سرکاری گاڑی پر کاروباری شخصیت کا سیاحتی ایڈونچر، وزیر حکومت تنقید کی زد میں

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر کے وزیر حکومت چوہدری شہزاد محمود کی سرکاری گاڑی پر ایک کاروباری شخصیت کی نیلم ویلی جھیل کے سیاحتی مقام پر واقع گلیشئر پر ایڈونچر ڈرائیو اور سیر و سیاحت کی تصاویر سوشل میڈیا پروائرل ہو گئی ہیں. جس کی وجہ سے وزیر حکومت کو سوشل میڈیا صارفین کی شدید تنقید کا سامنا ہے.

وزیر حکومت چوہدری شہزاد محمود کی سرکاری گاڑی پر ایک پراپرٹی ڈیلر نیلم کے گلیشیئرز میں ایڈونچر ڈرائیوکرتے ہوئے

Posted by Haris Qadeer on Wednesday, May 20, 2020

دبئی میں‌پراپرٹی کا کاروبار کرنے والے ظہیر عالم نے تین روز قبل سوشل میڈیا سائٹ فیس بک پر کچھ تصاویر شیئر کرتے ہوئے وزیر حکومت چوہدری شہزاد محمود کا نیلم کے تفریحی مقامات کی سیر کروانے پر شکریہ ادا کیا. ساتھ ہی سرکاری گاڑی سے گلیشیئر پرمہم جوئیانہ سفر کی ویڈیو بھی شیئر کی. مذکورہ ویڈیو میں‌ فلیگ کے ہمراہ سرکاری گاڑی فارچونر کو ظہیر عالم چلا رہے تھے اور نیلم کے ایک گلیشیئر سے گاڑی گزر رہی تھی جہاں‌عمومی طور پر گاڑیاں‌نہیں‌جاتیں.

مذکورہ تصاویر سوشل میڈیا پرجاری ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے وزیر حکومت چوہدری شہزاد محمود پر شدید تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم سے فوری نوٹس لینے اور چوہدری شہزاد محمود کو وزارت سے ہٹاتے ہوئے گاڑی واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے.

3 days Trip to Neelum chitta katha lake, Tao Butt, Kail Valley, Sharda Neelum Valley.Awesome Weather# Awsome People# Great Hospitality ❤️❤️❤️

Posted by Zaheer Alam on Sunday, May 17, 2020

ایک سوشل میڈیا صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ عوام کےلئے لاک ڈاؤن ہے، ماسک اور حفاظتی تدابیر کی ہدایات اور پابندیاں‌ہیں، مساجد اور ہسپتال تک بند ہیں، لیکن وزیر حکومت چوہدری شہزاد محمود دبئی کے ایک پراپرٹی ڈیلر کو سرکاری گاڑی پر نیلم ویلی کے سیاحتی مقامات  اور گلیشیئرز کی سیریں‌کروا رہے ہیں. یہاں‌تک کے سرکاری گاڑی پر دبئی کا ایک پراپرٹی ڈیلر گلیشیئر پر ایڈونچر ڈرائیو کر رہا ہے.

ایک صارف کا کہنا ہے کہ وزیراعظم لوگوں‌کو گھروں میں‌رہنے کی ہدایات کے ساتھ سخت ایکشن لینے کے دھمکی آمیز بیانات جاری کر رہے ہیں، لیکن انہی کے وزیر موصوف عوام کے ٹیکسز سے خریدی گئی مہنگی ترین گاڑی پر ایک دبئی کی کاروباری شخصیت کو گلیشیئرز کی سیر کروا رہے ہیں. اس جانب وزیراعظم کب توجہ دینگے. ایک ریاست کے تمام وسائل ایک پراپرٹی ڈیلر کو خوش کرنے کےلئے خرچ کئے جا رہے ہیں. وزیر موصوف کی اس پراپرٹی ڈیلر سے کوئی خاص توقعات تو ہونگی .

دوسری جانب سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی وزیر حکومت کے اس طرز عمل پرشدید تنقید کی ہے. سیاسی و سماجی رہنماؤں نے معاملے کا فوری نوٹس لئے جانے کی مانگ کی ہے.وزیر اعظم سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ فوری طور پر سرکاری گاڑی کو حکومتی تحویل میں‌لیا جائے اور وزیر حکومت کو وزارت سے ہٹایا جائے. جس قانون ساز کو خود قوانین کا نہیں‌پتہ، یا خود کو قانون اور آئین سے بالاتر سمجھتا ہے، وہ وزارت کا قلمدان سنبھال کر عوام کو سہولیات کسی صورت نہیں دے سکتا. مذکورہ طرز عمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سمال انڈسٹریزکی وزارت سے بھی وزیر موصوف اسی طرح‌کی کاروباری شخصیات کو ہی نوازتے ہونگے.

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: