بھارتی زیر انتظام جموںکشمیر کے ضلع کولگام میںبھارتی فورسز اور عسکریت پسندوںکے مابین انکاؤنٹر میںدو عسکریت پسند مارے گئے ہیں.
بھارتی نشریاتی ادارے کے مطابق آئی جی کشمیر نے بتایا ہے کہ پیر (25 مئی) کو صبح کے اوقات میں ضلع کولگام کے دمہل ہنججی پورہ کے علاقے کھور گاؤں میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین ہونے والے ایک انکاؤنٹر میں دو عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔
پولیس ذمہ دار نے بتایا کہ علاقے میں کورڈ اینڈ سرچ آپریشن (سی اے ایس او) شروع کیا گیا تھا جس میں 34 آر آر ، سی آر پی ایف ، اور کولگام پولیس سمیت فورسز کی مشترکہ ٹیم نے مخصوص اطلاع پر دو سے تین عسکریت پسندوںکا گھیراؤ کر لیا تھا۔
عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے کو کہا گیا ، لیکن انہوں نے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کردی جس کی جوابی کارروائی ہوئی اور اس مقابلے میں دو عسکریت پسند مارے گئے۔
اس سے قبل منگل کے روز بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جنرل پولیس (ڈی جی پی) دلباغ سنگھ نے میڈیا کو بتایا تھا کہ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں کنٹرول لائن کے اس پار تین سو سے زیادہ عسکریت پسند بھارت زیر انتظام جموںکشمیر میںداخل ہونے کی تیاری میںتھے.
انہوںنے الزام عائد کیا کہ کنٹرول لائن سے عسکریت پسندوںکو داخل کرنے کے منصوبے کی معلومات پر سکیورٹی ہائی الرٹ ہے، پاکستان کے پاس کافی تعداد میں عسکریت پسند ہیںجو کنٹرول لائن سے داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، انہوںنے الزام عائد کیا کہ وادی کشمیر میںدراندازی کے چار واقعات ہو چکے ہیں جبکہ راجوری پونچھ کے علاوہ میںبھی اسی طرحکی دو سے تین کوششیںہو چکی ہیں. انہوںنے الزام عائد کیا کہ پاکستانی فوج اور ایجنسیاں بہت سرگرم ہیںاور تربیت یافتہ عسکریت پسند لانچ پیڈ پر تیار ہیں.
ڈی جی پی نے مزید کہا کہ رواں سال بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر میں 30 عسکریت پسندوں کی دراندازی کی اطلاعات ہیں ، جبکہ جموں و کشمیر میں 240 سے زیادہ عسکریت پسند مشرقی علاقوں میں سرگرم ہیں.
تاہم ابھی تک مارے جانے والے عسکریت پسندوںمیںتمام مقامی عسکریت پسند ہی شامل ہیںجو حزب المجاہدین کے نام سے اپنی سرگرمیاںکر رہے تھے.
جبکہ دوسری طرف پاکستان نے متعدد مرتبہ در اندازی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بھارتی الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے.












17 تبصرے “بھارتی کشمیر: کولگام میںجھڑپ کے دوران 2 عسکریت پسند مارے گئے”