پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کی ٹیچرز آرگنائزیشن کے ڈیموکریٹک پینل کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ 2009 کی تعلیمی پالیسی کے تحت پورے پاکستان و گلگت پلتستان میں اساتذہ کے سکیل اپگریڈ کئے گئے لیکن بدقسمتی سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں اساتذہ آج بھی سکیل نمبر 7 ، 9 اور 16 میں موجود ہیں۔ سکیل اپگریڈیشن کیلئے دسمبر 2018 میں تین روزہ ہڑتال بھی کی گئی تھی لیکن حکومتی ٹال مٹول اور ٹیچرزآرگنائزیشن پہ براجمان قیادت کی غلطیوں کے باعث اپگریڈیشن نہ ہو سکی۔ اس کے بعد کئی مواقع پہ حکومت نے اساتذہ کے ساتھ سکیل اپگریڈیشن کا وعدہ کیا لیکن وعدہ ایفاء نہ ہو سکا۔ ڈیموکریٹک پینل حکومت آزادکشمیر سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اساتذہ کے دیرینہ مسئلے کا حل نکالیں اور مالیات میں پڑی اپگریڈیشن کی سمری کو منظور کروائیں۔
ان خیالات کا اظہار ضلعی ضدارتی امیدوار مظہر اقبال ، امیدوار برائے جنرل سیکرٹری مسعود رفیق و ممبران ضلعی ورکنگ کمیٹی ڈیموکریٹک پینل نے ایک اجلاس کے دوران کیا۔
شرکاء اجلاس نے مطالبہ کیا کہ مسلسل بڑھتی مہنگائی کے باعث اساتذہ کی حیثیت سفید پوش طبقے کی طرح پو چکی ہے جو کسی کے در پہ ہاتھ پھیلانے سے بھی قاصر ہے لہذا اساتذہ کے ایڈھاک ریلیف الاونسز کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرتے ہوئے آمدہ بجٹ میں تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے۔ اجلاس میں مرکزی صدر ٹیچرز آرگنائزیشن سجاد خان صاحب سے مطالبہ کیا کہ وہ اساتذہ کے مسائل کو سنجیدہ لیکر احتجاج کا نوٹس دیں وگرنہ اساتذہ ان کے دور کو سیاہ لفظوں میں یاد رکھیں گے۔












Your point of view caught my eye and was very interesting. Thanks. I have a question for you. https://accounts.binance.info/ES_la/register?ref=VDVEQ78S
Your point of view caught my eye and was very interesting. Thanks. I have a question for you. https://accounts.binance.info/vi/register-person?ref=MFN0EVO1