بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں دو آپریشنز کے دوران شوپیاں کے بنڈپاوا امام صاحب میں جمعے کو صبح دوبارہ فائرنگ شروع ہوئی ہے۔ اس تصادم میں 5 مبینہ عسکریت پسندوں کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق حزب المجاہدین اور لشکر طیبہ سے ہے۔
خبر رساں ادارے ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ضلع شوپیاں کے بنڈپاوا امام صاحب اور ضلع پلوامہ کے میج پانپور میں عسکریت پسند مخالف آپریشنز میں اب تک8عسکریت پسندمارے جا چکے ہیں۔ لیکن سرکاری طور پر اس کی تصدیق ہونا باقی ہے۔
ساوتھ ایشین وائرکے مطابق عسکریت پسندوں کی شناخت معلوم کی جارہی ہے جبکہ دونوں علاقوں میں آپریشن جاری ہے۔
یہ دونوں تصادم گزشتہ روز شروع ہوئے تھے۔ میچ پامپور میں عسکریت پسند ایک مقامی جامع مسجد میں چھپے ہوئے تھے جس کے بعد فائرنگ بند ہوئی تھی۔ اس تصادم میں 3عسکریت پسند مارے گئے تھے ۔ پولیس کے مطابق ان کا تعلق جیش محمد سے ہے۔ اس وقت علاقے میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے تلاشی مہم جاری ہے۔ذرائع کے مطابق عسکریت پسندوں کی موجودگی کے متعلق مصدقہ اطلاع موصول ہونے پر فوج ، سی آر پی ایف اور پولیس کی ایک مشترکہ ٹیم نے میج پانپور اور بنڈپاوا امام صاحب کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کردیا تھا۔
دریں اثنا گذشتہ روز حکام نے احتیاطی طور پر شوپیاں اور اونتی پورہ میں موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل کردی ہیں۔ نیز حساس مقامات پر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری بھی تعینات کی ہیں۔
بھارتی زیر انتظام کشمیر میں 16جون کو بھی شوپیان میں آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم میں تین نوجوان کشمیری عسکریت پسند مارے گئے تھے ۔اس سے قبل ضلع شوپیان میں تین الگ الگ مقابلوں میں حزب الجاہدین کے ایک اعلی کمانڈر سمیت 14 عسکریت پسند مارے گئے تھے۔












29 تبصرے “جنوبی کشمیر: فورسز آپریشن کے دوران جھڑپیں، 8 مبینہ عسکریت پسند نوجوان مارے گئے”