کروٹ ڈیم: سستی بجلی،واٹر یوز چارجزاور ملازمت تو درکنار، ڈیم کا نام اور سوئچ یارڈبھی نہ ملا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی مشرقی سرحد کو پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر سے الگ کرنے والے دریائے جہلم پربننے والے کروٹ ہولاڑ ڈیم سے پیدا ہونیوالی بجلی سے صوبہ پنجاب کو تو ایک روپیہ فی یونٹ تک بجلی فراہم کی جائے گی۔ لیکن پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کو مذکورہ ڈیم سے پیدا ہونیوالی بجلی سے کیا حاصل ہو گا۔ اس سے متعلق کسی معاہدے اور تحریر میں کچھ ذکر نہیں ہے۔ جبکہ مقامی حکومت کے مطابق ابھی معاہدہ ہونا باقی ہے۔

کشمیر سے نکلنے والے دریائے جہلم پر دونوں اطراف درجن سے زائد پن بجلی کے چھوٹے اور بڑے ٹیموں کے منصوبے تعمیر ہو چکے ہیں یا زیر تعمیر و زیر بحث ہیں۔ لیکن دونوں اطراف ان ڈیموں سے پیدا ہونے والی بجلی اور پانی کے استعمال سے پاکستان اور بھارت کی حکومتیں کشمیریوں کو کوئی حصہ نہیں دے رہی ہیں۔ بلکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے زیر تکمیل اور تکمیل شدہ ڈیموں کے مقامی حکومت سے معاہدہ جات بھی تاحال نہیں ہو سکے ہیں۔

منگلا سمیت ان تمام پن بجلی منصوبہ جات کے سوئچ یارڈ اور گرڈ اسٹیشن بھی پاکستان کے علاقوں میں لگائے گئے ہیں۔ جبکہ تمام ڈیموں کے نام بھی پاکستان کے علاقوں کے نام پر ہی رکھے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نصف سے زائداراضی پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی استعمال ہوگی، انفراسٹرکچر اس خطے کاتباہ ہوگا، ماحولیاتی تباہی کے اثرات براہ راست اس خطے پر پڑھیں گے اور سب سے بڑھ کر دریا کا پانی اس علاقے سے آتا ہے۔ اس سب کے باوجود کچھ بھی اس علاقے کے لوگوں کو میسر نہیں آسکے گا۔

علاقہ مکینوں کے مطابق اراضی کے حصول کے وقت ان کے ساتھ یہ وعدہ کیاگیا تھا کہ منصوبہ کی تعمیر میں استعمال ہونے والے مزدور اور منصوبے کی تکمیل کے بعد اس میں پیدا ہونیوالی ملازمتوں میں مقامی آبادیوں کو ترجیح دی جائیگی۔ لیکن منصوبے کے تعمیراتی کام میں ہی پنجاب اور پاکستان کے دیگر صوبوں سے مزدوروں کو بھرتی کیاگیا ہے اور مقامی آبادی بالخصوص پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے لوگوں کو مکمل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر سے پچیس سو میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا ہو رہی ہے، پانچ ہزار میگاواٹ سے زائدکے منصوبہ جات زیر تکمیل ہیں،جبکہ اس خطے کی کل ضرورت محض چار سو میگاواٹ کے لگ بھگ ہے۔ لیکن وفاق کی جانب سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت کو 2.57روپے فی یونٹ بجلی فراہم کی جاتی ہے۔ جبکہ صارفین کو وہ بھی واپڈا کے ٹیرف کے مطابق تیرہ سے بیس روپے فی یونٹ فراہم کی جاتی ہے۔

ڈیم کی تعمیر کیلئے معاہدہ جات
28ستمبر 2016ء کو پاکستان کی وفاقی حکومت اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے چینی گروپ آف کمپنیز کے ساتھ تعمیلی معائدہ پر دستخط کئے۔ اس معائدہ کے تحت کروٹ پاور کمپنی نومبر2020ء تک اس منصوبہ کی تکمیل کرے گی۔ جبکہ اگلے 30سال تک منصوبے کا تمام انتظام و انصرام اپنے پاس رکھتے ہوئے 7.57پیسہ فی یونٹ کے حساب سے پاکستان کی وفاقی حکومت اسلام آبادکو بجلی مہیا کرے گی۔ وفاق یہ بجلی 1روپیہ فی یونٹ کے حساب سے پنجاب کی صوبائی حکومت کو فروخت کرے گا۔ جبکہ 30سال بعد یہ اثاثہ پاکستان کی وفاقی حکومت کی ملکیت میں چلا جائے گا۔

20اپریل 2015ء کو چین کے صدر ژی جن پنگ نے پاکستان کا دورہ کیا۔سلک روڈ فنڈ، چائنا تھری گورجز کارپوریشن(CTG) اورپاکستان پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (PPIB) نے اس دوران دونوں ممالک کے سربراہان کی موجودگی میں پاکستان میں ہائیڈرو پاور کی صلاحیت بڑھانے کے لئے مشترکہ یادداشت پر دستخط کئے۔ سلک روڈ فنڈ اور سی ٹی جی پاکستان میں ”کلین انرجی“ نامی منصوبہ جات پرسرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ سلک روڈ فنڈ کے مطابق کل 46بلین ڈالرز کے فنڈز میں سے کروٹ پاور پراجیکٹ پہلی سرمایہ کاری ہے۔

ڈیلی ٹائمز کی 24جنوری 2020ء کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے پر 1.42بلین ڈالرز، نیو یارک ٹائمز کے مطابق 1.64بلین ڈالرز، ماٹ میکڈونلڈ کی جولائی 2015ء کی رپورٹ کے مطابق 1.68بلین ڈالرز جبکہ cpec.gov.pkکے مطابق سرمایہ کاری کا حجم تقریبا 1.7بلین ڈالرز ہے۔ سرمایہ کاری ورلڈ بنک کے ادارے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے ذریعے کی جائے گی۔کرووٹ ہائیڈرو پراجیکٹ دریا پر بنایا جانے والا 720میگا واٹ پن بجلی کا منصوبہ ہے۔ یاد رہے کہ سلک روڈ فنڈ (Silk Road Fund)سی پیک (چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور) کا ہی ایک جزو یا حصہ ہے۔

کروٹ پاور کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ(KPCL (دریائے جہلم پر 720میگاواٹ کاہائیڈروپاور پراجیکٹ تعمیر کر رہی ہے۔ یہ کمپنی چائنا تھری گورجز کارپوریشن(CTG) کے ماتحت کام کرتی ہے۔ پراجیکٹ کی اپنی ویب سائٹ www.karotpower.com کے مطابق اس منصوبے سے اوسطاً سالانہ 3206گیگا واٹ ہاؤر اور ماٹ میکڈونلڈ کی رپورٹ کے مطابق 3436گیگا واٹ ہاؤر بجلی پیدا ہو گی۔

یاد رہے کہ کروٹ ہائیڈرو پاورپراجیکٹ 1980ء سے زیر غوررہا ہے۔ 1983ء اور 1994ء میں بالترتیب کینیڈین اور جرمن کمپنیوں کی طرف سے اس پاور پراجیکٹ پر رپورٹس کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان کو سرمایہ کاری کی پیشکش بھی کی گئی تھی۔ تاہم اس پیش کش پر حکومت پاکستان نے کوئی خاص ردعمل نہیں دیا تھا۔

متاثر ہونے والی آبادی اور گاؤں
جہلم دریائے سندھ میں گرنے والے دریاؤں میں سب سے بڑا دریا ہے۔ یہ دریا پاکستان کے ضلع راولپنڈی کو مغرب اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو مشرق کی طرف تقسیم کرنے والی بارڈر کی حیثیت رکھتا ہے۔ کروٹ منصوبہ اسلام آباد سے 65کلو میٹر اور منگلا ڈیم سے 74کلو میٹر کی دوری پر مشرق میں دریائے جہلم پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔

کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لئے دریائے جہلم کے آس پاس2500ایکڑ رقبہ استعمال کیا جائے گا۔ منصوبہ کے ذریعے زمین اور گھر زیر آب آنے کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والا گروہ، منصوبہ کے زیر اثرآنے سے اپنی زمین اور جائیداد سے محروم ہو جانے والا گروہ،کمزور یا غیرمحفوظ گروہ(Vulnerable Group) جن میں بڑی تعداد میں بچے، بوڑھے، معذور، گھریلو خواتین اور مریض وغیرہ شامل ہیں اور بڑی تعداد میں گجر خاندان کی آبادی خصوصی طور پر متاثر ہوں گے۔

ڈیم منصوبہ میں پاکستان کے ضلع راولپنڈی،تحصیل کہوٹہ اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے دو اضلاع کوٹلی اور سدھنوتی کے 16 گاؤں متاثر ہوں گے۔ جن میں دریا کے بہاؤ کی طرف دائیں جانب راولپنڈی کہوٹہ کے کروٹ، گوراہ روجن،بیور،اوترنا، سوہا،ناڑ، بندلا،تھون، پرندلاواقع ہیں۔ جبکہ دریاکے بائیں جانب پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ضلع کوٹلی کے گاؤں ہولاڑ اور ضلع سدھنوتی کے تہریاڑ،آئن پانا، سیاہ پورہ، خان آباد، پتن شیر خان اور آزاد پتن شامل ہیں۔

کروٹ اور ہولاڑ کے زیر آب آنے کی وجہ سے 74 خاندانوں کے 700سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ جبکہ دیگر گاؤں کے112خاندانوں کے تقریباً ایک ہزار افراد کو اپنی زمینوں سے محروم ہونا پڑے گا۔78کمرشل انٹرپرائزز، دو سکول،چار مساجد، ایک پولیس چوکی، ایک محکمہ جنگلات کی چوکی،دو کنکریٹ پل،دو سسپنشن برج، 1100کلو واٹ کے کچھ کھمبے اور ایک ہائیڈرو لاجیکل گیجنگ اسٹیشن(پانی ماپنے والا سٹیشن) متاثر ہو گا۔

تقریباً 9کلو میٹر آزاد پتن کہوٹہ روڈ متاثر ہونے سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے اضلاع پونچھ اور سدھنوتی کو دارالحکومت اسلام آباد تک رسائی میں مزید مشکل پیش آ رہی ہے، 3کلو میٹر کوٹلی،کروٹ، کہوٹہ روڈ کے متاثر ہونے سے ضلع کوٹلی کو بھی اسلام آباد تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں پھل دار اور دیگر مختلف قسم کے درخت، جانور اور مچھلیوں کے متاثر ہونے سے ماحول اور زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

اس منصوبے میں مندرجہ ذیل حصے شامل ہیں:

بند(Dam):
یہ ڈیم اپنی زمینی بنیاد سے 95.5 میٹر اونچا ہو گا۔

جھیل(Reservoir):
یہ ڈیم سے بہاؤ کے الٹ سمت میں 27کلو میٹر لمبی، 320سے 500 میٹر تک چوڑی جھیل ہوگی۔ اپنے مکمل سپلائی لیول پر اس میں 165ملین کیوبک میٹر پانی سٹور ہوگا۔

آبی مدخل (Intake):
سٹوریج سے پانی کو کھینچنے کے لئے بنائے گئے اس ان ٹیک میں 1248.4فی مربع کیوبک میٹر پانی کی گنجائش ہے جبکہ یہ سطح سمندر سے تقریباً431.5میٹر بلندی پر واقع ہے۔

داخلی سرنگیں (Headrace Tunnels):
ان ٹیک سے پانی کو پاور ہاؤس کی طرف لے جانے کے لئے 4عدد سرنگیں بنائی جائیں گی جو پانی کو تیزی سے پاور ہاؤس منتقل کریں گی۔

پاور ہاؤس، Power House :
یہ 182میگاواٹ کے 4فرانسیسی ٹربائن، جنریٹرز اور بجلی پیدا کرنے کے لئے ضروری دیگر آلات اور مشینوں پر مشتمل ہو گا۔ یہ ڈیم سے تقریباً 650میٹر بہاؤ کی جانب جب کہ موجودہ کیروٹ برج سے 300 میٹر بہاؤ کے الٹ دریائے جہلم کی دائیں جانب راولپنڈی کہوٹہ کی حدود میں بنایا جائے گا۔

اخراجی سرنگ(Tailrace):
یہ پاور ہاؤس سے استعمال کے بعد پانی کو دوبارہ قدرتی بہاؤ میں ڈالنے کے لئے استعمال ہو گا۔ پاور ہاؤس کے دریا کے کنارے کے ساتھ ہونے کی وجہ سے اس کی لمبائی بھی مختصر ہو گی۔

آب گزر(Spillway):
دریا کے دائیں جانب کیروٹ کی حدود میں چھ دروازروں پر مشتمل یہ آب گزر ڈیم کی ضرورت سے زائد پانی کے بہاؤ، سیلاب کی صورت میں زائد پانی کے اخراج اور ڈیم کی مرمت کے دوران پانی کے بہاؤ کے لئے استعمال کیا جائے گا۔

اخراجی دروازے(Sediment sluicing gates):
پانی کے بہاؤ کے لئے بنائے گئے دروازروں کے نیچے 2 دروازے (پانی کو روکنے کی وجہ سے جمع ہونے والے)ملبے کو نکالنے کے لئے لگائے جائیں گے۔

آبی رخ تبدیل کرنے والی سرنگیں (Diversion Tunnels):
ان ٹیک اور ڈیم کے درمیان3آبی سرنگیں بنائی جائیں گی جنہیں ڈیم کی تعمیراور پاور ہاؤس کی مرمت کے دوران بند کیا جا سکے گا۔

عارضی ٹینک نما ڈیم(Coffer Dam):
یہ چھوٹے ڈیم تعمیر کے لئے عارضی سٹوریج کے طور پر بنائے جائیں گے جنہیں بعد میں مستقل ڈیم کے اندر ضم کر دیا جائے گا۔

سوئچ یارڈ /اوورہیڈ لائن(Switchyard and overhead line):
500کلو واٹ کاایک سوئچ یارڈ دریا کے دائیں جانب لگایا جائے گا۔

Environmental flow release:
آبی زندگی اور ماحول کو بچانے کے لئے کم از کم ضروری مستقل بہاؤ کے لئے پاور ہاؤس کے نزدیک آبی رخ بدلنے والی سرنگوں میں سے ایک کے اندر1 میٹر پائپ لگایا جائے گا۔

مچھلیوں کے لئے گزرگاہ Fish passage:
مچھلیوں کے لئے کوئی محفوظ گزرگاہ اس منصوبے میں شامل نہیں کی گئی۔

رسائی کے لئے سڑکیں Access roads:
منصوبہ کے مختلف حصوں کے درمیان اور منصوبہ تک رسائی کے لئے سڑکیں اور پل تعمیر کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ متاثر ہونے والی سڑکوں اور پلوں کے موقع کو بھی تبدیل کیا جائے گا۔

جبکہ ان سب حصوں کے علاوہ منصوبہ میں ایک ٹرانسمیشن لائن بھی شامل ہے۔ اس لائن کے ذریعے بجلی کو نیشنل گرڈ اسلام آباد میں برآمد کیا جائے گا۔ جبکہ سوئچ یارڈ سے نیشنل گرڈ کے درمیان ایک سب اسٹیشن بھی بنایا جائے گاجس میں وولٹیج کو بڑھانے کے لئے ٹرانسفارمرز کا استعمال کیا جائے گا۔ اس ٹرانسمیشن لائن کے لئے این ٹی ڈی سی (نیشنل ٹرانسمیشن ڈسپیچ کمپنی) الگ سے پلان بنائے گی۔

مزدوروں کی شکایات اور مطالبات
کروٹ پراجیکٹ پر پچیس سو سے زائد ہنر مند، نیم ہنر مند اور غیر ہنر مند مزدور کام کرتے ہیں۔ جنہیں یونین سازی اور لیبر قوانین کے منافی سلوک کا سامنا ہے۔ مزدوروں کا مطالبہ ہے کہ دیگر منصوبہ جات پر کام کرنے والے مزدوروں کی تنخواہوں، مراعات اور دیگر سہولیات کے برعکس یہاں مزدوروں کو کوئی سہولت اور قانونی تحفظ موجود نہیں ہے۔ تنخواہوں کی ادائیگی بھی کیش ان ہینڈ کی صورت کی جاتی ہے، کوئی رسید بھی نہیں دی جاتی۔

یونین کے عہدیداران کو دھمکایا جاتا ہے، مزدوروں کو یونین کے تحت مطالبات کرنے پر نوکری سے برطرفی جیسی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یونین کی طرف سے چالیس سے زائد مطالبات رکھے گئے ہیں، جن کی منظوری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ عہدیداران کے مطابق لیبر کورٹ کے ذریعے یونین کا حق لینے کے باوجود یونین کے سی بی اے سرٹیفکیٹ کی راہ میں رکاوٹ ڈالی گئی ہے۔

اس کے علاوہ مقامی آبادیوں کا مقامی مزدوروں اور ڈیم کے نتیجے میں متاثر ہونے والی آبادیوں کو ترجیحی روزگار فراہم کرنے کا مطالبہ بھی پورا نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے اہل علاقہ میں بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ مقامی رہنماؤں کے مطابق انہوں نے متعدد مرتبہ اس مسئلہ پر احتجاج بھی کیا ہے۔ آنیوالے دنوں میں احتجاج کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔