا حکم صادر کیا ہے.

فیصلہ کے مطابق چوہدری منیر واپس ماتحت عدلیہ میں بطور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ‌اپنے فرائض سرانجام دینگے. چوہدری منیر کی تقرری عدالت عالیہ نے بھی کالعدم قرار دی تھی. جس کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ میں‌اپیل کر رکھی تھی. تاہم ان سے متعلق عدالت العالیہ کا فیصلہ برقراررکھا گیا.

یہ ججز دو سال تین ماہ تک عدالت العالیہ کے ججز کے طورپر فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں.

پٹیشنرز کی جانب سے فیاض جنجوعہ ایڈووکیٹ، سردار شمشاد حسین ایڈووکیٹ، بیرسٹر ہمایوں‌نواز، شاہد بہار اور بیرسٹر عدنان نواز پیش ہوئے. جبکہ ججز کی جانب سے راجہ حنیف ایڈووکیٹ، راجہ ابرار صالح ایڈووکیٹ، سردار طاہر انور ایڈووکیٹ، شوکت عزیز ایڈووکیٹ اور بشیر مغل ایڈووکیٹ نے کیس کی پیروی کی.

عدالت العالیہ میں‌ججز کی تقرری مئی 2018ء میں کی گئی تھی. مذکورہ تقرری کو وکلاء‌نے عدالت العالیہ میں‌چیلنج کر دیا تھا. جبکہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ و ممبر اسمبلی سردار خالد ابراہیم خان (مرحوم) نے مذکورہ تقرریوں‌کے خلاف احتجاج کیا تھا جس کی وجہ سے ان کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ بھی قائم کیا گیا تھا، تاہم مذکورہ مقدمہ کی سماعت سے قبل ہی سردار خالد ابراہیم خان کی وفات ہو گئی تھی جس کی وجہ سے عدالت عظمیٰ نے مذکورہ مقدمہ کو خارج کر دیا تھا.

23مئی2018ء کو چیف جسٹس عدالت العالیہ (وقت) محمد آفتاب تبسم علوی نے پانچوں ججز سے ان کے عہدے کا حلف لیا تھا. تاہم چار وکلاء کی جانب سے مذکورہ ججز کی تقرری کا نوٹیفکیشن عدالت العالیہ میں‌چیلنج کر دیا تھا تھا. اکتوبر2019ء میں‌عدالت العالیہ نے چار ججز کی تقرری کو درست قرار دیا تھا جبکہ چوہدری منیر کا تجربہ کم ہونے کی بناء پر انکی تقرری کالعدم قرار دے دی تھی.

عدالت العالیہ کے اس فیصلہ کو عدالت عظمیٰ میں‌وکلاء کی طرف سے چیلنج کر دیا گیا تھا.

واضح رہے کہ پاکستانی زیر انتظام جموں‌ کشمیر کے عبوری آئین ایکٹ 74ئ کے تحت ہائی کورٹ کے جج کی تقرری پاکستانی زیر انتظام کشمیر کا صدر کرتا ہے. لیکن اس تقرری کےلئے عدالت عظمیٰ اور عدالت العالیہ کے چیف جسٹس صاحبان سے مشاورت کے بعد کشمیر کونسل کی جانب سے تجویز بھیجی جانی لازمی ہوتی ہے.

درخواست گزار وکلاء کا موقف تھا کہ خالی آسامیوں‌پر تقرری کےلئے دونوں چیف جسٹس صاحبان کی جانب سے مشاورت کے بعدنام تجویز کر رکھے تھے جنہیں‌صدر کی جانب سے کشمیر کونسل کو بھیجا جانا تھا. لیکن صدر ریاست نے پانچ ایسے لوگوں‌کے نام کونسل کو ارسال کئے جو مذکورہ تجویزمیں‌شامل نہیں‌تھے. مذکورہ سمری آئینی شق کے مطابق نہ ہونے کیوجہ سے واپس کر دی گئی تھی.

وکلاء کا موقف تھا کہ صدر نے دوسرے مرحلہ میں‌خصوصی طور پر دس سے زائد نام کونسل کو ارسال کئے جس کی دونوں‌چیف جسٹس سے مشاورت اور تجویز نہیں‌لی گئی تھی. جبکہ صدر کی خط و کتابت کی وجہ سے گمراہ ہونے کے باعث کونسل نے غلط فہمی میں‌غیر قانونی تجویز جاری کی. وکلاء کے مطابق تقرر کئے گئے ججز کے نام دونوں‌چیف جسٹس صاحبان کے تجویز کردہ نہیں‌تھے.

اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ محمد منیر ہائی کورٹ میں ترقی سے قبل 2 سال تک ڈسٹرکٹ جج رہ چکے ہیں لہٰذا وہ قانونی ضروریات پر پورا نہیں اترتے تھے۔

عدالت عظمیٰ نے وکلاء کو موقف کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے فیصلہ میں‌یہ کہا کہ ججز کی تقرری کےلئے آئینی طریقہ کار اختیار نہیں‌کیا گیا. لہٰذا تمام تقرریاں‌کالعدم قرار دی جاتی ہیں. تاہم چوہدری منیر اپنی سابق جائے تعیناتی (بطور ڈسٹرکٹ و سیشن جج) اپنی خدمات سرانجام دینگے. عدالت عظمیٰ نے یہ حکم بھی دیا کہ ججز کی تقرریاں‌کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد خالی ہونے والی ججز کی آسامیوں‌پر آئین و قانون کی روح‌کے مطابق تقرریاں‌کی جائیں.

عدالت عظمیٰ‌کا فیصلہ سوشل میڈیاپر کافی وائرل ہو رہا ہے. ایک جانب سردار خالد ابراہیم خان کی سیاسی جماعت کے کارکنان اسے حق اور سچ کی فتح‌قرار دے رہے ہیں. بلکہ خالد ابراہیم خان کو اصولی موقف پر ڈٹ جانے پر خراج تحسین بھی پیش کیا جا رہا ہے. دیگر سیاسی جماعتوں‌کے رہنماؤں اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے صارفین نے بھی خالد ابراہیم خان کو میرٹ کی بحالی کےلئے جدوجہد پر سلام پیش کیا جا رہا ہے.

دوسری جانب سوشل میڈیا پر حکومت اور بالخصوص صدر ریاست مسعود خان کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے. عدلیہ میں‌ججز کی تقرریوں‌سے متعلق مظفرآباد کے صحافی طارق نقاش کی ایک ٹویٹ کو بنیاد بنا کر توہین عدالت کی درخواست دائر کئے جانے اور ان کے خلاف ایک مہم چلائے جانے کا معاملہ بھی از سر نو زیر بحث آگیا ہے. کچھ صحافی اور سوشل میڈیا صارفین اس فیصلہ کو صحافی طارق نقاش کی فتح بھی قرار دے رہے ہیں.

تاہم نیلم سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی جلال الدین مغل نے مذکورہ فیصلہ پر ایک دلچسپ سوال کرتے ہوئے صدر ریاست مسعود خان کی جانب سے جمع کروائے گئے بیان حلفی کے جعلی ثابت ہونے کے بعد ان کے خلاف کارروائی کی بابت معلوم کرنا چاہا ہے.

اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں‌انہوں‌نے لکھا کہ ججز تقرری معاملے میں صدر سردار مسعود خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں ایک بیان حلفی جمع کیا گیا تھا جو بظاہر جھوٹ پر مبنی ثابت ہوا ہے۔ تو کیا اس صورت میں مسعود خان کے پاس عہدہ رکھنے کی کوئی اخلاقی جوازیت باقی ہے؟ کیا آئین کے تحت ان کے خلاف مواخذے کی کاروائی شروع نہیں ہو سکتی؟