راولاکوٹ: شہر کا چوکیدار چوری کے الزام میں گرفتار، مال مسروقہ برآمد

پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے پونچھ ڈویژن کے ہیڈکوارٹرراولاکوٹ میں ایک چوکیدار کو چوری کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ مذکورہ چوکیدار پر الزام ہے کہ اس نے ہول سیل کی دکان سے اشیاء خوردونوش کی مرحلہ وار چوری کر کے ایک کریانہ سٹور قائم کر رکھا ہے۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرنے اور ابتدائی تفتیش کے بعدمال مسروقہ برآمد کر لیا ہے اور ہول سیل کاروبار کے مالک آفتاب ارشاد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے درج کی جانیوالی ایف آئی آرعلت نمبر 525/20 میں Pc 457 اور EHA 14دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ایف آئی آر کے مندرجات کے مطابق درخواست گزار نے کہا ہے کہ وہ ایک مقامی مارکیٹ میں کوکنگ آئل کی ایجنسی کا مالک ہے۔ گزشتہ ماہ کی تئیس تاریخ کو اس نے تازہ مال ان لوڈ کیا اور بوجہ لاک ڈاؤن دکان بند کر کے گھر چلی گیا۔ لیکن جب واپس دکان کھولی تو اسے شک ہوا کہ کچھ سامان کم ہے۔ چونکہ ایک دن قبل تازہ سامان ان لوڈ کیا گیا اور کچھ بھی فروخت نہیں کیا تھا۔ اس لئے فہرست کے مطابق سامان چیک کیا تو گھی اور تیل کی مختلف پیکنگ کے تقریباً ستر ہزار مالیت کے کاٹن غائب تھے۔

درخواست گزار کے مطابق دکان سے نئے سامان کے علاوہ بھی کافی سامان کم ہے لیکن اس کی تفصیلات معلوم نہیں ہے۔ درخواست گزار کے مطابق مذکورہ سامان مارکیٹ کے چوکیدار طالب پٹھان کی دکان سے برآمد ہوا۔ غالب گمان ہے کہ چوکیدار نے ایساڈپلیکیٹ چابی کے ذریعے تالا کھول کر کیا ہوگا۔ درخواست گزار کے مطابق اسے ماضی میں بھی کئی مرتبہ شک گزرا کہ دکان سے سامان غائب ہوتا ہے،جس سے لگتا ہے کہ مذکورہ چوکیدار ماضی میں بھی سامان چوری کرتا رہا۔ کیونکہ اس کی دکان پر جو ہماری ایجنسی کا سامان پڑا ہے وہ اس نے ہم سے خریدا نہیں ہے۔ راولاکوٹ میں ڈالڈا کی اور کوئی ایجنسی بھی نہیں ہے۔

پولیس نے شکایت درج ہونے کے فوری بعد ملزم کو گرفتار کر لیا تھا، ابتدائی تفتیش کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ مذکورہ چوکیدار سے متعلق کہا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق افغانستان سے ہے، وہ گزشتہ کئی سالوں سے راولاکوٹ میں ہی رہائش پذیر ہے۔

غیر ریاستی افراد شہر کی چوکیداری پر معمور
راولاکوٹ اس خطے کا واحد شہر ہے جہاں چوکیداروں کی اکثریت کا تعلق افغانستان سے ہے اور ان کے پاس شناختی کارڈ تک موجود نہیں ہیں۔انجمن تاجران راولاکوٹ نے ماضی میں متعدد مرتبہ کمشنر پونچھ، ڈی آئی جی پونچھ اور ایس ایس پی سمیت دیگر ذمہ داران سے بذریعہ میڈیا یہ مطالبہ کیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ کے بعد عام شہریوں کے شہر میں داخل ہونے پر ان سے شناختی کارڈ چیک کئے جاتے ہیں۔ لیکن شہر میں چوکیداری پر معمور افراد نہ صرف غیر ریاستی ہیں بلکہ ان کے پاس کوئی شناخت بھی نہیں ہے۔ اگر کل کسی دکاندار کا کوئی نقصان ہوا تو ان چوکیداروں کو کہاں سے تلاش کیا جائے گا۔ لہٰذا ایسے تمام چوکیداروں اور ان کے پشت پناہی کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی کی جائے، بغیر شناختی کارڈ کسی کو چوکیداری کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ لیکن اس مطالبہ پر تاحال عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

سیاسی و سماجی رہنماؤں کا خیال ہے کہ مذکورہ چوکیداروں پر طاقت ور حلقوں کا ہاتھ ہے۔ جس وجہ سے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی۔ نہ ہی چوکیداری سے ان کو ہٹایا جا سکتا ہے۔ تاہم کچھ بااثر تاجروں سے متعلق بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ان چوکیداروں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکی۔ تاہم اب یہ مطالبہ زور پکڑ رہاہے کہ بغیر شناختی دستاویزات کے کسی بھی شخص کو اس طرح کی ذمہ داریوں پر نہیں لگایا جائے کہ جہاں کسی بھی واردات کے بعد انہیں تلاش کیا جانا دشوارہو جائے۔ اس طرح سے دہشت گردی کی وارداتوں کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: