جنوبی کشمیر: دو مقامات پر آپریشن کے دوران دو مبینہ کشمیری عسکریت پسند مارے گئے

بھارتی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں‌جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور شوپیاں اضلاع میں آپریشن کے دوران مبینہ کشمیری عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جاری تصادم میں اب تک دو مبینہ عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے ساوتھ ایشین وائر کے مطابق بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر کی پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ضلع شوپیاں کے بنڈپاوا امام صاحب اور ضلع پلوامہ کے میج پانپور میں جاری عسکریت پسند مخالف آپریشنز میں عسکریت پسندوں کی شناخت معلوم کی جارہی ہے جبکہ دونوں علاقوں میں آپریشن جاری ہے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ضلع شوپیاں کے بنڈپاوا امام صاحب میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر شوپیاں پولیس، فوج کی 44 آر آر اور سی آر پی ایف نے مذکورہ علاقہ میں جمعرات کو دوپہر کے وقت کارڈن اینڈ سرچ آپریشن شروع کیا۔انہوں نے کہا کہ سرچ آپریشن کے دوران وہاں موجود عسکریت پسندوں نے سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کی۔ جوابی فائرنگ کے بعد طرفین کے درمیان مسلح تصادم چھڑ گیا

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سیکورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ میج علاقہ میں دو عسکریت پسند ایک مقامی جامع مسجد میں چھپے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے آپریشن نے طول پکڑ لیا ہے۔دریں اثنا حکام نے احتیاطی طور پر شوپیاں اور اونتی پورہ میں موبائل انٹرنیٹ سروسزمعطل کردی ہیں۔ نیز حساس مقامات پر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری بھی تعینات کی ہیں۔

بد ھ کی شام اننت ناگ میں سیکورٹی فورسز نے ریڈوانی کولگام سے تعلق رکھنے والے مبینہ حزب المجاہدین کے ایک کارکن کو بھی گرفتار کر لیا۔

بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں 16جون کو بھی شوپیان میں آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم میں تین نوجوان کشمیری عسکریت پسند مارے گئے ۔

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ضلع پلوامہ میں 2000سے اب تک200مختلف واقعات میں 377افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔جبکہ1008واقعات میں917عسکریت پسند, 440شہری اور58نامعلوم افراد مارے گئے ۔ضلع میں اسی عرصے میں315سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی مارے گئے۔

بھارتی زیر انتظام جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں126کشمیریوں کو ہلاک کیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12، مارچ میں 13، اپریل میں 33 اور مئی میں 16کشمیریوں کو ہلاک کیا گیا۔جبکہ 29سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے60واقعات ریکارڈ کئے گئے۔

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق اس سال دھماکوں کے 16واقعات میں21شہریوں اور ایک سیکورٹی اہلکار کی اموات ہوئیں جبکہ14سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020میں 62مختلف واقعات میں 129افراد کو گرفتار کیا گیا۔

گزشتہ ایک ماہ میں حزب المجاہدین کے 4 کمانڈر مارے گئے ہیں جن میں ریاض نائکو ، ڈاکٹر سیف اللہ ، جنید احمد صحرائی اور فاروق احمد بھٹنالی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق رواں برس تاحال 38 واقعات میں 94 عسکریت پسند ہلاک کئے گئے ہیں جن میں حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر ریاض نائیکو سمیت دیگر پانچ کمانڈر شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں 250 کے قریب عسکریت پسندوں کے حمایتی بھی حراست میں لئے ہیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ معرکہ آرائیوں میں تیزی کا باعث عسکریت پسندوں کے معاونوں کی گرفتاری ہے جبکہ انٹرنیٹ ڈیٹا اور فوبائل فون کے استعمال پر کڑی نگرانی بھی ان کاروائیوں میں کافی اہم رول ادا کرتے ہیں۔

گزشتہ چھ مہینوں میں سیکیورٹی فورسز نے بڑی کاروائیاں انجام دی ہے تاہم لوگوں کی جانب سے تصادم آرائیوں کے بعد ہونے والے احتجاج اور پتھراوا کے واقعات میں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔سیکیورٹی فورسز نے کووڈ 19 لاک ڈان کی آڑ میں تصادم کے مقامات پر پتھراوکے واقعات اور احتجاج کو روکنے کے لئے ایک نیا منصوبہ سامنے لایا جس کے تحت کسی بھی مقامی ہلاک شدہ عسکریت پسند کی لاش کو لواحقین کے سپرد کرنے کے بجائے ان کو بارہمولہ یا گاندبل کی دور دراز پہاڑیوں میں دفنایا جاتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کے پاس اسلحہ کی کمی دیکھی جا رہی ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی نگرانی کڑی ہوئی ہے۔