پاکستان میں‌پانی کا بحران:‌ڈیم کا مسئلہ اور متبادل؟

احسن جعفری

پاکستان میں پانی کے دن بہ دن بڑھتے بحران کی وجہ سے ہر تھوڑے دن بعد ڈیموں کی تعمیر کی بحث چھڑ جاتی ہے۔ کارپوریٹ میڈیا پر ہونے والی بحثوں میں ڈیم کی افادیت کو مبالغہ آرائی کی حدوں سے بھی کہیں آگے جا کے پیش کیا جاتا ہے اور بڑے ڈیموں (بڑے ڈیم سے مراد ایسا ڈیم جس کی اونچائی 15 میٹر تک ہو اور پانی جمع رکھنے کی صلاحیت 3 ملین کیوبک میٹر تک ہو) سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی، معاشرتی و معاشی نقصانات اور اس کی تعمیر پر ہونے والے مختلف قومیتوں کے تحفظات کو یا تو یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا کچھ اس طریقے سے پیش کیا جاتا ہے جیسے سرکاری بیانیے کے برخلاف کوئی بات ملکی مفاد کے خلاف سازش ہو۔ انڈیپنڈنٹ ورلڈ کمیشن آن ڈیمز کے مطابق زیادہ تر منصوبے معاشرتی اور ماحولیاتی نقصان کے سد باب میں ناکام رہے ہیں۔

سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ دریاؤں میں موجود پانی آتا کہاں سے ہے؟ سورج کی گرمی سمندر کے پانی کو آبی بخارات میں تبدیل کرتی ہے۔ ہوا ان آبی بخارت کو پہاڑوں تک لے جاتی ہے اور پہاڑوں پر یہ آبی بخارات ٹھنڈے ہو کر واپس پانی یا برف میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور پھر برف پگھل کر پانی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اب جب تک سمندر، سورج، ہوا اور پہاڑ موجود ہیں تو ہمارے پاس پانی کی کمی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ دنیا بھر میں موجود کل پانی اور تازہ پانی کے ذخائر پر ہم پہلے بھی تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔

19 ستمبر 1960ء، جب انڈس واٹر ٹریٹی پر ایوب خان اور جواہر لال نہرو نے کراچی میں دستخط کیے، کے بعد سے پاکستانی دریاؤں میں مجموعی طور پر پانی کاسالانہ اوسط بہاؤ 145 ملین ایکڑ فٹ رہتا ہے (ایک ایکڑ فٹ پانی سے مراد ہے کہ ایک ایکڑ زمین پر ایک فٹ اونچائی تک جتنا پانی جمع کیا جاسکتا ہے۔ یہ مقدار 271,328 گیلن یا 1,233,480 لیٹر ہو گی)۔ سیلاب آنے اور کم بہاؤ یا خشک سالی کے زمانے میں یہ مقدار زیادہ یا کم ہوتی رہتی ہے۔ انڈس واٹر ٹریٹی کو زیرِ بحث لائے بغیر فی الحال ہم صرف اس پانی کو جو ہمیں میسر ہے سے بحث کا آغاز کریں گے۔ خشک سالی یا کم بہاؤ کے زمانے میں پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے بڑے ڈیموں کو واحد حل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بڑے ڈیموں کی تعمیر میں پچھلے دس سال میں ایک دفعہ پھر اضافہ ہوا ہے اور بڑے ڈیموں کو ماحول کو صاف رکھنے اور صاف ستھری انرجی (بجلی) کے ذرائع کے طور پر مشہور کرایا جا رہاہے۔بڑے ڈیموں کی تعمیر کے لئے بڑے سرمائے کی ضرورت ہے اور یہ سرمایہ چین، برازیل، انڈیا اور تھائی لینڈ جیسے درمیانے درجے کی معیشتوں سے آ رہا ہے۔ چینی کمپنیاں اور بینک اس وقت 216 بڑے ڈیموں کی تعمیر میں شامل ہیں جو 49 ممالک میں بن رہے ہیں۔ پاکستان میں جس حد تک چینی ریاست کا اثر و رسوخ بڑھتا جا رہا ہے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں یہاں ڈیموں کی تعمیر کے بیانیے میں چینی کمپنیوں کے مفادات شامل ہیں۔

لیکن کیا بڑے ڈیم پاکستان کے پانی کے مسائل کا واحد، سستا، جدید، ماحول دوست اور دیرپاحل ہیں؟ جس کا سادہ جواب ہے نہیں! دنیا بھر میں ماحولیاتی سائنسدان بڑے ڈیموں کے مخالفت میں سرگرمِ عمل ہیں بلکہ کئی جگہ تو ڈیم توڑ کر دریا کو قدرتی بہاؤ پر واپس لایا گیا ہے جس سے ماحول میں بہتری آئی ہے۔

بڑے ڈیموں سے جڑے مسائل مندرجہ ذیل ہیں۔

۱) آبادی کا انخلا
بڑے ڈیم بنانے کے لئے لامحالہ طور پر بہت بڑے علاقے سے آبادیوں کا انخلا کیا جاتا ہے۔ صدیوں سے اپنے وطن اور اپنی زمین پر زندگی بسر کرنے والوں کو ان کی جڑوں سے اکھاڑ کر دوسری جگہ پر پھر سے نئی زندگی شروع کرنے کے لئے کہا جاتا ہے۔ عام طور پر بڑے ڈیم کے لئے مختص جگہ کو قیمتاً خریدا جاتا ہے لیکن اس میں بھی بااثر اور حکمران اشرافیہ کے لوگ ہی سب سے زیادہ حصہ لے جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور عام محنت کش اپنی زمین سے بے دخل ہو کر ریاستی رقم کی وصولی کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں۔ سرکار سے پیسے لینے کے لئے زمین کی ملکیت کے کاغذات ہونا ضروری ہوتے ہیں جو کہ صدیوں سے اپنی ہی زمین پر رہنے والے لوگوں کے پاس عموماً نہیں ہوتے کیونکہ انہیں کبھی اس کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ ایسے میں سرکاری بدانتظامی اور کرپشن کی وجہ سے اکثر ایسے لوگ رقم حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جن کا اس زمین سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔

۲) پودوں اور جانوروں کی انواع کو نقصانات
بہت وسیع علاقے میں پانی کا ذخیرہ ہونے کی وجہ سے اس علاقے میں موجود پودوں اور جانوروں کے قدررتی مسکن برباد ہو جاتے ہیں۔ بلکہ بعض پودوں اور جانوروں کی نسلیں معدومیت تک کے خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

۳) مچھلیوں کی آبادی کو نقصان
ڈیم کی دیواریں مچھلیوں اور دوسرے چھوٹے پانی کے جانوروں کی آبادیوں کو دریا کے قدرتی بہاؤ میں جانے سے روک دیتی ہیں۔ جس کی وجہ سے مچھلیوں کو قدرتی طور پر پانی کے بہاؤ میں زندگی گزارنے اور افزائشِ نسل کے مواقع میسر نہیں آتے جس کی وجہ سے ان کی بہت سی نسلوں کو معدومیت کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

۴) کھڑے پانی میں بیماریوں کا پھیلاؤ
ڈیم کی جھیل میں جمع کیا جانے والا پانی بہت سے بیماریوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ دریا کا قدرتی بہاؤ بہت سے بیماری پھیلانے والے جراثیم کو ختم کردیتا ہے لیکن جھیل کے کھڑے پانی میں یہ جراثیم تیزی سے پھیلتے چلے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی جھیل کے کناروں پر چھوٹے کیڑوں مکوڑوں کی افزائش شروع ہو جاتی ہے جو صرف کھڑے پانی کے کنارے ہی ممکن ہے۔

۵) زرخیز مٹی کے پھیلاؤ میں رکاوٹ
ڈیم کی دیواریں دریا کی زرخیز مٹی کے پھیلاؤ میں رکاوٹ ڈالتی ہے۔ جس مٹی کو دریا کی ہر گزرگاہ تک پہنچنا ہوتا ہے وہ جھیل میں پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے جھیل کی تہہ میں بیٹھ جاتی ہے اور مکمل طور پر دریا کے بہاؤ میں شامل نہیں ہو پاتی۔ ساتھ ہی جھیل میں مٹی جمع ہونے کی وجہ سے ڈیم کی پانی جمع رکھنے کی صلاحیت بھی دن بہ دن کم ہوتی چلی جاتی ہے۔

۶) دریا کے زیریں علاقوں میں پانی کی کمی
ڈیموں کا ناگزیر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پانی کو زیادہ سے زیادہ جمع کرنے کی کوشش میں دریا کے زیریں علاقوں میں پانی کی شدید کمی ہوجاتی ہے۔ وہ تمام کاروبار زندگی جو دریا کے زیریں علاقوں میں دریا کی روانی سے وابستہ ہوتے ہیں‘ تباہ ہوجاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مناسب مقدار میں پانی سمندر میں داخل نہ ہونے کی وجہ سے سمندر دریائی زمین پر چڑھنا شروع ہوجاتا ہے اور قیمتی زرعی زمین سمندری پانی سے خراب ہوجاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زیرِ زمین پانی بھی نمکین ہوجاتا ہے جو کہ آس پاس کی زمینوں کو خراب کرتا ہے اور زیرِزمین پانی پینے کے قابل بھی نہیں رہتا۔ ساتھ ہی دریا کے دہانے پر موجود مانگروو (Mangrove) کے جنگلات جو آکسیجن کا خزانہ کہلاتے ہیں تباہ ہوجاتے ہیں جیسا کہ دریائے سندھ کے ساتھ ہوا ہے۔ دریائے سندھ میں کوٹری ڈاؤن اسٹریم میں سالانہ دس ملین ایکڑ فٹ پانی چھوڑا جانا ضروری ہے لیکن یہ مقدار 0.2 ملین ایکڑ فٹ سے 5.8ملین ایکڑفٹ تک ہی رہتی ہے۔

۷) ڈیم کے وزن کی وجہ سے زلزلے
سائنسدانوں کی تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بڑے ڈیم زلزلے لانے میں مددگار ہو سکتے ہیں اور زلزلے کی شدت کو بڑھا بھی سکتے ہیں۔ اس مخصوص حالت کو ”Reservoir-induced Seismicity“ کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں جس جگہ دیا میر بھاشا ڈیم بنانے کی بات کی جا رہی ہے وہ جگہ فالٹ لائن پر واقع ہے اور اس جگہ ڈیم کا بننا کسی بڑے زلزلے کا موجب بھی بن سکتا ہے۔ زلزلہ ڈیم کو تباہ کرے گا اور پھر وہاں سے پھیلنے والا پانی آبادی کے ایک بڑے حصے کو برباد کر کے رکھ دے گا۔

۸) میتھین کا اخراج
ڈیم کو صاف ستھری توانائی کا ذریعہ بھی بتایا جاتا ہے لیکن تحقیق سے بات سامنے آئی ہے کہ ڈیم سے جتنی صاف توانائی حاصل ہوتی ہے اس سے زیادہ میتھین کا اخراج اس کی افادیت کو ختم کر دیتا ہے۔ جب کسی جگہ بڑی مقدار میں پانی جمع ہوتا ہے تو وہ وہاں موجود پودے زیادہ پانی کی وجہ سے ختم ہو جاتے ہیں۔ پانی میں موجود بیکٹیریا ان پودوں کو ڈی کمپوز کرتے ہیں جسے سے کاربن ڈائی آکسائڈ اور میتھین گیس خارج ہوتی ہے۔ میتھین گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ سے 86 گنا زیادہ خطرناک گیس ہے۔ اگر دریا کے اپ اسٹریم میں زیادہ نائٹروجن اور فاسفورس ہو تو میتھین کا اخراج اور زیادہ بڑھ جاتا ہے۔

۹) بڑے ڈیم پر دہشت گردی کا خطرہ
موجودہ دور میں دہشت گردی کی نئی سے نئی تکنیک ایجاد کی جا رہی ہے اور بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے ڈیم بنانے سے دہشت گردوں کو بھی ایک اور بڑا ٹارگٹ مل سکتا ہے جس کی تباہی کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔

۰۱) زیادہ وقت اور زیادہ رقم
بڑے ڈیم بنانے کے لئے زیادہ وقت اور زیادہ رقم دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جتنی رقم اور وقت کا تخمینہ ابتدا میں لگایا جاتا ہے ڈیم اس سے کہیں زیادہ میں مکمل ہوتے ہیں۔ بڑے ڈیموں کی لاگت 6 ارب ڈالر سے لے کر 37 ارب ڈالر کے درمیان تک کہی جاتی ہے۔

ماحولیاتی مسائل کے ساتھ ساتھ بڑے ڈیموں کی تعمیر پر ہمیشہ ہی زیریں علاقے کی قوموں کو تحفظات رہے ہیں۔ لیکن حکمران اشرافیہ نے ان تحفظات کو کبھی بھی سنجیدہ طریقے سے دور کرنے کی کوشش نہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ڈیم بنا دریا کی زندگی کو بہت بڑا دھچکا لگا۔ ڈیم بنتے رہے اور دریا سوکھتا رہا۔ کل جہاں دریا موجیں مارتا گزرتا تھا آج وہاں خاک اڑتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ بات واضح اور اٹل ہے کہ اگر دریا کے بہاؤ پر موجود کسی ایک قوم کو بھی ڈیم پر اعتراض ہے تو ڈیم نہیں بننا چاہیے۔ لیکن پاکستان میں اس مسئلے کو جعلی حب الوطنی سے جوڑ دیا جاتا ہے اور ڈیم کے مخالفین پر غداری کے لیبل لگا دئیے جاتے ہیں۔

تو پھر اگر ڈیم پانی ذخیرہ کرنے کا معقول حل نہیں ہیں تو پھر دریا کے پانی کو سارا سال مناسب طریقے سے کیسے استعمال کیا جائے؟

آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیموں کو ختم کر کے ہمیں دریا کو اس کے قدرتی بہاؤ پر واپس لانا ہوگا۔ پاکستان میں اس کے ساتھ ساتھ ہمیں نو آبادیاتی دور کے آبی نظام کو بھی ختم کرنا ہو گا جو انگریز نے اپنے نو آبادیاتی مفادات کے لئے بنایا تھا جیسے کہ وارابندی وغیرہ جس سے مسائل اور گنجلک ہو جاتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ دقیانوسی آبی نظام زراعت میں حد سے زیادہ پانی استعمال کرتا ہے جس سے ہماری فصلوں کا واٹر فٹ پرنٹ بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔ دریائے سندھ جن راستوں سے گزرتا ہے وہ راستے 1000 فٹ کی گہرائی تک دریا کا عمومی اور سیلابی پانی اپنے اندر ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب دریا اپنے قدرتی راستوں اور بہاؤ پر بہتا ہے تو دریا کے دونوں اطراف زیرِزمین پانی کے ذخائر میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ آبی ماہرین کے مطابق اگر دریا اپنے قدرتی بہاؤ پر موجود رہے تو پاکستان میں دریا کی اطرف کی زمین میں 3000 ملین ایکڑ فٹ تک پانی ذخیرہ ہو سکتا ہے جس میں سے 500 ملین ایکڑ فٹ بالکل صاف پانی ہو گا جو کہ دریا کے 1000 دن کے بہاؤ کے برابر ہو گا۔ جب کہ فی الحال جو ڈیم موجود ہیں اور جو منصوبے زیرِغور ہیں وہ کل ملا کر دریا کے 40 دن کے بہاؤ کے برابر ہوتے ہیں۔ آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں ”ریورائن ویل فیلڈز“ کی تعمیر کرنی ہوگی جو کہ دریا کے دونوں جانب بنائی جا سکتی ہیں۔

ریورائن ویل فیلڈز (Reverine Well Fields)کیا ہیں؟
دریا کے دونوں کناروں پر دریا سے قریب قدرے گہرے ٹیوب ویل مخصوص تعداد میں اور مخصوص جیومیٹریکل ڈیزائن میں لگائے جاتے ہیں۔ ان ٹیوب ویلوں سے سال کے مختلف مہینوں کے مختلف اوقات میں ضرورت کے مطابق زیرِزمین پانی نکالا جاتا ہے اور دور دراز علاقوں میں پائپوں کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے۔ پائپوں اور مشینوں سے پانی پہنچانے کی وجہ سے پانی اونچے علاقوں تک اور بغیر تبخیری نقصان کے پہنچایا جاسکتا ہے۔ کیونکہ دریا کا بہاؤ مسلسل جاری رہتا ہے اس لئے زیرِزمین پانی کے ذخائر مسلسل ’چارج‘ ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کم بہاؤ کے زمانے میں ایک عمل جسے ’بیس فلو‘ کہا جاتا ہے سے پانی زیرِزمین زخائر سے واپس دریا میں بھی جاتا ہے جس سے دریا کا بہاؤ جاری رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دریا کے پانی میں شامل ہونے والی ہر قسم کی آلودگی کو بھی روکنا ہو گا تاکہ دریا کا پانی صاف اور صحت بخش رہے۔

اگر 145 ملین ایکڑ فٹ پانی کو پاکستان کی تمام ضروریات کے حساب سے دیکھا جائے تو فی الحال ہم سب سے زیادہ پانی زراعت پر خرچ کرتے ہیں جو اس فرسودہ نہری نظام (جو میسوپوٹیمیا میں ہزاروں سال قبل استعمال کیا جاتا تھا) میں 104 ملین ایکڑ فٹ ہے جسے جدید آبی نظام سے تبدیل کر کے 25 سے 50 ملین ایکڑ فٹ تک محدود کیا جاسکتا ہے۔ جس سے تقریباً 55 ملین ایکٹ فٹ پانی بچایا جاسکتا ہے جو تربیلا ڈیم کی موجودہ صلاحیت 6.5 ملین ایکڑ فٹ سے کئی گنا زیادہ ہے۔جب یہ پانی دریا میں دوبارہ بہے گا تو دریا کی مردہ زندگی میں جان ڈال دے گا اور پھر سے دریا کے کنارے وہ سارے کھیت کھلیان، پودے بوٹے اور انسان پھلیں پھولیں گے جوپانی کی کمی کا شکار ہو کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر ہم پاکستان کی کل پانی کی سالانہ ضرورت کا حساب لگائیں تو بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک فر د کو روزانہ 35 گیلن پانی کی ضرورت ہوتی ہے جس سے وہ اپنے کھانے پینے، صحت صفائی اور میونسپل ضروریات کو پورا کر سکتا ہے۔ موجودہ آبادی کو دیکھتے ہوئے ہم اپنی گھریلوضروریات کو 17 ملین ایکڑ فٹ میں بہت آسانی سے پورا کرسکتے ہیں اور یہ پانی ہر گلی ہر محلے ہر گھر تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ موجودہ صنعتی استعمال کو دیکھا جائے اور مستقبل میں صنعتی استعمال کے بڑھنے کو بھی مدنظر رکھا جائے تو ہماری صنعتی ضرورت 10 ملین ایکڑ فٹ میں پوری ہو سکتی ہے۔ 50 ملین ایکٹ فٹ زراعت، 17ملین ایکڑ فٹ گھریلو استعمال اور 10 ملین ایکڑ فٹ صنعتی استعمال، کل ملا کر 77 ملین ایکڑ فٹ۔ جو ہمارے پاس موجود سالانہ پانی سے تقریباً آدھا ہے۔ اس کے بعد ہم کوٹری ڈاؤن اسٹریم میں ضرورت کے مطابق پانی چھوڑ سکتے ہیں۔

آبی ماہرین جس قدر منصوبہ بندی کے ساتھ دریا کے پانی کو استعمال کرنے کے طریقے بتاتے ہیں اس میں بڑے پیمانے پر پورے آبی نظام کی انقلابی بنیادوں پر تبدیلی کی ضرورت ہے جو منڈی کی اندھی اور قلت پر مبنی معیشت میں ناممکن ہے۔ جس معیشت میں انسانی ضروریات کی تکمیل کے بجائے منافع اور شرحِ منافع مطمعِ نظر ہو اس میں کسی بھی ایسے منصوبے کی تکمیل ناممکن ہے جو انسانوں اور ان کے ماحول کو فائدہ پہنچانے کے لئے بنایا جائے۔ ہر انسان تک صاف اور صحت بخش پانی کی فراہمی کا خواب ہمارے جیسے پسماندہ معاشروں کی سرمایہ دارانہ حدود و قیود میں رہتے ہوئے ناممکن ہے۔ اس خواب کی تکمیل صرف ایک منصوبہ بند سوشلسٹ معیشت کے تحت ہی ممکن ہے۔

(نوٹ: مذکورہ بالا مضمون احسن جعفری نے پندرہ روزہ طبقاتی جدوجہد کےلئے تحریر کیا، جسے دی سٹریگل کی ویب سائٹ پر بھی شائع کیا۔ ادارہ کے شکریہ کے ساتھ مجادلہ پر شائع کیا گیا ہے)

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: