ٹمبر مافیا کے ہاتھوں درختوں کی کٹائی اور فطرت کی تباہی

کبیر خان

گو کہ انسان اپنی روزمرہ کی ضروریات کی تکمیل کی خاطر فطرت میں دخل اندازی کر کے اسے متاثر کرتاہے لیکن فطرت کو جتنے خوفناک طریقے سے تباہ منافع کی ہوس پوری کرنے کے لئے مختلف مافیاز نے کیا ہے اتنا عام لوگوں نے اپنی روز مرہ کی ضروریات کی تکمیل کی خاطر ہرگز نہیں کیا۔ آج سے تقریباً چالیس پچاس سال قبل تک بھی جب جلانے کے لئے، کشمیر کے دونوں اطراف کے حصے، مری، خیبرپختونخواہ اور ایسے ہی دیگر علاقے جن میں بڑے پیمانے پر جنگلات پائے جاتے تھے، کے مکینوں کے پاس، لکڑی کے علاوہ کسی دوسرے ایندھن کا عموماً ذریعہ موجود نہیں تھا اور گھر تعمیر کرنے کے لئے بھی درختوں کی لکڑی ہی واحد ذریعہ ہوتی تھی، تب بھی دونوں اطراف پر کشمیر، مری، خیبرپختونخواہ اور ایسے دیگر علاقوں کے پہاڑ بہت نیچے آبادیوں تک بڑے بڑے درختوں کے گھنے جنگلات سے ڈھکے رہتے تھے اور اسی وجہ سے بے تحاشا بارشیں ہوتی تھیں، سردیوں میں بڑے پیمانے کی برف باری ہوتی تھی اور ان علاقوں میں عموماً گرمیوں میں گرمی کا تصور تک بھی موجود نہیں تھا۔

ان علاقوں کے مکینوں کا زیادہ تر گزر بسر کھیتی باڑی اور مال مویشیوں کے پالن سے منسلک تھا۔ان علاقوں کے مکین گھر تعمیرکرنے، مویشیوں کے لئے آسوج کے ماہ میں گھاس کاٹنے، شادی بیاہ اور موت مرگ جیسے معاملات میں درکار کام کاج، مل جل کر مشترکہ اور معاونتی سرگرمیوں کے ذریعے پایہ تکمیل کو پہنچاتے تھے اور برادری کا ایک مضبوط سماجی ادارہ وجود رکھتا تھا۔ اس لئے آج سے تقریباً چار پانچ دہائیاں پہلے تک بھی سرمایہ دارانہ کمرشلائزیش اور منافع کی ہوس کے عمومی اثرات سے یہ علاقے اس شدت سے متاثر نہیں ہو پائے تھے۔

لیکن پھر آہستہ آہستہ علاقہ مکینوں کے تقریباً ہر گھر سے افراد مشرق وسطی اور ہندوستان اور پاکستان کے شہروں کی جانب روزگار کی تلاش میں نکلنا شروع ہوئے(ہندوستانی مقبوضہ کشمیر اور پاکستانی کنٹرول میں کشمیر میں اس پراسیس میں تھوڑے بہت دورانیے کے فرق کے امکانات ہیں)۔ علاقہ مکینوں کے رہن سہن میں عمومی طور پر جدت آنا شروع ہوئی اور اسی جدت نے مقابلہ بازی کی کچھ ابتدائی شکلوں کو استوار کرنا شروع کیا جہاں میرا گھر دوسروں سے بڑا اور جدید ہونا چاہیے کا ابتدائی تصور ابھر کر سامنے آیا۔ لوگوں کے پاس بیرونِ ممالک روزگار کی آمدن سے پیسے آنا شروع ہوگئے۔ جس کے پاس مختلف ذرائع سے زیادہ پیسے آتے گئے اس کے سماجی اثرورسوخ میں بھی اضافہ ہونا شروع ہوا۔ اور پھر جو معاشرے کچھ دہائیاں قبل تک گو کہ سادہ رہن سہن کے مالک مکینوں پر مشتمل تھے، جن کے گزر اوقات کے ذرائع بڑے سادہ تھے لیکن ان میں معاونتی سرگرمیوں پر مبنی ایک بھائی چارہ ضرور موجود تھا، اچانک ان میں دولت نے اپنا کھیل کھیلنا شروع کر دیا۔

بھائی چارے کی سوچ اور رویے کو دولت کی ہوس اور دولت کی تشہیر نے تہس نہس کرنا شروع کر دیا۔ اور پھر جب دولت ہی عزت و احترام کا پیمانہ ٹھہرنا شروع ہوگئی تو پھر ہر شخص دولت کے پیچھے بھاگنا شروع ہو گیا۔ دولت کمانے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا جانے لگا۔ جو بیرونِ ممالک آسانی سے روزگار حاصل کر سکتے تھے، انھوں نے روزگار حاصل کیا، جو کسی کاروبار کی بنیاد رکھ سکتے تھے انھوں نے اپنے لئے اس کاروبار کی بنیادیں رکھ لیں اور جو کچھ اور نہ بھی کر سکے انھوں نے دولت کمانے کے لئے ان علاقوں کے مقامی فطری وسائل کی لوٹ کھسوٹ شروع کر دی اور آج یہ مافیاز کی شکل اختیار کر چکے ہیں اور فطرت کو خوفناک طریقے سے تباہ و برباد کر رہے ہیں حالانکہ ان فطری وسائل کو، مثلاً جیسے جنگلات کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ان ریاستوں کے قوانین بھی موجود ہیں لیکن جن اہلکاروں کو یہ ریاستیں ان کو تحفظ فراہم کرنے کے عوض اجرتیں دیتی ہیں وہی اہلکار ایک طرف ان ریاستوں سے اجرتیں وصول کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف یہی سرکاری اہلکار ان مافیاز کےسہولت کار کا کردار ادا کرتے ہیں اور ریاستی تنخواہوں سے کئی گناہ زیادہ دولت وہ ان مافیاز کی سہولت کاری کے عوض کماتے ہیں۔ ریاست جموں وکشمیر، مری اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں کے پہاڑوں پر جنگلات مکمل طور پر تباہ کر دیئے گئے ہیں اور بچے کھچے حصوں کو فیصلہ کن انداز میں تباہ کیا جا رہا ہے اور اس کی لکڑی سے کروڑوں اربوں روپے کمائے جاتے ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

مثلاً میرے اپنے آبائی علاقے راولاکوٹ میں تولی پیر کے پہاڑی سلسلے میں ہمارے بزرگوں کے بقول بہت نیچے آبادیوں تک بڑا گھنا جنگل موجود تھا لیکن آج بدقسمتی سے اس پہاڑ پر سے تمام درخت کاٹ کر ان پہاڑوں کو ننگا کر دیا گیا ہے۔ ہمارے بزرگوں کے بقول سردیوں میں بے تحاشا برف پڑتی تھی۔ ہم نے خود اپنی سکول لائف سے لیکر اب تک یہاں موسم میں ایک خوفناک تبدیلی رونما ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ آج شاد و نادر سردیوں میں یہاں برفباری ہو جائے تو غنیمت سمجھی جاتی ہے۔ ورنہ کئی کئی سردیاں تو بنا برفباری گزر جاتی ہیں۔

پھر ہم آج اس چیز کا رونا روتے ہیں کہ ان علاقوں میں بارشیں جس معمول سے ہوتی تھیں، اب نہیں ہو رہی ہیں۔ ان علاقوں میں برفباری جس معمول اور جس مقدار کی ہوتی تھی، اب نہیں ہو رہی۔ پانی جس مقدار میں موجود تھا، اب نہیں ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح دن بدن نیچے جا رہی ہے۔ ہم رونا روتے ہیں کہ مختلف وائرس وبائی شکل اختیار کر کے لاکھوں انسانی جانیں لے ریے ہیں جیسے اس وقت ہم کورونا وائرس کی وباء کا شکار ہیں۔

کبھی ہم نے یہ سوچا یے کہ بارشیں اور برفباری انھی جنگلات کی بدولت ہوتے تھے، جن کے کٹاؤ سے بارشوں اور برفباری کے معمول میں ایک غیر معمولی تبدیلی رونما ہوئی ہے؟ کبھی ہم نے یہ سوچا یے کہ یہ جنگلات ہزاروں مخلوقات جیسے چرند پرند اور جنگلی جانوروں کا مسکن تھے اور ہیں اور جنگلات کے خاتمے کا ہرگز مطلب صرف درختوں کا خاتمہ ہی نہیں بلکہ ان میں بسنے والی ان مخلوقات کا خاتمہ بھی ہے؟ یہ ہزاروں لاکھوں چرند پرند اور جانور پھر ہزاروں لاکھوں وائرسز کا مسکن ہیں اور اگر آپ ان کے مسکن کو تباہ کرتے جائیں گے تو پھر ان وائرسز کو اپنے مسکن کے لئے آپ انسان ہی میسر ہوں گے؟

کیا ہمیں اس چیز کا اندازہ نہیں ہے کہ اس کرہ ارض پر موجود درخت، پہاڑ، دریا، سمندر، ہوا، دھوپ، روشنی، بارش، برف اور اس پر رہنے والی ہر مخلوق سب مل کر بحیثیت مجموعی ایک ایسا فطری توازن قائم کرتے ہیں جو صحت مند زندگی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں اور ہم اس کا بھی ادراک رکھتے ہیں کہ ہم نے اپنے بچوں کو ایک صحت مند اور متوازن فطرت دے کر جانی ہے تو پھر ہمیں ان مافیاز کو بھی روکنا ہو گا اور ریاستوں میں موجود قوانین کے تحت انھیں کیفر کردار تک پہنچانے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور بڑے پیمانے پر شجر کاری مہم کو آگے بڑھانے میں بھی اپنا اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا تاکہ ہم فطرت کے ان نقصانات کا کچھ نہ کچھ ازالہ کرسکے جو اب تک ان مافیاز کے ہاتھوں ہو چکے ہیں لیکن دوسری طرف ہمیں وسیع تناظر میں ایسی مافیاز کو جنم دینے والے اس نظام زر کا قلع قمع کرنے کے متعلق شعوری طور پر سوچنا ہوگا اور وسائل کی منصوبہ بندی پر مبنی ایک ایسے انسان دوست اور فطرت دوست معاشرے کے قیام کے متعلق سوچنا ہوگا، جہاں انسانی ضروریات کی تکمیل کے لئے درکار منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ، ہر اس چیز کی منصوبہ بندی بھی کی جا سکے کہ آیا کتنی زمین پر جنگلات اگانے چاہییں، کتنی زمین اجناس کی پیداوار کے لئے درکار ہے اور کتنی زمین پر تعمیرات درکار ہیں۔ اگر ہم آج سنجیدگی سے ان مسائل کی طرف سوچنے کی زحمت نہیں کرتے تو کل سوائے پچھتاوے کے، ہمارے پاس کچھ نہیں بچے گا۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: