ایک سال کا رینٹ بقایا: ریسکیو1122 راولاکوٹ کا دفتر ڈسٹرکٹ کمپلیکس منتقل نہ ہو سکا

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں‌ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کےلئے قائم ادارے ریسکیو 1122 کا راولاکوٹ دفتر تاحال ڈسٹرکٹ کمپلیکس میں‌موجود سرکاری دفاترمیں‌منتقل نہیں‌ہو سکا، جبکہ مالی بحران کی وجہ سے قیمتی مشینری بھی تباہ ہو رہی ہے.

2005 کے زلزلہ میں‌تقریبا تمام ہی دفاتر اور سرکاری عمارتیں بری طرح‌متاثر ہو گئی تھیں. تعمیر نو و بحالی کے منصوبہ جات میں‌راولاکوٹ کا ڈسٹرکٹ کمپلیکس بھی شامل تھا، جس کی تعمیر کے بعد تمام سرکاری دفاتر ڈسٹرکٹ کمپلیکس میں‌منتقل ہو گئے ہیں. لیکن جب تک ڈسٹرکٹ کمپلیکس تعمیر ہوتا تب تک اکثریتی سرکاری دفاترنجی عمارات میں‌موجود رہے.

ڈسٹرکٹ کمپلیکس کا تعمیراتی کام مکمل ہونے کے بعدبھی کچھ محکمہ جات کے دفاترڈسٹرکٹ کمپلیکس میں‌منتقل نہیں‌ہو سکے، ان میں‌سے ایک ادارہ ہنگامی صورتحال نمٹنے کےلئے کام کرنے والا ریسکیو 1122 کا ہے جس کا دفتر تاحال راولاکوٹ ڈسٹرکٹ کمپلیکس میں‌منتقل نہیں‌ہو سکا ہے.

ادارہ کے اندرونی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ ایک سال کا بلڈنگ رینٹ ادا نہیں‌کیا جا سکا ہے جسکی وجہ سے مالک بلڈنگ نے سامان منتقل کرنے سے روک رکھا ہے، جبکہ ادارہ میں‌مطلوبہ سٹاف نہ پورا نہیں‌ہے. کروڑوں‌روپے کی مشینری آپریٹرز نہ ہونے کی وجہ سے آج تک سٹارٹ بھی نہیں‌ہو سکی، ادارہ کے پاس کوئی غوطہ خور، یا ہنگامی حالات سے نمٹنے کےلئے تربیت یافتہ سٹاف موجود نہیں‌ہے، اس لئے ہنگامی حالات میں ادارہ میں‌موجود سٹاف محض تماشہ دیکھنے کے علاوہ کچھ نہیں‌کر سکتا.

ہنگامی حالات میں‌ریسکیو سرگرمیاں‌کرنے والے ادارے کی ٹیلیفون لائن بھی بلات کی عدم ادائیگی کے باعث کٹ چکی ہے. جس کی وجہ سے ہنگامی صورتحال کی اطلاع بھی مذکورہ ادارہ کے سٹاف کو نہیں‌دی جا سکتی ہے.

سیاسی و سماجی حلقوں‌نے اسے عوام کی زندگیوں‌کے تحفظ اور ہنگامی صورتحال میں‌ریسکیو سرگرمیوں سے متعلق حکومت کی لاپرواہی اور ریسکیو ادارے کے قیام کے نام پر مذاق قرار دیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کرنے اورادارے کی تمام تر ضروریات پوری کرنے کا مطالبہ کیا ہے. تاکہ کسی بھی نوعیت کی ہنگامی صورتحال میں‌ ادارے کی مشینری کو استعمال کرتے ہوئے قیمتیں‌جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے.