پاکستانی زیر انتظام جموںکشمیر کے وزیر حکومت چوہدری شہزاد محمود کی سرکاری گاڑی پر ایک کاروباری شخصیت کی نیلم ویلی جھیل کے سیاحتی مقام پر واقع گلیشئر پر ایڈونچر ڈرائیو اور سیر و سیاحت کی تصاویر سوشل میڈیا پروائرل ہو گئی ہیں. جس کی وجہ سے وزیر حکومت کو سوشل میڈیا صارفین کی شدید تنقید کا سامنا ہے.
دبئی میںپراپرٹی کا کاروبار کرنے والے ظہیر عالم نے تین روز قبل سوشل میڈیا سائٹ فیس بک پر کچھ تصاویر شیئر کرتے ہوئے وزیر حکومت چوہدری شہزاد محمود کا نیلم کے تفریحی مقامات کی سیر کروانے پر شکریہ ادا کیا. ساتھ ہی سرکاری گاڑی سے گلیشیئر پرمہم جوئیانہ سفر کی ویڈیو بھی شیئر کی. مذکورہ ویڈیو میں فلیگ کے ہمراہ سرکاری گاڑی فارچونر کو ظہیر عالم چلا رہے تھے اور نیلم کے ایک گلیشیئر سے گاڑی گزر رہی تھی جہاںعمومی طور پر گاڑیاںنہیںجاتیں.
مذکورہ تصاویر سوشل میڈیا پرجاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے وزیر حکومت چوہدری شہزاد محمود پر شدید تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم سے فوری نوٹس لینے اور چوہدری شہزاد محمود کو وزارت سے ہٹاتے ہوئے گاڑی واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے.
ایک سوشل میڈیا صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ عوام کےلئے لاک ڈاؤن ہے، ماسک اور حفاظتی تدابیر کی ہدایات اور پابندیاںہیں، مساجد اور ہسپتال تک بند ہیں، لیکن وزیر حکومت چوہدری شہزاد محمود دبئی کے ایک پراپرٹی ڈیلر کو سرکاری گاڑی پر نیلم ویلی کے سیاحتی مقامات اور گلیشیئرز کی سیریںکروا رہے ہیں. یہاںتک کے سرکاری گاڑی پر دبئی کا ایک پراپرٹی ڈیلر گلیشیئر پر ایڈونچر ڈرائیو کر رہا ہے.
ایک صارف کا کہنا ہے کہ وزیراعظم لوگوںکو گھروں میںرہنے کی ہدایات کے ساتھ سخت ایکشن لینے کے دھمکی آمیز بیانات جاری کر رہے ہیں، لیکن انہی کے وزیر موصوف عوام کے ٹیکسز سے خریدی گئی مہنگی ترین گاڑی پر ایک دبئی کی کاروباری شخصیت کو گلیشیئرز کی سیر کروا رہے ہیں. اس جانب وزیراعظم کب توجہ دینگے. ایک ریاست کے تمام وسائل ایک پراپرٹی ڈیلر کو خوش کرنے کےلئے خرچ کئے جا رہے ہیں. وزیر موصوف کی اس پراپرٹی ڈیلر سے کوئی خاص توقعات تو ہونگی .
دوسری جانب سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی وزیر حکومت کے اس طرز عمل پرشدید تنقید کی ہے. سیاسی و سماجی رہنماؤں نے معاملے کا فوری نوٹس لئے جانے کی مانگ کی ہے.وزیر اعظم سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ فوری طور پر سرکاری گاڑی کو حکومتی تحویل میںلیا جائے اور وزیر حکومت کو وزارت سے ہٹایا جائے. جس قانون ساز کو خود قوانین کا نہیںپتہ، یا خود کو قانون اور آئین سے بالاتر سمجھتا ہے، وہ وزارت کا قلمدان سنبھال کر عوام کو سہولیات کسی صورت نہیں دے سکتا. مذکورہ طرز عمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سمال انڈسٹریزکی وزارت سے بھی وزیر موصوف اسی طرحکی کاروباری شخصیات کو ہی نوازتے ہونگے.












Your point of view caught my eye and was very interesting. Thanks. I have a question for you. https://www.binance.com/register?ref=IXBIAFVY