بورڈ نے بغیر امتحان پاس کر دیا، نجی سکولوں کی رزلٹ روکنے کی کوشش

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کےلئے نافذ کردہ ہیلتھ ایمرجنسی نے دنیا بھر میں‌انسانوں‌کو معاشی، سماجی اور سیاسی بنیادوں‌پر متاثر کررکھا ہے، لیکن پاکستان اور اسکے زیر انتظام علاقوں کی پسماندگی نے ہیلتھ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد زیادہ پیچیدہ شکل اختیار کر رکھی ہے.

وفاقی اور مقامی حکومتوں‌نے اپنے مادی حالات اور عوامی مسائل کی نوعیت کا تخمینہ لگانے اور تدارک کی حکمت عملی بنائے بغیر ہی ہیلتھ ایمرجنسی کو نافذ کر دیا، جس کی وجہ سے معاشرے کی ایک بڑی اکثریت معاشی سرکل سے باہر ہو گئی. مختلف شعبہ جات سے متعلق ڈیٹا بیس اور ریکارڈ موجود نہ ہونے کی وجہ سے حکومتیں‌ان سے متعلق کوئی منصوبہ بندی ہی نہیں‌کر سکیں.

تعلیم کا شعبہ بھی اسی نوعیت کا ایک شعبہ ہے،جس کےلئے کوئی مربوط حکمت عملی نہ تو وفاقی حکومت ترتیب دے سکی، نہ ہی مقامی حکومتیں‌اور تعلیم کے محکمہ جات کوئی حکمت عملی مرتب کر سکے. اس لئے ایک گومگوں کیفیت میں‌ اساتذہ، والدین، طلبہ اور نجی سکول مالکان نے اپنے اپنے مفادات حاصل کرنے کےلئے انفرادی اور بکھری ہوئی منصوبہ بندیاں‌کرنا شروع کر دیں.

آن لائن تعلیمی سلسلہ شروع کرنیکا فیصلہ کیاگیا، جس پر عملدرآمد نہ ہو سکا تو کچھ اداروں نے سلیبس تیار کر کے طلبہ کو پوسٹ کرنے کا طریقہ اپنایا، جبکہ ایک بڑی اکثریت اب بھی آن لائن تعلیم کے نام پر سوشل میڈیا ایپلیکشن واٹس ایپ کے گروپس بنا کر لاحاصل پریکٹس جاری رکھے ہوئے ہیں.

تعلیمی بورڈز نے وزارت تعلیم کی مشاورت سے امتحانات لینے کی بجائے یہ فیصلہ کیا کہ سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری کلاسوں‌میں زیر تعلیم طلبہ کو اگلی کلاسوں‌میں بغیر امتحان لئے پروموٹ کر دیا جائے اور سابقہ امتحانات کے نمبرات کو سامنے رکھتے ہوئے بغیر امتحان لئے وہی نمبرات اگلی کلاس کے بھی طلبہ کو دیئے جائیں.

تعلیمی اداروں اور والدین کو مشاورتی عمل میں‌شامل کئے بغیر کئے گئے اس فیصلہ کی وجہ سے نجی تعلیمی اداروں‌کو لاک ڈاؤن کے عرصہ کی فیسیں‌وصول نہ ہو سکنے کا اندیشہ لاحق ہو گیا اور انہوں نے ایک جعلی فارم بنا کر والدین کو ارسال کرنا شروع کر دیئے، کہ رزلٹ حاصل کرنے کےلئے مذکورہ فارم بذریعہ سول انتظامیہ بورڈ کو اگر ارسال نہ کیا گیا تو رزلٹ نہیں‌ملے گا، یہ کوشش اس لئے شروع ہوئی تاکہ بغیر امتحان اگلی کلاسز میں‌پروموٹ ہونے والے طلبہ کو اگر بورڈ کا رزلٹ کارڈ ملے گا تو وہ کسی بھی دوسرے تعلیمی ادارے میں‌داخلہ لے سکیں‌گے، اس طرح‌سابقہ تعلیمی ادارہ تین یا چار ماہ کی فیسیں‌وصول نہیں‌کر سکے گا.

جبکہ دوسری جانب داخلہ فیسوں کے نام پربھاری رقوم بٹورنے اور نئے داخلے لینے کےلئے بھی نجی تعلیمی اداروں‌کے مالکان نے اندرون خانہ ایک مہم شروع کر رکھی ہے تاکہ سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری کلاسوں سے بغیر امتحان پاس ہونے والے طلبہ کی ایک بڑی تعداد کو اپنی طرف مائل کر سکیں.

دوسری طرف نجی سکولوں کی تنظیم نے یہ پابندی بھی عائد کر دی ہے کہ مکمل فیس جمع کروا کر عدم اعتراض سرٹیفکیٹ حاصل کئے بغیر کسی بھی طالب علم کو کوئی نجی ادارہ داخلہ نہیں‌ دے سکے گا. یعنی لاک ڈاؤن میں‌جن دیہاڑی دار افراد کا روزگار ختم ہو گیا، اب انکے بچوں‌کو کسی بھی سکول میں‌داخلہ نہیں‌دیا جا سکے گا.

اس طرح خود اپنے بچوں کو تعلیم دینے کی اہلیت نہ رکھنے والے والدین کےلئے یہ پابندی لازمی ہو گئی ہے کہ وہ بچوں کو آن لائن یا بذریعہ مرتب کردہ سلیبس تعلیم دینے کےلئے الگ سے ٹیوشن لگوا کر اضافی اخراجات کریں‌تاکہ انکا سال ضائع ہونے سے بچا سکیں. اگر وہ ایک سال ضائع کرنے کی کڑوی گولی بھی کھاتے ہیں‌تو انہیں رواں تعلیمی سال کی تمام فیسیں ادا کرنی ہی ہونگی، بغیر فیسیں‌ادا کئے وہ تعلیمی ادارہ تبدیل کرنے کے مجاز بھی نہیں‌ہونگے.

غریب والدین سے فیس وصول کرنے کےلئے انتقامی قوانین ترتیب دینے والی نجی سکولوں‌کی تنظیم نے تاحال نجی سکولوں میں‌پڑھانے والے اساتذہ اور سپورٹنگ سٹاف کو تنخواہیں‌دینے کےلئے کوئی قانون نہیں‌بنایا. تمام ہی سکولوں‌نے عید الفطر کی تنخواہیں بھی اساتذہ کو ادا نہیں‌کیں.

اس ساری کیفیت میں‌حکومت بھی والدین، اساتذہ اور چھوٹے سٹاف کی مشکلات پر آنکھیں‌بند کئے نجی سکول مالکان کے مافیہ کا ساتھ دیتی نظر آتی ہے. فیسوں‌میں‌تیس فیصد کمی کرنے کے وفاقی حکومت کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں‌کیا جا سکا، لیکن کسی عملدرآمد نہ کرنے والے کے خلاف کوئی کارروائی بھی نہیں‌ کی جا سکی. بلڈنگ مالکان نے نصف کرایہ جات وصول کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس پر بھی عملدرآمد نہیں‌ہو سکا. نہ ہی حکومت کی جانب سے اس جانب توجہ دی گئی. جن لوگوں‌کا روزگار متاثرہوا انہیں‌بھی کسی قسم کی مالی مدد حکومت کی طرف سے فراہم نہیں‌کی گئی، وفاقی حکومت کی جانب سے بی آئی ایس پی کے ذریعے دی جانے والی محدود رقوم سے متاثرین دووقت کا راشن بھی پورا نہیں‌کر سکے.

تعلیم ایک بنیادی انسانی حق ہے، جس کی فراہمی کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے. آئینی طور پر بھی ریاست سولہ سال تک مفت اور جدید تعلیم دینے کی ذمہ دار ہے. لیکن پاکستان کے زیر انتظام جموں‌کشمیر کی حکومت آبادی کےلئے ناکافی پہلے سے موجود سرکاری تعلیمی اداروں‌کو بھی ختم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے. بیس فیصد کے قریب تعلیمی ادارے ختم کئے جا چکے ہیں. اور یہ سلسلہ بتدریج پچاس سے ساٹھ فیصد تعلیمی اداروں‌کو ختم کرنے تک جاری رکھا جائے گا. اس کے ساتھ ساتھ تعلیم کے کاروبار کی مسلسل حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے. ختم کئے گئے سرکاری تعلیمی اداروں‌کو بھی نجی شعبے کی تحویل میں‌دینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے.

ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیم کا کاروبار اور اسکی سرکاری سرپرستی ایک جرم ہے. حکومتیں‌سرکاری اداروں‌کو جان بوجھ کر تباہ کرتی ہیں تاکہ حکمران طبقات تعلیم کو کاروبار کا ایک ذریعہ بنانے کےلئے لوگوں‌کو نجی تعلیمی اداروں کی جانب راغب ہونے پر مجبور کر سکیں. یہی وجہ ہے کہ آج تک جدید اور یکساں نصاب رائج نہیں‌کیا جا سکا. آبادی کے تناسب سے سکول تعمیر نہیں‌کئے جا سکے. سرکاری اساتذہ کی استعداد کار بڑھانے کےلئے کوئی حکومت عملی بنانے کی بجائے سفارشی اور سیاسی بنیادوں‌پر بھرتیاں‌کر کے شعبہ تعلیم کو برباد کر دیا گیا.

آج بھی تعلیم کے مسئلے کا حل صرف یہی ہے کہ تعلیم کے کاروبار پر پابندی عائد کرتے ہوئے ہر سطح‌پر جدید سائنسی تعلیم کی مفت فراہم یقینی بنانے کےلئے ہنگامی اقدامات کئے جائیں. جدید طریقہ تعلیم کو رائج کیا جائے اور والدین اور اساتذہ کی مشترکہ کمیٹیوں‌کے ذریعے تعلیمی اداروں‌کو چلانے کےلئے اقدامات کئے جائیں تاکہ پورا معاشرہ مل کر نئی نسل کی تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھائے اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کو ممکن بنایا جا سکے.

نجی سکولوں کی طرف سے ترتیب دیا گیا جعلی پروموشن فارم

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: