55 لاکھ کا غیر قانونی ٹینڈر جاری کرنیکے خلاف رٹ پٹیشن سماعت کیلئے منظور

راولاکوٹ کے ترقیاتی ادارہ پرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی(پی ڈی اے) کی جانب سے جاری کردہ مبینہ غیر قانونی تعمیراتی ٹینڈرز کے خلاف رٹ پٹیشن عدالت العالیہ نے سماعت کےلئے منظور کر لی ہے. قبل ازیں درخواست گزار کمپنی چنار ایسوسی ایٹس کی جانب سے 16 جون کو رٹ پٹیشن دائر کی گئی تھی. عدالت نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے 25 جون کو پی ڈی اے کے ذمہ داران کو عدالت میں‌پیش ہونے کی ہدایت کی تھی.

پچیس جون کو سماعت کے دوران درخواست گزار کمپنی کی طرف سے سردار وقاص افسر ایڈووکیٹ پیش ہوئے. جبکہ پی ڈی اے اور دیگر کی جانب سے سردار سلیمان خان ایڈووکیٹ اور سردار ریباز خان ایڈووکیٹ پیش ہوئے.

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ پی ڈی اے نے چھ ایسے منصوبہ جات کےلئے ٹینڈر جاری کر کے ٹھیکہ دیا ہے جن پر کام تین ماہ قبل مکمل ہو چکا ہے. پی ڈی اے نے اپنی مشینری استعمال کر کے مذکورہ کام پہلے سے مکمل کررکھا ہے. جبکہ قبرستان سے کثیر تعداد میں‌درخت بھی برید کر کے فروخت کئے گئے ہیں. ٹینڈر اجرائیگی اور ٹھیکہ الاٹ کرنے کی مشق صرف اور صرف 5.5 ملین روپے کی رقم غبن کرنے کا ایک بہانہ ہے.

پٹیشنرز کا کہنا تھا کہ ٹینڈر کی اجرائیگی میں‌قواعد کی صریح‌خلاف ورزی کی گئی ہے. دو ملین سے زائد کے ٹینڈر کی اجرائیگی کےلئے کم از کم دو قومی اخبارات میں‌اشتہار دیا جانا ضروری ہے لیکن ادارہ کی جانب سے محض اے جے کے پیپرا کی ویب سائٹ پر ٹینڈر جاری کیا گیا. جاری کردہ ٹینڈر کے مطابق بیس مئی کو ٹینڈر ڈالے جانے تھے، جبکہ اکیس مئی کو ٹینڈر اوپن ہونے تھے. لیکن اس کے برعکس اٹھائیس مئی کو ٹینڈر اوپن کئے گئے. اور من پسند کمپنی کو ٹینڈر الاٹ کر کے پٹیشنر کو کاروباری نقصان دیا گیا ہے.

پٹیشنر کے مطابق جن 6 منصوبہ جات کےلئے ٹینڈر جاری کئے گئے ان میں‌ آر سی سی آرٹیفیشل ووڈن ٹائپ ریلنگ کھڑک قبرستان مالیتی 1965819 روپے، فٹ پاتھ، پارکنگ اور روڈ سولنگ کھڑک قبرستان مالیتی 744413 روپے، پروٹیکشن ورک قبرستان کھڑک مالیتی 1957304 روپے، ارتھ ورک اینڈ وائر فینسنگ نزد قبرستان کھڑک مالیتی 908274 اور دیگر منصوبہ جات شامل ہیں. جن کی مجموعی مالیت 5.5 ملین روپے ہے لیکن 90 فیصد سے زائد کام پہلے سے مکمل کیا جا چکا ہے. اب ادارہ صرف رقم کا غبن کرنا چاہتا ہے.

پی ڈی اے کے وکلاء کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ مذکورہ ٹینڈر میں‌شامل ہر منصوبہ کی مالیت 2 ملین سے کم تھی اس لئے اخبارات کو اشتہار دینا ضروری نہیں‌تھا. پیپرا کی ویب سائٹ پر ٹینڈر کی اجرائیگی قانونی عمل تھا. پٹیشنر کمپنی کا لائسنس ٹینڈر میں‌الاٹ کئے گئے کام سے متعلق نہیں‌ہے. اور پی ڈی اے نے پٹیشنر کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کروا رکھی ہے. لہٰذا پٹیشنر کی درخواست ناقابل سماعت ہے اور اسے خارج کیا جانا قرین انصاف ہوگا.

عدالت نے دونوں‌فریقین کے وکلاء کو سماعت کرنے کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے رٹ پٹیشن کو سماعت کےلئے منظور کر لیا اور آئندہ تاریخ سماعت 7 جولائی مقرر کرتے ہوئے حکم دیا کہ حکم امتناعی تافیصلہ جاری رہے گا.

واضح رہے کہ پرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور دیگر ترقیاتی اداروں‌کے خلاف ماضی میں‌بھی مختلف کرپشن کے کیس منظر عام پر آتے رہے، لیکن احتساب بیورو میں‌ان کیسوں‌کی سماعت کا سلسلہ آگے نہیں‌بڑھ سکا. پی ڈی اے کےلئے یہ مشہور ہو چکا ہے کہ جو بھی شکایت مذکورہ ادارہ کے خلاف احتساب بیورو یا کسی دوسرے ادارے کے پاس جمع کروائی جاتی ہے اس ادارے کے کسی سربراہ کو ایک پلاٹ مل جاتا ہے اور کیس داخل دفتر ہو جاتے ہیں.

عدالت العالیہ کی جانب سے ادارے کے سپیشل آڈٹ کا حکم بھی جاری کیا جا چکا ہے، لیکن تین سال گزر جانے کے باوجود مذکورہ ادارہ کا سپیشل آڈٹ نہیں‌ہو سکا، ادارہ کے ذمہ داران مختلف طریقے استعمال کرتے ہوئے سپیشل آڈٹ کی راہ میں‌روڑے اٹکاتے ہیں اور تین سال سے عدالتی حکم کے باوجود سپیشل آڈٹ نہیں‌ہو سکا ہے.

سیاسی و سماجی رہنماؤں‌نے مذکورہ رٹ پٹیشن کے بعد ایک مرتبہ پھر ادارہ ترقیات راولاکوٹ کے سپیشل آڈٹ کا مطالبہ کیا ہے. چیف جسٹس عدالت عظمیٰ اور چیف جسٹس عدالت العالیہ سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے پرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا فوری آڈٹ کیا جائے تاکہ ادارہ کے قیام سے اب تک ہونے والی تمام تر کرپشن کر پردہ چاک ہو سکے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہو سکے.