تھوراڑ:چندہ کرنے، سیاسی جلسہ کرنیکی پاداش میں‌ مقدمہ درج، قوم پرستوں کا احتجاج

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے ضلع پونچھ کی تحصیل تھوراڑ میں گزشتہ روز پولیس نے بازار میں چندہ جمع کرنے اور جلسہ منعقد کرتے ہوئے ہیلتھ ایمرجنسی کی خلاف ورزی کرنے پر چند سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے. تاہم ابھی کوئی گرفتاری عمل میں‌نہیں‌لائی گئی ہے.

قوم پرست تنظیم کے رہنماء ارباب ایڈووکیٹ نے اسسٹنٹ کمشنر تھوراڑ منور چغتائی اور ایس ایچ او تھوراڑ بابر رفیق پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہےکہ انہوں نے شریف اور باعزت شہریوں‌کی تذلیل کا عمل شروع کر رکھا ہے. جمعرات کے روز ایس ایچ او بابر رفیق نے مجھ پر براہ راست گولی چلانے کا حکم بھی دیا. اس کے علاوہ گرفتار کرنے ، تشدد کرنے کی دھمکیاں‌بھی دیں.

انہوں‌نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اسسٹنٹ کمشنر اور ایس ایچ او رشوت خور ہیں، شہریوں‌کو بلیک میل کرتے ہیں، بلاجواز گرفتاریاں کر کے شہریوں‌کو نہ صرف ہراساں‌کیا جاتا ہے بلکہ ان سے بھاری رشوت بھی لی جاتی ہے.

تاہم دوسری جانب پولیس ذرائع نے تمام تر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ افراد نے ہیلتھ ایمرجنسی کے پیش نظر نافذ العمل دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہ صرف بازارمیں‌چندہ کیا بلکہ چندہ کرنے سے روکے جانےکے بعد انہوں‌نے اجتماع کا انعقاد بھی کیا. جس کے بعد پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر ارباب ایڈووکیٹ سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے.

ایک پولیس ذمہ دارنے شہریوں‌کو ہراساں کرنے اور رشوت کرنے کے الزامات کی مکمل تردید کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بالا فورم پر شکایت بھی کی جا سکتی ہے اور انکوائری بھی کیجا سکتی ہے. پولیس شہریوں‌کے جان و مال کے تحفظ پر مامور ہے اور ہیلتھ ایمرجنسی کے پیش نظر سب ڈویژنل مجسٹریٹ اور مرکز کی پالیسی پرمکمل عملدرآمد کیا جا رہا ہے.

ادھر سوشل میڈیا پر مقدمہ کے اندراج اور سیاسی رہنماء کے ساتھ پولیس کی مبینہ بد سلوکی کی مذمت کی جا رہی ہے اور حکام بالا سے فوری طور پر نوٹس لئے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے.

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: