پاکستان کے وفاقی بجٹ میںپاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے ایف بی آر میں حصص کے مطابق مکمل بجٹ مختص کرنے کی بجائے مبینہ طور پر 19 ارب روپے کی کٹوتی کر دی گئی ہے. یوں وزیر خزانہ سردار نجیب کے مطابق 74 ارب کی بجائے 55 ارب روپے کا اعلان کیا گیا ہے جس کی وجہ سے مقامی حکومت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا.
وزیر خزانہ ڈاکٹر نجیب نقی کا کہنا ہے کہ ہمیںاب بجٹ بنانے میںمشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، اس سے قبل 2.4 فیصد کے فارمولا کے تحت ہمیںایف بی آر کے محصولات میںسے حصہ ملتا تھا، جبکہ گزشتہ دور حکومت میںجب بلوچستان کو بھی ایف بی آر سے 9.4 فیصد حصص فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت کے مطالبہ پر وفاقی حکومت نے حصص کے تناسب میں اضافہ کرتے ہوئے یہ 3.68 فیصد مقرر کیا تھا. گزشتہ دو سال سے اسی تناسب سے وفاق سےحصص پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت کو فراہم کئے جا رہے تھے. اس مرتبہ بھی اس فارمولا کے تحت ہمارا حصہ 74 ارب روپے بنتا تھا لیکن 55 ارب روپے کا بجٹ الاٹ کئے جانے کی وجہ سے ہمیںبجٹ بنانے میںمشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا.
پریس سیکرٹری راجہ وسیم احمد کے مطابق پاکستانی زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم فاروق حیدر نے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے طے شدہ فارمولا 3.68 کے تحت 74 ارب روپے بجٹ الاٹ کرنے کی درخواست کی تھی. لیکن وفاق کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ پچاس ارب روپے پاکستانی کشمیر کو دے سکتے ہیں، مقامی حکومت کا مطالبہ اس وقت بھی طے شدہ فارمولا کے تحت پورا حصہ تھا اور اب بھی مطالبہ یہی ہے کہ طے شدہ فارمولا کے تحت 74 ارب روپے وفاقی بجٹ سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت کو بجٹ الاٹ کیا جائے.
پریس سیکرٹری کا صحافی دانش ارشاد سے گفتگو کے دوران کہنا تھا کہ ابھی وفاقی بجٹ کی تمام تر تفصیلات سامنے نہیںآئی ہیں، بجٹ دستاویزات ملنے کے بعد اس پر مزید بات کی جا سکتی ہے. پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت کو اس بار اچھا بجٹ ترتیب دینے کی توقع تھی. کشمیر کونسل سے مالیاتی اختیارات ملنے کے بعد کونسل ٹیکس ریونیو میں ایک بڑا اضافہ دیکھنے میںآیا تھا، کونسل نے ایک سال میںدس ارب روپے ریونیو اکٹھا کیا تھا جبکہ مالیاتی اختیارات حکومت کو منتقل ہونے کے بعدجمع ہونے والا ریونیو انیس ارب روپے سے زیادہ ہے.انکا کہنا تھا کہ وفاق کی جانب سے بجٹ میںکٹوتی کے باوجود 125 سے 130 ارب روپے کے درمیان کی مالیت کا بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے.
تاہم دوسری طرف پاکستان زیر انتظام جموںکشمیر کی حکومت پر چودہویں ترمیم کی تلوار بھی لٹک رہی ہے. حکومتی ذرائع کے مطابق وفاق کی جانب سے چودہویںترمیم کا ڈرافٹ مقامی حکومت کو موصول ہو چکا ہے اور رواں مالی سال کے دوران ہی چودہویںآئینی ترمیم کرنے کے حوالے سے وفاق کا شدید دباؤ ہے. مذکورہ ترمیم کے ذریعے پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت سے مالیاتی اختیارات سمیت دیگر مضامین کشمیر کونسل کو منتقل کئے جانے کی تجاویز دی گئی ہیں.
سینئرصحافی ملک عبدالحکیم کشمیری کی رپورٹ کے مطابق یکم جون 2018ء کو کونسل کے اختیارات مقامی حکومت کو منتقل ہونے کے باوجود دو سال کے عرصہ میںفاروق حیدر حکومت کونسل سیکرٹریٹ میں184 مستقل اور عارضی ملازمین کے مستقبل کا کوئی فیصلہ نہیںکر پائی اور 80 کروڑ روپے سے زائد بجٹ انکو بغیر کام کئے تنخواہ کی ادائیگی پر صرف کیا گیا. اس کے علاوہ کونسل سیکرٹریٹ میںڈیپوٹیشن پر تعینات 80 سے زائد ملازمین کو متعلقہ محکمہ جات میںواپس بھی نہیںبھیجا جا سکا.
مالی سال 2019-20میں کونسل کے زیر سایہ محکموں محکمہ حسابات اور ان لینڈ ریونیو کم وبیش ایک ارب 24 کروڑ روپے اور مالی سال 2020-21میں ایک ارب 53 کروڑ روپے کی تنخواہوں اور مراعات کی مد میں ادائیگی کی گئی۔محکمہ حسابات اور ان لینڈ ریونیو کے ملازمین کی تعداد 1084ہے ۔یہ دونوں محکمے مقامی حکومت کے دائرہ اختیار میں آچکے ہیں تاہم وزیر اعظم فاروق حیدر اپنے دعوؤں کے برعکس کونسل سیکرٹریٹ کا بوجھ اتارنے میں ناکام رہے۔ عبدالحکیم کشمیری کے مطابق یہی وجہ ہے کہ کونسل سیکرٹریٹ کے بعض بااثر عہدیدار تیرہویںترمیم کے خلاف موثر لابنگ کرنے میںکامیاب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں.
اس کے علاوہ پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیرکی حکومت تیرہویںترمیم کے ذریعے حاصل ہونے والے اختیارات پرمناسب قانون سازی کرنے اور منصوبہ بندی کرنے میںبھی ناکام رہی ہے. جس کیوجہ سے بے شمار مسائل بھی جنم لے رہے ہیں، جو طاقت ور حلقوںکو تیرہویںترمیم کے ذریعے حکومت کو حاصل مالی اور قانون سازی کے اختیارات واپس وفاق کے زیر اثر ادارے کونسل سیکرٹریٹ کو تفویضکرنا چاہتے ہیں.
عبدالحکیم کشمیری نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ چودہویںترمیم کے حوالے سے وزیراعظم فاروق حیدر پر شدید دباؤ ہے. طاقت کے مراکز کے علاوہ وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے بھی فاروق حیدر سے بغیر لگی لپٹی کونسل کے قانون سازی کے اختیارات بحال کرنے کی بات کی ہے.
14ویں ترمیم کے ذریعے قانون سازی کے اختیارات واپس لے کر کونسل کے ذمہ داران بعد ازاں کوئی بھی قانون سازی کر کے ٹیکس کی وصولی کے اختیارات دوبارہ حاصل کر لیں گے جس سے پاکستانی زیرانتظام کشمیر کی حکومت کو فی الوقت سالانہ 12سے 15ارب اور چند سال بعد جب میگا ہائیڈل پراجیکٹ مکمل ہوں گے سالانہ 60سے 70ارب روپے کی رقم سے دست بردار ہونا پڑے گا۔












I don’t think the title of your article matches the content lol. Just kidding, mainly because I had some doubts after reading the article.