پاکستانی کشمیر کی عدالتیں ’وزارت امور کشمیر‘ سے متعلق فیصلہ دیںگی تو کوئی ترقیاتی منصوبہ نہیں ملے گا

پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی عدالت عظمیٰ میں وزارت امور کشمیر کی جانب سے عدالت العالیہ کے ایک فیصلہ کے خلاف اپیل دائر کرتے ہوئے نہ صرف عدالت العالیہ کی وزارت امور کشمیر سے متعلق کیس سماعت کرنے کی حیثیت کو غیر آئینی اور خلاف قانون قرار دیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ اگر پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی عدالتیں پاکستان کی وفاقی حکومت اور وزارت امور کشمیر کے زیر اہتمام چلنے والے ترقیاتی منصوبہ جات سے متعلق مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے رکاوٹ بننے کی کوشش کریں گی تو آئندہ وفاقی حکومت کا کوئی ترقیاتی منصوبہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں شروع نہیں کیا جائے گا۔اور سرمایہ کاری کا سلسلہ بھی رک جائے گا۔

یہ اپیل قانون ساز اسمبلی کمپلیکس کے ٹینڈر کی اجرائیگی کے خلاف عدالت العالیہ کے فیصلہ کے خلاف اکیس مئی کو عدالت عظمیٰ میں دائر کی گئی۔ مذکورہ پراجیکٹ
2ارب85کروڑ 41لاکھ 22ہزار روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جانا ہے۔ اور مجوزہ منصوبہ کےلئے رقم وفاقی حکومت نے بطور قرض فراہم کرنی ہے۔

تاہم سیکرٹری امور کشمیر و گلگت بلتستان نے اپنی اپیل میں اس منصوبہ کو وفاقی حکومت کی طرف سے تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی عدالتیں اس معاملہ میں مداخلت نہیں کر سکتیں۔ اپیل میں ستائیس نکات ایسے اٹھائے گئے ہیں ، جن سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ عدالت العالیہ مذکورہ فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں تھی۔ مذکورہ اپیل پر آٹھ جولائی کو حتمی بحث کے بعد فیصلہ محفوظ کئے جانے کا امکان ہے۔

دوسری طرف وفاقی سیکرٹری برائے وزارت امور کشمیر طارق محمود پاشا پر یہ الزام عاءد کیا جارہا ہے کہ انہوں نے مذکورہ منصوبہ میں ایک تعمیراتی کمپنی سے کروڑوں روپے کمیشن مبینہ طور پر وصول کر رکھا ہے اور وہ رواں ماہ کی سترہ تاریخ کو اپنی نوکری سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ریٹائرمنٹ سے قبل مذکورہ ٹھیکہ اپنی مرضی کی تعمیراتی کمپنی کے سپرد کرنے کےلئے مختلف ذرائع سے عدالت عظمیٰ کے ججوں پر بھی دباﺅ ڈالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

منصوبہ کیا ہے؟
وزیراعظم پاکستان (وقت) میاں محمد نواز شریف نے 2017ءمیں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی عمارت تعمیر کرنے کےلئے فنڈزدینے کا اعلان کیا تھا۔ منصوبہ کہ نام ”آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس “رکھا گیا۔ وفاقی منصوبہ بندی کمیشن نے اکتوبر 2017ءمیں منصوبہ کی کل لاگت 2ارب 21کروڑ 15لاکھ 69ہزار روپے مقرر کرتے ہوئے باضابطہ منظوری دی۔ یہ رقم بطور قرض یا ایڈوانس وفاقی حکومت کی جانب سے ادا کی جانی تھی۔ پچیس اکتوبر 2017ءکو وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کے ذریعے سے منصوبہ کی باضابطہ منظوری دی گئی۔ گیارہ مئی 2018ءکو ٹینڈر کی اجرائیگی کےلئے چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی کا چیئرمین ڈائریکٹر جنرل سنٹرل ڈیزائن آفس کو مقرر کیا گیا، جبکہ ڈپٹی چیف امور کشمیر و گلگت بلتستان، پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ایگزیکٹو انجینئر پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کمیٹی کے ممبران مقرر ہوئے۔

28اگست 2019ءکو وفاقی منصوبہ بندی کمیشن نے منصوبہ کی نظر ثانی شدہ لاگت کا تخمینہ 2ارب 85کروڑ41لاکھ 22ہزار روپے مقرر کیا۔ نظر ثانی شدہ لاگت کے تخمینہ کی وزارت امور کشمیر کی جانب سے یکم اکتوبر 2019ءکو منظوری دی گئی۔ اور منصوبہ کے ٹینڈر چھ نومبر2019ءکو اخبارات میں مشتہر کئے گئے۔ جو 16دسمبر 2019ءکو کھولے جانے تھے، لیکن بوجوہ ٹینڈر آٹھ جنوری 2020کو کھولے گئے۔

پراجیکٹ کے ٹینڈرز کی بولی میں مجموعی طور پر تین کمپنیاں شامل ہوئیں۔ جن میں سے ”ایم ایس زیڈ کے اینڈ ایسوسی ایٹس پرائیویٹ لمیٹڈ اور ایم ایس شاہد بلڈرز لمیٹڈ کے جوائنٹ ونچر “ نے 2ارب19کروڑ97لاکھ10ہزار روپے کے ساتھ سب سے کم بولی دی۔ جبکہ ”ایم ایس کنگ کریٹ بلڈرز“ نے دوسرے نمبر پر 2ارب30کروڑ25لاکھ روپے کی بولی دی اور ”ایم ایس ایکسپرٹائز بلڈرز“ نے تیسرے نمبر پر 2ارب72کروڑ35لاکھ روپے کی بولی دی۔

27جنوری 2020ءکو کمیٹی کی جانب سے سب سے کم بولی دینے والی فرم ایم ایس زیڈ کے اینڈ ایس بی ایل(جے وی) کو ٹینڈر الاٹ کرنے کی سفارش کی۔ جسے وفاقی سیکرٹری امور کشمیر نے مسترد کرتے ہوئے واپس کر دیا۔اور کمیٹی کو سب سے کم بولی دینے والی فرم کی قابلیت اور بینک گارنٹی کی از سر نو تحقیق کرنے کےلئے تحریک کی گئی۔28فروری2020کو جاری کی گئی رپورٹ میں فرم کی قابلیت کو درست قرار دیا گیا جبکہ بینک گارنٹی سے متعلق کہا گیا کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل کے قوانین کے مطابق جوائنٹ ونچر کے تحت بولی میں شامل ہونے والی دونوں کمپنیوں کو بینک گارنٹی دینی چاہیے تھی جبکہ مذکورہ جوائنٹ ونچر نے صرف زیڈ کے ایسوسی ایٹس کی جانب سے بینگ گارنٹی جمع کروائی ہے۔ جس کے بعدرواں سال 06مارچ کو دوسرے نمبر پر کم ترین بولی دینے والی کمپنی کنگ کریٹ بلڈرز کو قبولیت کا لیٹر جاری کیا گیا جبکہ کم ترین بولی دینے والی فرم زیڈ کے اینڈ ایس بی ایل (جے وی) کو رجیکشن لیٹر بھی چھ مارچ کو ہی جاری کیا گیا۔

عدالت العالیہ میں رٹ پٹیشن اور فیصلہ
وفاقی سیکرٹری برائے وزارت امور کشمیر کے مذکورہ عمل کو ایم ایس زیڈ کے اینڈ ایس بی ایل (جے وی) کی جانب سے09مارچ2020کو عدالت عالیہ میں چیلنج کر دیا گیا۔ جس کا فیصلہ پٹیشنر کے حق میں ہوا۔ 06مئی کو عدالت العالیہ نے وزارت امور کشمیر کو مذکورہ ٹھیکہ کم ترین بولی دینے والی فرم کو دیئے جانے کا حکم صادر کیا اور تمام تر اعتراضات مسترد کر دیئے گئے۔

عدالت العالیہ میں پٹیشنر کی جانب سے راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ پیش ہوئے جبکہ مسﺅلان کی جانب سے عبدالرشید عباسی ایڈووکیٹ، بشیر مغل ایڈووکیٹ، راجہ گل مجید ایڈووکیٹ اور سید ریاض حسین ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

عدالت العالیہ میں سیکرٹری وزارت امور کشمیر کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ کم ترین بولی دینے والی تعمیراتی کمپنی کی قابلیت پوری ہے لیکن انہوں نے کال ڈیپازٹ(بینک گارنٹی) جمع کرواتے وقت پاکستان انجینئرنگ کونسل کے قوانین کی پاسداری نہیں کی۔

عدالت العالیہ نے سیکرٹری وزارت امور کا یہ اعتراض اس بنا پر مسترد کر دیا کہ بینک گارنٹی 13دسمبر2019کو داخل کی گئی جبکہ ٹینڈر ہفتوں بعد اوپن ہوئے۔ اس دوران بینک گارنٹی کی تصدیق اور تصحیح کےلئے مناسب وقت موجود تھا، لیکن اس دوران اس طرح کی کوئی سرگرمی نہیں کی گئی۔نہ ہی اشتہار میں اس طرح کی کوئی شرط لاگو کی گئی تھی۔

عدالت عظمیٰ میں اپیل اور دائرہ اختیار پر اعتراض
وفاقی سیکرٹری برائے وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کی جانب سے عدالت العالیہ کے فیصلہ کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کرتے ہوئے نہ صرف وفاقی منصوبہ جات سے متعلق پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی عدالتوں کے دائرہ اختیارکو چیلنج کیا ہے بلکہ عدالت العالیہ کا فیصلہ کالعدم قرار نہ دیئے جانے کی صورت مستقبل میں وفاقی ترقیاتی منصوبہ جات اور سرمایہ کاری پر مکمل روک لگ جانے کی دھمکی بھی دی ہے۔ اپیل میں ستائیس ایسے نکات اٹھائے گئے ہیں جن کی رو سے وفاق کے کسی بھی منصوبہ سے متعلق پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی کوئی عدالت کسی قسم کی کوئی سماعت نہیں کر سکتی۔

اپیل میں کہا گیا ہے کہ منصوبہ حکومت پاکستان کا منتخب عوامی نمائندوں کےلئے ایک تحفہ تھا۔ حالانکہ منصوبہ بندی کمیشن کے خطوط کے مطابق منصوبہ کی رقم بطور قرض ادا کی جا رہی ہے۔ اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عبوری آئین 1974ءکے تحت عدالت العالیہ پاکستان کی وفاقی حکومت کے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں تعمیر و ترقی کے کسی منصوبہ میں مداخلت کا اختیار نہیں رکھتی۔ یہ منصوبہ حکومت پاکستان کا ہے اور اس پر آئین پاکستان تحت حکومت پاکستان کی ایگزیکٹو اتھارٹی کے زیر سایہ عملدرآمد ہوگا۔ عدالت العالیہ کی مداخلت نہ صرف اس منصوبہ کومکمل ہونے سے روکے گی بلکہ مستقبل میں وفاقی ترقیاتی منصوبہ جات اور سرمایہ کاری کا سلسلہ بھی رک جائے گا۔

اپیل میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا کہ عدالت العالیہ نے محض بولی کی رقم کو ہی مد نظر رکھا جبکہ کمپنی کی تکنیکی اور مالی قابلیت کا معیار مد نظر نہیں رکھا گیا۔

یہاں یہ واضح رہے کہ کمپنی کی قابلیت کونہ صرف ٹینڈر اجرائیگی کمیٹی نے درست قرار دے رکھا ہے بلکہ دوسرے نمبر پر آنے والی کمپنی کنگ کریٹ بلڈرز کی جانب سے بھی بائیس فروری 2020کو سیکرٹری امور کشمیر کو لکھے گئے ایک خط میں زیڈ کے ایسوسی ایٹس اینڈایس بی ایل کی قابلیت کو تسلیم کرتے ہوئے بولی کےلئے دی گئی بینک سکیورٹی واپس کئے جانے کی تحریک کر رکھی ہے۔

بولی میں دوسرے نمبر پر آنے والی کمپنی کنگ کریٹ بلڈرز کی جانب سے بائیس فروری 2020ءکو لکھے گئے خط میں جب کمپنی کی جانب سے کم ترین بولی دینے والی کمپنی کے حق میں دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے بطور بینک گارنٹی جمع شدہ رقم کی واپسی کا تقاضا بھی کر دیا گیا ہے۔ اور اس کے باوجود سیکرٹری امور کشمیر کی جانب سے مذکورہ کنٹریکٹ کنگ کریٹ بلڈرز کو دیئے جانے کےلئے تگ و دو اس الزام کو مزید پختہ کر رہی ہے کہ مذکورہ منصوبہ کےلئے کروڑوں روپے کمیشن لیا گیا ہے۔ تاہم خط میں سکیورٹی بانڈ کی رقم کی واپسی کا ہی تقاضا کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی سیکرٹری برائے امور کشمیر اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ کے ججوں پر اثر انداز ہونے کےلئے بھی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔عدالت عظمیٰ میں گرمائی تعطیلات کے باعث مقدمات کی باضابطہ سماعت کا عمل بھی تعطل کا شکار ہے۔ لیکن اس کے باوجود آٹھ جولائی کو مذکورہ کیس پر بحث کروائے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: