لبریشن فرنٹ کا احتجاج: ایکٹ 74ء میں چودہویں ترمیم کی کوشش ہوئی تو اسمبلی کا گھیراؤ کرینگے، سردار صغیر

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ایکٹ74ء میں چودہویں ترمیم کا مجوزہ ڈرافٹ منظور کرنیکی کوشش کی گئی تو اسمبلی سیکرٹریٹ کا گھیراؤ کریں گے۔ ایکٹ74ء میں ہونیوالی مجوزہ ترامیم، کوہالہ ہائیڈرو پراجیکٹ اور دیگر مسائل کے خلاف جدوجہد کو پورے خطے میں پھیلائیں گے۔ ایکٹ 74ء بنیادی طورپر غلامی کی دستاویز ہے جس میں مزید ترمیم کرتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق، جمہوری و سیاسی حقوق پرمزید پابندی عائد کی جا رہی ہیں جو انسانی حقوق کے عالمی چارٹر اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکمران گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے اور پاکستانی کشمیر میں اپنا قبضہ سخت کرنے کی منصوبہ بندی کر کے بھارتی حکمرانوں کی پیروی کرنے میں مصروف ہیں۔ مظفرآبادکے دریاؤں کا رخ موڑ کر بالخصوص مظفرآباد اور بالعموم پورے خطے کو بنجر بنانے اور انسانی زندگی کے لئے ناقابل رہائش بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ سامراجی لوٹ مار پر مبنی اس منصوبے کے خلاف ہم ہر حد تک جائیں گے۔ کوہالہ ہائیڈروپراجیکٹ کسی صورت نہیں بننے دینگے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وباء نے سرمایہ دارانہ نظام کو پوری دنیا میں بے نقاب کر دیا ہے۔ ترقی یافتہ ترین ملکوں کاہیلتھ کیئر سسٹم بیٹھ گیا ہے۔ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ تعلیم اور صحت کی سہولیات کی پرائیویٹائزیشن سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوا۔ فاروق حیدر حکومت تمام نجی تعلیمی ادارے اور ہسپتال نیشنلائز کرے اور صحت اور تعلیم کی سہولیات عوام کو مفت فراہم کی جائیں۔

وہ راولاکوٹ میں منعقدہ احتجاجی ریلی کے شرکاء سے خطاب کر رہے تھے۔ قبل ازیں کالج گراؤنڈ سے ایکٹ 74ء کی منسوخی اور گلگت بلتستان اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو ملا کر ایک انقلابی حکومت قائم کرنے اور کوہالہ ہائیڈروپراجیکٹ منسوخ کرنے کے مطالبات کے گرد احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں کثیر تعداد میں لبریشن فرنٹ، ایس ایل ایف اور این ایس ایف کے کارکنان نے شرکت کی۔ شرکاء ریلی نے شہر بھر کا چکر لگانے کے بعد کچہری چوک میں احتجاجی جلسہ کیا۔ جلسہ سے سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ کے علاوہ جے کے این وائی ایف کے رہنما توصیف خالق، ایس ایل ایف کے سیکرٹری جنرل دانش گلفراز، این ایس ایف کے ایڈیٹر عزم التمش تصدق، لبریشن فرنٹ کے ضلعی صدر سردار محمد خلیل خان، مرکزی رہنما عمر نذیر کشمیری اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض سردار شاہد شریف نے سر انجام دیئے۔

سردار صغیر خان کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ ہم نے آل پارٹیز کانفرنس میں بھی اپنا بھرپور موقف دیا ہے۔ احتجاجی تحریک کا آغاز کر رہے ہیں، یہ تحریک ہم مرحلہ وار جاری رکھیں گے۔پاکستانی حکومت غلامی کی دستاویز میں غلامی کی شقیں مزید سخت کرنے کی کوشش کریگی تو ہم مظفرآباد اسمبلی کا گھیراؤ کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ کوہالہ ہائیڈرو پراجیکٹ کے ذریعے سے دریائے جہلم کا رخ موڑ کر مظفرآباد کو بنجر کرنے کا منصوبہ لانچ کیا گیا ہے۔ اس خطے میں بننے والے تمام پن بجلی منصوبوں کو مقامی حکومت کی تحویل میں دیئے جانے اور دریاؤں کا رخ موڑنے والے منصوبہ جات کے خاتمے کیلئے ہم آخری سانس تک لڑیں گے۔ مظفرآباد کو کسی صورت بنجر نہیں ہونے دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے نافذ کردہ لاک ڈاؤن کے متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کرنے کیلئے فنڈز مختص کئے جائیں۔ تعلیم اور صحت کے کاروبار کا خاتمہ کرتے ہوئے سرکاری سطح پر مفت اور جدید تعلیم تمام شہریوں کو فراہم کی جائے۔ انہوں نے سرینگر سوپور میں ایک معصوم شہری کے سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں قتل کی بھرپورمذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی سفاک ریاست کشمیریوں پر ظلم اور جبر کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ ظالمانہ قبضے کے خلاف کشمیری عوام کی لہو رنگ جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور انہیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان کی اس جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ ہیں، انہیں کبھی بھی تنہاء نہیں چھوڑیں گے۔

انہوں نے دنیا بھراور بالخصوص پاکستان اور بھارت کے نوجوانوں اور محنت کشوں سے اپیل کی کہ اس جدوجہد میں وہ جموں کشمیر کے عوام کا ساتھ دیں۔ دونوں جابر اور قابض ریاستوں نے کشمیر پرقبضہ کی کوشش میں دونوں خطے کے لوگوں کا استحصال جاری رکھا ہوا ہے۔ پورے برصغیر کے عام انسانوں کی مسائل سے نجات جموں کشمیر کی مکمل آزادی سے مشروط ہے۔اس جدوجہد میں برصغیر بھر کے مظلوم و محکوم محنت کش اور نوجوان ہمارے قدرتی اتحاد ی ہیں۔ ہم اس جدوجہد کو حتمی کامیابی تک جاری رکھیں گے۔