چھوٹا گلہ یونیورسٹی کیمپس:‌تیسرا ٹھیکہ بھی منسوخ، یونیورسٹی خود پنجہ آزمائی کےلئے تیار

سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ اور کویت فنڈ(ایس ایف ڈی اور کے یو) کے تعاون سے تعمیر ہونے والے اے جے کے یونیورسٹی کے چھوٹا گلہ کیمپس(جو اب جامعہ پونچھ کا چھوٹا گلہ کیمپس ڈکلیئر ہو چکا ہے) کی تعمیرات کا کام گزشتہ نو سال سے تعطل کا شکار ہے. جبکہ 90 کروڑ روپے سے زائد خرچ ہونے کے باوجود تعمیر شدہ حصہ تمام ٹیسٹ رپورٹس کے مطابق ناقابل استعمال قرار دیا جا چکا ہے. دو ٹھیکیدار کام چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں ، جبکہ تیسرے ٹھیکیدار کو بھی گزشتہ سال جولائی میں‌ٹھیکہ الاٹ ہونے کے چار ماہ بعد ٹھیکہ منسوخ‌کر کے فارغ کردیا گیا. اب یونیورسٹی آف پونچھ کے وائس چانسلر سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ اور ایرا کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مذکورہ تعمیرات کی ذمہ داری یونیورسٹی کو فراہم کئے جانے کی اپیل کر چکے ہیں. یونیورسٹی انتظامیہ باقی ماندہ تعمیراتی کام خود کروانےکے عزم کا اظہار کرچکے ہیں. ے

2005ء کے زلزلہ کے بعد پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں‌تعلیمی اداروں‌اورہسپتالوں سمیت دیگر عمارات اور انفراسٹرکچر کی تباہی کے بعد متعدد عالمی اداروں‌نے امداد کے طورپر اور سافٹ لان(آسان قرض) کے تحت منصوبہ جات کی تعمیر کا اعلان کیاتھا. اسی سلسلہ میں‌اس وقت یونیورسٹی آف آزاد کشمیر کے مظفرآباد اور راولاکوٹ کیمپس کی تعمیر کےلئے سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ اور کویت فنڈ کے ساتھ معاہدہ کیا گیا تھا.

2006ء میں‌ہونے والے اس معاہدہ کے تحت سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ نے اس فنڈز مہیا کرنے تھے جبکہ ارتھ کوئیک ری ہیبیلیٹیشن اینڈ ری کنسٹرکشن اتھارٹی (ایرا) نے اس پراجیکٹ کی نگرانی کرنی تھی. منصوبہ کے تحت یونیورسٹی آف اے جے کے (کنگ عبداللہ کمیپس چھتر کلاس) مالیتی ساڑھے پانچ ارب روپے اور یویورسٹی آف اے جے کے چھوٹا گلہ کیمپس(کنگ عبداللہ کیمپس چھوٹا گلہ) دو ارب روپے سے زائد مالیت کی رقم سے تعمیر ہونا تھے.

مظفرآباد کیمپس 2018ء میں‌مکمل ہو چکا ہے، جبکہ چھوٹا گلہ کیمپس کی تعمیر کا کام تاحال التواء کا شکار ہے. چھوٹا گلہ کیمپس کےلئے 2007 میں‌حصول اراضی قانون کے تحت راولاکوٹ کی نواحی یونین کونسل چھوٹا گلہ سے 550 کنال اراضی مقامی آبادی سے حاصل کی گئی تھی. جبکہ 2011 میں‌باضابطہ تعمیرات کے آغاز کےلئے ٹھیکہ الاٹ کیا گیا تھا. ابتدائی کام کا آغاز کیا گیالیکن تعمیرات کا یہ عمل آج جون 2020ء میں‌بھی نصف تک نہیں‌پہنچ سکا.

تعمیراتی کام کے تعطل کا شکار ہونے کا ذمہ دار ٹھیکیداروں‌کی طرف سے ایرا کو قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ایرا کی جانب سے ٹھیکیداروں کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے. موجودہ وقت تیسرے ٹھیکیدار نے عدالت سے رجوع کیا ہے. جبکہ دو ٹھیکیدار پہلے ہی کام چھوٹ کر عدالت سے ثالثی کےلئے رجوع کر چکے ہیں.

موجودہ ٹھیکہ بارہ جولائی 2019 کو تین کمپنیوں‌ ایم ایس النور بلڈرز اینڈ کنسٹرکشن، گل کنسٹرکشن اور ٹرپل اے بلڈرز اینڈ ٹریڈرز کو الاٹ کیا گیا تھا جس کی مالیت 97 کروڑ روپے تھی. ایرا کے مطابق اس سے قبل 90 کروڑ روپے کا کام مکمل ہو چکا ہے. جس کی ادائیگیاں اس سے قبل تعمیراتی کام کرنے والے دو ٹھیکیداروں‌کو کی جا چکی ہیں. جبکہ ٹھیکیدار اس سے زائد رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں‌وہ عدالت سے رجوع کر چکے ہیں.

دوسری جانب سائٹ کنسلٹنٹ کمپنی نیو ویژن انجینئرنگ کنسلٹنٹس کی جانب سے مذکورہ منصوبہ پر تکمیل شدہ کام کی سائٹ وزٹ رپورٹ 9 اگست2019 کو ڈی جی پراجیکٹس ایرا کو ارسال کی گئی ہے. اکیاون صفحات پرمشتمل اس رپورٹ میں‌مذکورہ پراجیکٹ کے تکمیل شدہ کام میں‌متعدد نقائص کی نشاندہی کی گئی ہے. مذکورہ رپورٹ کے مطابق استعمال شدہ تمام سریا زنگ آلود ہے. کالم اور بیم ٹیڑھے ہیں، دیواریں سرکی ہوئی ہیں. اس کے علاوہ دیگر متعدد نقائص کی مذکورہ رپورٹ میں‌نشاندہی کی گئی ہے.

بعد ازاں پچیس ‌ستمبر 2019ء کو سابق کنٹریکٹر کے تکمیل شدہ کام کی کنکریٹ ٹیسٹ رپورٹ سمیت ٹیکسلا لیبارٹری سے جاری ہوئی جس میں‌کنکریٹ کو ناقص اور ناقابل استعمال قرار دیا گیا. 11 ستمبر 2019 کو ہالو بلاکس کی ٹیسٹنگ رپورٹ نیو ویژن کنسلٹنٹس کو ٹیکسلا لیبارٹری کیجانب سے ارسال کی گئی جس کے مطابق وہ بھی ناقص تعمیر شدہ تھے.

لیکن اسی کنسلٹنٹ کمپنی کی زیر نگرانی کام کرنے والے سابق ٹھیکیداروں‌کو ایرا نے نوے کروڑ روپے کی رقم ادا کر دی. مذکورہ رپورٹس آنے کے بعد بھی کنسلٹنٹ کمپنی سے اس متعلق کوئی سوال نہیں‌کیا گیا اور نہ ہی انکوائری کی گئی کہ ماضی میں اس کنسلٹنٹ کمپنی نے کس طرح‌وہ کام منظور کیا اور اس کے عوض نوے کروڑ روپے تک کی ادائیگیاں ممکن ہو سکیں.

دوسری جانب سائٹ پربہت بڑی تعداد میں‌کنسٹرکشن میٹریل اور مشینری تباہ اور ناقابل استعمال ہو چکی ہے. سیکڑوں‌ٹن سریا زنگ آلود ہو کر ناقابل استعمال ہو چکا ہے.

ٹرپل اے بلڈرز کے ذمہ دار فہد عقیل نے الزام عائد کیا ہے کہ مذکورہ منصوبہ کو تباہ کرنے کا ذمہ دار ایرا اور کنسلٹنٹ کمپنی نیو ویژن انجینئرنگ کنسلٹنٹس ہے. انکا کہنا تھا کہ ایرا حکام یہ چاہتے ہی نہیں‌ہیں‌کہ اس منصوبہ پر کام ہو. ہم نیک نیتی سے کام کرنے کےلئے آئے تھے لیکن ہمیں‌کام کرنے کے مواقع فراہم نہیں‌کئے گئے. بے بنیاد اور جعلی الزامات عائد کر کے چار ماہ بعد ہی ٹھیکہ کینسل کر دیا گیا. دس فیصد ضبط شدہ سکیورٹی جو دس کروڑ روپے بنتی ہے کیش کروانے کی کوشش کی گئی ہے.جس کے خلاف ہم نے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر لیا ہے. ہمارے چھ سے سات کروڑ روپے اس پراجیکٹ پراخراجات ہو چکے ہیں. ہم نے سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ سے بھی رابطہ کیا ہے، وائس چانسلر اور چانسلر جامعہ پونچھ کو بھی تمام خطوط لکھے ہیں. لیکن ہماری کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہے.

انہوں نے الزام عائد کیا کہ موقع پر ساٹھ کروڑ سے کم مالیت کا کام موجود ہے. لیکن ایرا حکام نوے کروڑ سے زائد کی ادائیگیاں‌سابق ٹھیکیداروں‌کو کر چکے ہیں. جو کام موجود ہے وہ انتہائی ناقص ہے، جس پر مزید کنسٹرکشن ممکن نہیں‌ہے. اسکو مسمار کر کے دوبارہ تعمیرات کرنے کے علاوہ کوئی راستہ موجود نہیں‌ہے. سابق ٹھیکیداروں‌کا سامان موقع پر بکھرا پڑا ہے. سائٹ تک بذریعہ سڑک رسائی ممکن نہیں‌ہے یہاں‌تک کہ سائٹ کی بجلی کا کنکشن تک کٹ چکا تھا. انہوں‌نے کہا کہ ہم نے کام کا آغاز کیا. سڑک تعمیر کی، ناقص تعمیرات کو درست کرنے کےلئے تحریری طور پر تحریک کرنے کےلئے کہا لیکن وہ نہیں‌کیا گیا. سائٹ کو کلیئر کرنے کا کہا گیا وہ بھی ایرا حکام نے نہیں‌کی. اور اس طرح کے بے شمار مسائل تھے جن کے بارے میں‌مسلسل خطوط لکھے گئے لیکن کوئی نوٹس نہیں‌لیا گیا. دستیاب حالات میں‌جتنا کام رواں‌رکھا جا سکتا تھا وہ بھی رواں‌رکھا گیا لیکن اس کے باوجود ٹھیکہ منسوخ‌کر کے ہمیں‌یہاں‌پھنسا دیا گیا. انکا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ سافٹ لان کی شکل میں‌ہے جس کی واپس ادائیگی کی جانی ہے. لیکن اس رقم کو ایرا حکام برباد کر رہے ہیں. جس کا بوجھ عام لوگوں‌پر پڑے گا.

ایرا کی جانب سے 12 جولائی کو جاری کئے جانے والے کنٹریکٹ کو 16 اکتوبر کو منسوخ‌کر دیا گیا تھا. تعمیراتی کمپنی کی جانب سے ثالثی کروانے اور ٹھیکہ منسوخ‌کرنے کے خلاف خط و کتابت کے بعد رواں سال 16 جنوری کو ایرا کی جانب سے ایک تفصیلی خط تحریر کیا گیا جس میں‌ٹھیکیدار کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے ایرا کا موقف بیان کیا گیا ہے.

ایرا حکام کا موقف ہے کہ تین کمپنیوں‌کے جوائنٹ ونچر کو یہ تیسرا ٹھیکہ بارہ جولائی کو دیا گیا تھا. جس میں تمام تر تفصیلات شامل تھیں. سائٹ ٹھیکیدار نے پہلے دیکھ رکھی تھی. ٹھیکیدار نے ٹھیکہ الاٹ ہونے کے 14 ایام کے اندر موبلائزیشن کرنی تھی اور کام شروع کرنا تھا لیکن چار ماہ تک کمپنی کی طرف سے کوئی کام شروع نہیں‌کیا گیا. جبکہ اس سارے عرصہ میں‌وہ لیت و لعل سے کام کرتے رہے. مختلف طرح‌کے ہیلے بہانے کرتے رہے. کمپنی کے رویے سے یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ انکی کام کرنے کی نیت ہی نہیں‌ہے.

مذکورہ خط کے مطابق ناقص تعمیراتی کام کو درست کرنے کےلئے تعمیراتی کمپنی کو اضافی ادائیگی کی جانی تھی. لیکن اس نے کام کی ابتداء ہی نہیں‌کی. صرف حیلے بہانے تراشنے میں‌مصروف رہے. سابق ٹھیکیدار کا تعمیراتی میٹریل شفٹ کرنے کےلئے زائد رقم طلب کی گئی. پرانی کنسٹرکشن کو مکمل مسمار کرنے کا کہا گیا. جبکہ آخری وقت تک ایک مکسر پلانٹ ایک رولر اورایک لوڈر ٹرک سائٹ پر منتقل کر کے کمپنی نے حکام کی آنکھوں‌میں‌مٹی ڈالنے کی کوشش کی. جس کی وجہ سےمعاہدہ کی شرائط پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت قانونی طور پر ٹھیکہ منسوخ‌کیا گیا ہے.

تاہم فہد عقیل نے ان تمام تر وضاحتوں‌کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ ایرا حکام اپنی نااہلیوں‌کا بوجھ کنٹریکٹر پر ڈال رہے ہیں. اصل میں‌صرف اور صرف ایرا حکام اس منصوبہ کی تباہی کے ذمہ دارہیں.

دوسری جانب یونیورسٹی آف پونچھ کے وائس چانسلر کے سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ ، ایرا اور ایچ ای سی کے علاوہ وفاقی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے حکام سے مذاکرات حتمی مراحل میں‌داخل ہو چکے ہیں. وائس چانسلر جامعہ پونچھ کا موقف ہے کہ وہ اگر جامعہ پونچھ کا تراڑ کیمپس جامعہ انتظامیہ کے زیر اہتمام مختصر ترین عرصہ میں‌مکمل کروا سکتے ہیں تو چھوٹا گلہ کیمپس کا کام بھی یونیورسٹی انتظامیہ خود مکمل کروا سکتی ہے. لہٰذا ایرا حکام سے یہ کام جامعہ پونچھ کو منتقل کیاجائے تاکہ یونیورسٹی خود اس کیمپس کی تعمیرات کروائے.

یونیورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کی وزارت نے وائس چانسلر کے موقف کو پذیرائی بخشی ہے. اور جلد یہ منصوبہ جامعہ پونچھ کو منتقل ہو جائے گا. تاہم سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ اور ایرا حکام کی جانب سے اس سے متعلق کوئی رد عمل تاحال نہیں‌سامنے نہیں‌آیا ہے.

وائس چانسلر جامعہ پونچھ پر بھی الزام ہے کہ انہوں‌نے اپنے علاقے کے پی کے سے لوگوں‌کو جامعہ میں‌بھرتی کروانے کا عمل شروع کر رکھا ہے. منصوبہ جات کی تعمیرات بھی کمیشن اور کک بیکس کی وجہ سے جلد از جلد مکمل کروانے کی کوشش ہے. جبکہ نئےتعمیراتی منصوبہ کو بھی صرف اسی لئے یونیورسٹی پرلادھنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس کاکنٹریکٹ دینے اور تعمیراتی کام کے دوران بلات کی ادائیگی میں‌کمیشن اور کک بیکس کا حصول ممکن ہو سکے.

تاہم یونیورسٹی سٹاف کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر نے یونیورسٹی میں‌مثالی کام کئے ہیں. مذکورہ منصوبہ بھی اگر یونیورسٹی کے سپرد ہوتا ہے تو سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کی اس رقم کا درست استعمال ہو کر کیمپس کی تعمیر کو جلد از جلد یقینی بنایا جا سکتا ہے.

دوسری جانب کنٹریکٹر فہد عقیل کہتے ہیں‌کہ مذکورہ منصوبہ اگر یونیورسٹی کے سپرد ہو جاتا ہے تو یونیورسٹی کو ایرا کے تمام اخراجات کا بوجھ بھی لینا پڑے گا. جبکہ نصف رقم سے ہونے والی تعمیرات ناقابل استعمال ہے. اور منصوبہ کے تیس سے چالیس فیصد بھی نہیں‌بنتی. اس صورتحال میں‌یونیورسٹی نصف رہ جانیوالی رقم سے اس منصوبہ کہ نہ صرف مکمل نہیں‌کر سکتی. بلکہ یہ سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ کا سافٹ لان ہے جس کی واپس ادائیگی کے ذمہ داران کا تعین بھی منصوبہ کی منتقل سے از سر نو ہونے کے امکانات ہیں. تین کنٹریکٹرز عدالت میں‌ موجود ہیں جن کی ذمہ داری بھی کسی کو لینی ہو گی.

انکے مطابق یہ ایک ایسا سراب بن چکا ہے جس میں‌جو بھی ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرے گا وہ دھنستا ہی چلا جائے گا.

عوام علاقہ چھوٹا گلہ ایک طویل عرصہ سے سراپا احتجاج ہیں. اہل علاقہ کا یہ کہنا ہے کہ ہم سے قیمتی اراضی انتہائی سستے داموں‌لی گئی. ہمیں‌امید تھی کہ یونیورسٹی کی تعمیر کے بعد یہاں‌کاروبار کے نئے مواقع کھلیں گے. علاقے میں‌خوشحالی آئےگی. لیکن الٹا بربادی کا عمل شروع ہو گیا. کیمپس کے احاطہ میں‌ منشیات فروشی ہو رہی ہے. کنسٹرکشن کا سامان چوری ہو رہا ہے. اہل علاقہ گزشتہ تیرہ سال سے اس منصوبہ کے منتظر ہیں. لیکن یہ تعمیر اب ایک عجوبہ بن چکی ہے. تاہم اہل علاقہ نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر تعمیراتی عمل مکمل کیا جائے اور تاخیر کے ذمہ داران کا تعین کرتے ہوئے انکے خلاف کارروائی کی جائے.