کشمیری ڈاکٹر محمد عثمان ابوظہبی میں‌کورونا وائرس سے انتقال گئے، تعلق پونچھ سے تھا

پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ضلع پونچھ کی تحصیل ہجیرہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد عثمان ابوظہبی میں‌کورونا وائرس سے انتقال کر گئے ہیں.

ڈاکٹر عثمان گزشتہ 10 سالوں سے متحدہ عرب امارات میں خدمات انجام دے رہے تھے، انھیں کورونا وائرس مثبت ہوا تھا اور انہیں کوویڈ 19 کی علامت ہونے کے بعد ابوظہبی کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ جمعہ کے روز انہوں نے آخری سانس لی اور پیر کو ابوظہبی میں سپرد خاک کردیاگیا۔ کوویڈ 19 کی حفاظتی تدابیر کی وجہ سے انکی میت کو گھر واپس نہیں لایا جاسکا ، احتیاطی تدابیر کی وجہ سے کورونا وائرس کے متاثرین کی وطن واپسی پر پابندی عائد ہے۔

ڈاکٹر عثمان بطور جنرل پریکٹیشنر ابوظہبی کے ایک نجی کلینک میں کام کر رہے تھے۔ انکے لواحقین میں‌ ان کی اہلیہ اور دو بیٹے پانچ اور چار سال کے ہیں۔

گلف نیوز کے مطابق متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر غلام دستگیر نے ڈاکٹر عثمان کی موت کی تصدیق کی اور انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب ڈاکٹر عثمان کی اچانک وفات پر غمزدہ ہیں۔ وہ فرنٹ لائن سپاہی تھے جنہوں نے پوری ذمہ داری کے ساتھ اپنا فرض نبھایا۔ انہوں نے دوسروں کی خدمت کرتے ہوئے اپنی جان قربان کردی۔ کسی بھی ممکنہ مدد کی فراہمی کے لئے ہم ان کے اہل خانہ سے رابطے میں ہیں۔

سفیر نے کہا کہ اہل خانہ میت کو گھر واپس لانا چاہتے ہیں لیکن COVID-19 کے متاثرین کی میت کی وطن واپسی پر پابندی کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کرسکے۔ انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ وہ متحدہ عرب امارات کے حکام کی مدد سے ان کے آجر سے ڈاکٹر عثمان کے تمام التواج واجبات وصول کرنے میں اس خاندان کی مدد کرینگے۔

گلف نیوز کے مطابق ڈاکٹر عثمان کے دوستوں اور ساتھیوں نے انہیں ایک با وقار شخص کی حیثیت سے یاد کیا جو لوگوں کی مدد کے لئے ہمیشہ تیار رہتا تھا۔ انکے قریبی دوست اور سابق ساتھی ڈاکٹر وی ایس این کرن کمار نے کہا کہ وہ ایک نرم مزاج انسان تھے اور اس مشکل وقت کے دوران بھی بہت ایمانداری کے ساتھ اپنا فرض ادا کیا۔ وہ ابوظہبی میں وہ حال ہی میں‌ایک نجی کلینک سے منسلک ہوئے تھے، جہاں‌وہ روزانہ درجنوں مریضوں کا علاج کر رہے تھے۔ بھارت سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر کمار نے کہا کہ ڈاکٹر عثمان اپنے پچھلے آجر سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے سبب ایک مشکل وقت سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اہلیہ اور دو چھوٹے لڑکوں سمیت ان کے کنبے کو تعاون کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا ، “ڈاکٹر عثمان ایک نیک روح تھے ، ٹھنڈے مزاج کے مالک ، انتہائی خیال رکھنے والے اور غیر متنازعہ شخص تھے جنھیں ایک طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔”

ڈاکٹر جمشید خان ، جو متوفی کے رشتہ دار ہیں ، نے گلف نیوز کو بتایا کہ ڈاکٹر عثمان کا تعلق اصل میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں راولاکوٹ سے تھا۔ “وہ اپنے آبائی گاؤں میں بہت مشہور تھے۔ جب بھی وہ چھٹیوں پر گھر واپس جاتے تو وہ اپنے علاقے کے سیکڑوں لوگوں کا مفت علاج معالجہ کرتے تھے۔

انہوں‌نے کہا کہ وہ بالکل میرے بھائی کی طرح تھے۔ حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ وہ ان کے کنبہ کی مدد کریں کیونکہ ان کی اہلیہ کام نہیں کرتی ہیں اور ان کے دو چھوٹے لڑکے ہیں۔ ان کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ان کی تدفین کے بعد وہ ڈاکٹر عثمان کے گھر گئے تو ان کا کوئی جواب نہیں تھا اور ان کے بیٹے نے پوچھا: “انکل ، میرے والد کیوں گھر نہیں آرہے ہیں؟”

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: