این ایس ایف کا افطار پروگرام:‌آن لان کلاسز کا کھلواڑ اور LOCپر فائرنگ بند کرنیکا مطالبہ

جموں کشمیر نیشنل سٹوڈینٹس فیڈریشن کی زیر اہتمام ٹانڈا گھمیر بازار(تحصیل ہجیرہ) کے پاس ایک افطار پارٹی اور پروگرام کا انعقاد 13 مئی کو کیا گیا.

پروگرام کا ایجنڈا “موجودہ صورتحال میں طلبہ مسائل اور جدوجہد کا کردار “ تھا۔ جس سے مرکزی صدر JKNSF ابرار لطیف، چیف آرگنائزر تیمور سلیم، ڈپٹی چئیرمین مالیاتی بورڈ ارسلان شانی، مرکزی رہنما زاہد اقبال، واجد خان،JKNSF میں شمولیت اختیار کرنے والے ساتھیوں کاشان اور دیگر نے خطاب کیا جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض اوسامہ پرویز نے ادا کیے.

مقررین نے نوجوانوں سے خطاب میں کہا کے سرمایہ داری پہلے سے معاشی بحران کا شکار تھی اور کسادبازاری کی طرف گامزن تھی کورونا وبا نے اس عمل کو تیز کر کے سرمایہ داری کو شدید بحران اور انسانیت کو ہولناک بربادیوں میں دھکیل دیا ہے۔ سرمایہ داری میں ضرورتوں کی پیداوار کا مقصد منافع اور شرح منافع ہے جس کو برقرار رکھنے کے لیے اور زیادہ سے زیادہ محنت کش عوام استحصال بڑھانے کے لیے نیو لبرل پالیسیوں کو لاگو کیا گیا صحت اور تعلیم جیسے بنیادی انسانی حقوق کے شعبوں کی نجکاری کر کے بازار میں نیلام کر دیا گیا۔

آج تعلیم اور علاج حاصل کرنا آبادی کی اکثریت کے لیے کھٹن کام بن گیا ہے اوراکثریت تعلیم اور علاج سے محروم ہے۔ دوسری طرف اس خطے کے محنت کش عوام کی ایک تعداد اگر اپنا پیٹ کاٹ کے تمام مشکلات کا سامنا کر کے اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھے ہوئے تھی جس کےلئے کورونا وباء کے بعد لاک ڈاؤن اور معاشی بربادی کی وجہ سے اپنے بچوں کے تعلیمی عمل کوجاری رکھنا ناممکن ہو گیا ہے. ایسے میں نجی تعلیمی اداروں کے مالکان آن لائین کلاسیز کے نام پر تعلیم سے کھلواڑ کر کے فیسیں لے رہے ہیں جہاں ایک طلبہ کی بڑی تعداد کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہی نہیں ہے اور انٹرنیٹ انفرسٹکچر بھی انتہائی برباد کیفیت میں ہے.

4G سروس یہاں ناپید ہے اور بیشتر طلبہ کے پاس آن لائن تعلیم حاصل کرنے کے لیے تیکنیکی آلات نہیں ہیں، جن کو حاصل کرنا تعلیمی اداروں کی فیسیز سے مشکل کام ہے. ہمارا مطالبہ ہے کے ریاست بہتر سہولیات طلبہ کو خود مہیا کرے اگر نہیں تو نجی تعلیمی اداروں کی فیسیز منسوخ کی جائیں اور آن لائین کلاسیز کا کھلواڑ بند کیا جائے اور تعلیم اور علاج کا نجی کاروبار ختم کر کے قومی تحویل میں لے کے عوام کو مفت فراہم کیا جائے. بصورت دیگر جے کے این ایس ایف طلبہ کو منظم کرتے ہوئے محنت کش عوام کے ساتھ مل کر تمام تر عوامی حقوق کی بحالی کے لیے منظم تحریک کا آغاز کرے گی اور ہم اس وقت تک جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک یہ استحصال پر مبنی بحران زدہ متروک سرمایہ دارنہ نظام کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اور طبقات سے پاک معاشرے کا قیام نہیں ہو جاتا.

مقررین نے LOC کے آر پار گولہ باری کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی اور مطالبہ کیاکہ فی الفور یہ خونی کھیل بند کیا جائے اور دونوں اطراف محنت کش عوام کے نقصانات کا فوری ازالہ کیا جائے اور بھارتی کشمیر میں جاری پراکسی وار اور محنت کش عوام کا قتل عام کسی طور منظور نہیں، سامراجی جبر اور پراکسی وار کے اس ہولناک کھیل کو فی الفور بند کیا جائے۔ پروگرام میں کامریڈ عمار اور حارث نے انقلابی ترانے پیش کئے۔

ٹانڈا گھمیر کی نئی یونٹ کا بھی انتخاب کیا گیا، جس میں سیف اللہ چئیرمین ، جالب جنرل سیکرٹری، محسن آرگنائزر ، رحمان ڈپٹی جنرل سیکرٹری، شہباز فنانس سیکرٹری،حرم چئیرمین سٹڈی سرکل، اور ثاقب چئیرمین نشر و اشاعت منتخب ہوئے۔مرکزی چیف آرگنائزر تیمور سلیم نے نومنتخب عہدیداران سے حلف لیا.

یونٹ سے حلف چیف آرگنائزر تیمور سلیم نے لیا آخری خطاب نئی یونٹ کے جنرل سیکرٹری جالب نے کیا جس میں کامریڈ نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی طبقات سے پاک معاشرے یعنی سوشلسٹ سماج کے قیام کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم بھی کیا۔