پرائیویٹ تعلیمی ادارے اور اساتذہ کا استحصال

ذیشان شبیر

جہاں کرونا وائرس کی وباء نے ہر شعبہ زندگی کو متاثر کیا ہے وہاں ہمارے پرائیوئٹ تعلیمی ادارے بھی اس سے بری طرح متاثر ہوے ہیں۔

پرائیوئٹ سکول مالکان جہاں اپنا رونا رو رہے ہیں وہاں سوشل میڈیا پر ان مالکان کی جانب سے فیسس جمع کرنے کی مہم زوروں سے جاری ہے۔ کوئی اس بات کا رونا رو رہا ہے کہ ہم نے زمینیں بیچ کر سکول و کالج کھڑا کیا تھا اور کوئی حکومت اور والدین پر سارا ملبہ ڈال رہا ہے۔

پرائیویٹ سکول مالکان کی تو کہیں نہ کہیں شنوائی ہو رہی ہے اور یہ سب ریکوری ان کو ہو ہی جانی ہے. ہو سکتا ہے ایک دو ماہ تاخیر سےہو مگر ریکوری ضرور ہو گی۔ ابھی تک کچھ ادارے 60% تک ریکوری کر چکے ہیں اور مزید بھی کر رہے ہیں۔ پرائیوئٹ سکولز و کالجز میں منافع کی شرح تقریبا بیس سے پیچس فیصد ہوتی ہے۔ سکول مالکان کا اصل مسلہ بھی یہی ہے کہ ان کو اصل منافع نہی مل پا رہا۔ ایک سرمایہ دار جو پیسہ لگا کر بیھٹا ہے اس نے منافع تو ہر دو صورت کمانا ہی ہوتا ہے اس کو اس بات کا خوف نہیں ہوتا کہ وبا ہے یا مجبوریاں ہیں یا کم سے کم compansate ہی کر لیا جائے۔

اس منافع حوری کے بازار میں ایک طبقے کا استحصال ہو رہا ہے اور وہ ہیں پرائیویٹ سکول و کالج اساتذہ، سکول و کالج مالکان کا اصل نشانہ بھی ہمیشہ یہی لوگ ہی بنتے ہیں۔ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں اساتذہ کی ایک کثیر تعداد نجی تعلیمی اداروں میں قوم کے نونہالوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کر رہی ہے۔ جو لوگ اس شعبے سے وابستہ نہیں ہیں، انہیں یہ نہایت ہی آسان کام لگتا ہے۔ حالانکہ اس شعبے کے متعلق ایک مغربی ماہرِ تعلیم نے کہا تھا کہ
”Everybody says teaching is so Easy just like walking in a park But, only teacher know’s that the park is the JURASSIC PARK With a Variety of dinosaurs.”

اگر دیکھا جائے تو آج کرونا وائرس سے لڑنے والے ہمارے ہر اول دستہ ڈاکڑز اور دیگر عملہ انہی اساتذہ کی ہی محنت کے مرہون منت ہیں۔ لیکن نہ تو میں نے آج تک پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ان کے لیے کسی طبقے کو آواز بلند کرتے دیکھا اور نہ ہی کسی انسانی حقوق کی تنظیم نے ان کے حقوق کی بات کی۔ اور نہ ہی آج تک اس طبقے نے اپنے لیے کوئی یونین بنائی کہ اپنے حقوق کی بات کر سکیں۔ اگر کوئی یونین نظر بھی آئے گی تو وہ سکول مالکان کی یونین ہے۔

اگر پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں نجی تعلیمی اداروں میں سروسز دینے والے اساتذہ کی انکم کی بات کی جائے تونجی سکولز میں پڑھانے والے معلم کی اوسط تنخوا چھ سے بارہ ہزار روپے ماہوار ہے۔ اورکالجز میں پڑھانے والے اساتذہ کی ماہواراوسط تنخواہ دس سے بیس ہزار بنتی ہے۔ اب اگر اس تنخواہ میں سے بھی مالکان آدھی تنخواہ ادا کریں گے تو شاید ہی اس سے بڑا مذاق کسی کے ساتھ ہو۔ پہلے ہی نجی سکول و کالجز کے معلمین بمشکل گزارہ کر رہے ہیں۔ کچھ پہلو پوشیدہ رہنے کی وجہ سے نظرانداز ہوجاتے ہیں جو بڑے مسائل پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔اکثر پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے اساتذہ کی راتیں اسی پریشانی میں جاگ کر گزرتی ہیں۔ان کے لیے نا حکومت کچھ کرنے کو تیار ہے نا سکول مالکان کو ترس آتا ہے. کوئی ایک تو رحم کرے ان بیچارے اساتذہ پر۔دو ماہ سے بےروزگار اس طبقے کو میٹھی عید سے پہلے ایک اور کڑوی گولی نگلنا پڑھ رہی ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ آسان شرائط، شارٹ ٹرم فنانسنگ کا پیکیج (with out intrest) ان سکول و کالج کلاجز کے لیے متارف کرائے جو پہلے سے ہی مالی مسائل کا شکار ہیں۔ تین اور چھ ماہ ایڈوانس فیسس وصول کرنے والے مالکان کو بھی چاہیے کہ اگر آپ نے اس دفعہ بیس فیصد منافع نہ لیا تو آپ کے گھر کا چولہا بند نہیں ہونے والا۔ اس دفعہ Break Evern کو ہی منافع جان لیں۔ میری ناقص رائے کے مطابق نجی اساتذہ کا استحصال وائٹ کالر کرائم اور اساتذہ کا استحصال کرنے والے مالکان کو مافیا کہنا غیر مناسب نہیں ہو گا۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: