نوجوان سپرد خاک: ریسکیو ادارے تماشہ دیکھتے رہے،مقامی نوجوان تیراک کام آئے

راولاکوٹ کے نواحی علاقے متیالمیرہ کے ایک قدرتی تالاب میں‌تیرتے ہوئے ڈوب کر ہلاک ہونے والا نوجوان کوئیاں کھائی گلہ میں‌سپرد خاک کر دیا گیا ہے.

زریاب ریاض‌نامی نوجوان جمعہ کے روز راولاکوٹ کے نواحی علاقے متیالمیرہ میں‌ایک قدرتی تالاب میں تیرنے گیا تھا جہاں‌وہ ڈوب کر ہلاک ہو گیا. نوجوان کی نعش کی تلاش کےلئے راولاکوٹ انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور عسکریت پسند کالعدم تنظیم جماعۃ الدعوۃ کے جوان موقع پرپہنچے لیکن تیراک اور ایمبولینس کا ڈرائیور نہ ہونے کیوجہ سے انتظامیہ اور ریسکیو ادارہ نوجوان کی نعش نکالنے کے حوالے سے کوئی کام نہ کر سکا.

مقامی نوجوان تیراکوں نے چار گھنٹے کی تلاش کے بعد نوجوان کی نعش تالاب سے نکالی جسے ایک پرائیویٹ ایمبولینس میں‌رکھ کر شیخ زید ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں سے اسے آبائی گاؤں کوئیاں‌کھائی گلہ منتقل کیا گیا.

مقامی صحافی امجد حسین امجد کے مطابق زریاب ریاض ایک غریب گھرانے کا چراغ تھا، اسکے والد محمد ریاض‌قصاب کا کام کرتے ہیں. زریاب ریاض کی نماز جنازہ ہفتہ کے روز دن گیارہ بجے ادا کی گئی جس کے بعد اسے آبائی قبرستان میں‌سپرد خاک کر دیا گیا. نوجوان موت کی وجہ سے علاقہ کی فضا سوگوار ہے.

ریسکیو1122 نے تیراک مظفرآباد سے بلائے
ریسکیو 1122 کا ادارہ ہنگامی صورتحال میں‌امدادی سرگرمیاں‌کرنے کےلئے قائم کیا گیا ہے. لیکن ادارے کے پاس کوئی تیراک موجود نہیں‌ہے نہ ہی ایمبولینس کا ڈرائیور موجود تھا کہ اس ادارے کی ایمبولینس پر نعش کو ہسپتال منتقل کیا جا سکے. مذکورہ حادثہ کے فوری بعد جائے حادثہ پر پہنچنے والے اہلکاران نے مقامی آبادی کو بتایا کہ تیراک مظفرآباد سے بلائے گئے ہیں. جو راولاکوٹ پہنچ کر نعش کی تلاش کریں‌گے. جس کے بعد مقامی نوجوانوں‌نے یہ فریضہ خود ہی سرانجام دیا.

مقامی سیاسی رہنما زاہد حسن کا کہنا تھا کہ ریسکیو 1122 کے ادارہ کے پاس امدادی سرگرمیوں‌اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کےلئے کوئی مناسب تربیت یافتہ عملہ موجود نہیں‌ہے. جو یہ ظاہر کر رہا ہے کہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے قائم ادارے کو بھی سیاسی بھرتیوں‌کی نظر کیاگیا ہے. انسانی جانوں‌کی قیمت حکمرانوں‌کے سامنے کیا ہے یہ بھی ریسکیو 1122 کے عملہ کی سرگرمیوں‌سے عیاں ہو رہا ہے. ادارہ کا عملہ صرف جائے حادثہ کی تصاویر بنانے تک محدود ہے .

حمزہ خان کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم کے تیراک ہی استعمال ہوتے ہیں‌جو مظفرآباد سے طلب کئے جاتے ہیں. ریسکیو کی سرگرمیوں‌میں‌انہیں‌استعمال کر کے مقامی سطح‌پر ان کےلئے ہمدردیاں‌پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے. لیکن ریاست کی ذمہ داریاں وہ کس حیثیت سے پوری کرتے ہیں اس کی وضاحت کوئی نہیں‌کرتا اور نہ ہی یہ سوال کسی کو کرنے کی اجازت دی جاتی ہے. لیکن مذکورہ کالعدم تنظیم کے پاس بھی راولاکوٹ میں‌کوئی تیراک موجود نہیں‌ہے.

دوسری جانب موسم گرما میں‌ ضلع پونچھ میں‌تیراکی کے دوران حادثات میں‌مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے. ہر سال درجنوں نوجوان اس طرح‌کے حادثات کا شکار ہوتے ہیں، ہر حادثے کے بعد حفاظتی تدابیر اختیار کرنے اور کچھ تالابوں‌میں تیراکی پرپابندی عائد کرنے کا عمل دہرایا جاتا ہے لیکن یہ بیانات صرف اخبارات تک ہی محدود رہتے ہیں.

گزشتہ سال موسم گرما کے آغاز میں‌ تین نوجوان شاہراہ غازی ملت سے ملحقہ نالے پربنے ایک قدرتی تالاب میں‌تیرنے کی کوشش میں‌ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے، اسی طرح‌نواحی علاقے دھمنی کے ایک قدرتی تالاب میں‌بھی نوجوانوں‌کی متعدد ہلاکتیں‌ہو چکی ہیں. متیالمیرہ میں‌بھی تواتر سے واقعات رونما ہو رہے ہیں، اسی طرح دیگر قدرتی نالوں، تالابوں اور جھیلوں‌میں‌ تیرنے کی کوشش میں‌ڈوبنے والے نوجوانوں کو ریسکیو کرنے کےلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں‌کی گئی ہے. نہ ہی مذکورہ تالابوں‌میں‌تیرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے . جس کی وجہ سے مستقل حادثات رونما ہو رہے ہیں.

سیاسی و سماجی رہنماؤں‌کا کہنا ہے کہ ریسکیو 1122 کے ادارے کو مکمل طور پر تربیت یافتہ عملہ فراہم کیا جائے، گاڑیاں اور ڈرائیورز مہیا کئے جائیں تاکہ ہر حادثہ میں‌وہ ریسکیو سرگرمیاں‌کر سکیں. کالعدم تنظیموں کی اس طرح کی سرگرمیوں‌کے ذریعے حوصلہ افزائی کا ریاستی طریقہ فوری ترک کیا جائے. اور جب تک قدرتی تالابوں‌میں‌ریسکیوں‌کا انتظام نہیں‌ہو جاتا تب تک تیراکی پر مکمل پابندی عائد کی جائے.