دیامر بھاشا ڈیم: تعمیراتی ٹھیکہ FWOاور چینی کمپنی کو الاٹ، منصوبہ کب مکمل ہوگا؟

27 ارب 18 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کا یہ کنسلٹنسی سروسز ٹھیکہ دیامیر بھاشا کنسلٹنٹس گروپ نامی اشتراک کار کو دیا گیا ہے۔ اس کنسلٹنٹ گروپ میں 12 کمپنیاں شامل ہے جن کی مرکزی کمپنی نیسپاک ہے

پاکستان کی واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے اپنی پریس ریلیز میں اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے ٹھیکہ پاکستان کی فوج کے زیر انتظام چلنے والے ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن(ایف ڈبلیو او) اور چین کی حکومتی کمپنی پاور چائنا کے اشتراک کار کو دیا گیا ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق ڈیم کی تعمیر کا تخمینہ 1406.5 ارب روپے ہے۔ ڈیم کی تعمیر پر فی الفور کام شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ڈیم کی تعمیر سنہ 2028 میں مکمل ہو گی۔

اسی طرح دیامیر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کے ڈائی ورشن سسٹم، مین ڈیم، رسائی کے لیے پُل اور 21 میگاواٹ صلاحیت کے تانگیر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر کے لیے دونوں کمپنیوں کے اشتراک کار کے ساتھ 442 ارب روپے مالیت کے ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے ہیں۔

واپڈا کے مطابق دیامیر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کی تعمیر کے لیے کنسلٹنسی سروسز کا ٹھیکہ بھی دیا گیا۔ 27 ارب 18 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کا یہ کنسلٹنسی سروسز ٹھیکہ دیامیر بھاشا کنسلٹنٹس گروپ نامی اشتراک کار کو دیا گیا ہے۔ اس کنسلٹنٹ گروپ میں 12 کمپنیاں شامل ہے جن کی مرکزی کمپنی نیسپاک ہے۔

دیامیر بھاشا ڈیم پراجیکٹ ذرائع نے بتایا ہے کہ 175 ارب روہے ڈیم کے لیے زمین حاصل کرنے اور ان کی ادائگییوں، متاثرین کی آبادی کاری اور مقامی ترقی کے لیے مختص کیے گے ہیں۔

791 ارب روپے دیامیر بھاشا ڈیم کے لیے پاور حاصل کرنے اور دیگر ضرورتیں پوری کرنے کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ 480 ارب روپے تانگیر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر کے لیے مختص ہیں۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے اپنی ٹویٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانیوں کو اس منصوبے سے 16500 نوکریاں جبکہ 4500 میگاواٹ بجلی کی پیداوار حاصل ہو گی۔ انھوں نے دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے آغاز کو بہت بڑی خوشخبری قرار دیا ہے۔

پاکستان دیامیر بھاشا ڈیم کو بجلی اور پانی کی ضرورت کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔ 60 کی دہائی کے بعد اب تک پاکستان نے کوئی بھی بڑا ڈیم تعمیر نہیں کیا ہے۔

دیامیر بھاشا ڈیم اور اس کا محل و وقوع
دیامیر بھاشا ڈیم پاکستان زیر انتظام مسئلہ کشمیر میں‌شامل متنازعہ علاقے گلگت بلتستان اور صوبہ خیبر پختوںخوا کے سرحدی علاقے بھاشا میں واقع ہے۔ اس ڈیم کا کچھ حصہ خیبر پختوںخواہ کے علاقے کوھستان میں جبکہ کچھ حصہ گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر کے علاقے میں آتا ہے۔ جس وجہ سے اس کو دیامیر بھاشا ڈیم کا نام دیا گیا ہے۔

دیامیر بھاشا ڈیم دریائے سندھ پر تعمیر کیا جائے گا۔ یہ تعمیر تربیلا ڈیم سے 315 کلومیٹر کی بلندی پر جبکہ گلگت بلتستان کے دارالحکومت گلگت سے 165کلومیٹر اور چالاس سے 40 کلومیٹر دور دریائے سندھ کے نچلی طرف ہو گی۔

واپڈا کے مطابق ڈیم کی بلندی 272 میٹر ہو گی۔ اس کے 14سپل وے گیٹ تعمیر کیے جائیں گے۔ اس میں مجموعی طور پر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 8.10 ملین ایکٹر فٹ ہو گی جبکہ اس میں ہمہ وقت 6.40 ملین ایکٹر فٹ پانی موجود رہے گا۔

اس پانی کو زراعت کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ واپڈا کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف صوبہ خیبر پختوںخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان کا چھ لاکھ ایکٹر کا رقبہ قابل کاشت ہو جائے گا بلکہ مجموعی طور پر تین ملین ایکٹر زرعی رقبہ سیراب ہو سکے گا۔

اس ڈیم سے بجلی پیدا کرنے کے بارہ ٹربائن لگائی جائیں گیں اور ہر ایک ٹربائن سے متوقع طور پر 375 میگا واٹ بجلی حاصل ہو گئی جبکہ مجموعی طور پر 4500 میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی جبکہ سالانہ 18097 گیگا واٹ بجلی حاصل ہو سکے گئی۔

ڈیم دریائے سندھ کے پانی کا قدرتی بہاؤ استعمال کرتے ہوئے اس پانی کا 15 فیصد استعمال کرے گا جبکہ اس مقام پر دریائے سندھ کا سالانہ اخراج 50000000 فٹ ایکٹر ہے۔ ڈیم مجموعی طور پر 110 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہو گا جبکہ 100 کلومیٹر مزید رقبے پر ڈیم کے انفراسٹریکچر کی تعمیر ہو گئی۔

واپڈا کی رپورٹ کے مطابق ڈیم کی تعمیر سے 30 دیہات اور مجموعی طور پر 2200 گھرانے جن کی آبادی کا تخمینہ بائیس ہزار لگایا گیا ہے، 500 ایکٹر زرعی زمین اور شاہراہ قراقرم کا سو کلومیٹر کا علاقہ پانی برد ہو گا۔

ان نقصانات کی تلافی اور متاثرہ آبادی کی آباد کاری کے لیے نو مختلف منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

دیامیر بھاشا ڈیم طویل التوا کا شکار منصوبہ
دیامیر بھاشا ڈیم کا منصوبہ کئی دہائیوں سے زیر غور ہے۔ پہلی مرتبہ اس منصوبے کی تجویز 1980 کی دہائی کے آغاز میں زیر غور آئی تھی۔

واپڈا ذرائع کے مطابق ڈیم کی فزیبلٹی رپورٹ پہلی مرتبہ 2004 میں تیار کی گئی جبکہ سنہ 2005 سے 2008 کے عرصے میں دوبارہ اس کی فزیبلٹی اور ڈیزائین پر کام ہوا تھا۔

سنہ 2008 میں ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامکس کونسل جس میں چاروں صوبوں اور وفاق کے نمائندے موجود ہوتے ہیں نے ڈیم کی تعمیر کی باقاعدہ اجازت دے دی تھی۔ اس کو ایسا منصوبہ قرار دیا گیا جس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔

دیامیر بھاشا ڈیم منصوبے کی ایک سے زائد مرتبہ باقاعدہ سرکاری سطح پر افتتاحی تقریبات منعقد ہو چکی ہیں جن میں مختلف ادوار کے سربراہان مملکت نے شرکت کی تھی۔

اس منصوبے کا سب سے پہلے افتتاح سنہ 1998 میں اس وقت کے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کیا تھا۔ سال 2006 میں اس وقت کے صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے ڈیم کی تعمیر کا دوبارہ اعلان کیا.

اس موقع پر اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے ایک بار پھر ڈیم کا افتتاح کیا تھا۔ جبکہ بھاشا دیا میر ڈیم کا ایک اور افتتاح سنہ 2011 میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی کیا تھا۔

منصوبے کی راہ میں حائل رکاوٹیں
دیامیر بھاشا ڈیم کا ایک حصہ گلگت بلتستان میں تعمیر کیا جائے گا اور انڈیا طویل عرصہ سے گلگت بلتستان کے خطے پر اپنے حق کا دعویٰ کرتا چلا آرہا ہے۔

واپڈا ذرائع کے مطابق سنہ 2008 میں اس ڈیم کی لاگت تقریباً 12 بلین ڈالر تھی۔ اس خطیر رقم کو پاکستان اپنے وسائل سے فراہم نہیں کرسکتا تھا اس لیے توقع تھی کہ عالمی ادارے ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور آغا خان نیٹ ورک سرمایہ فراہم کریں گے مگر ڈیم منصوبے کے آغاز کے ساتھ ہی انڈیا نے منصوبے پر اعتراضات اٹھا دیئے تھے۔

انڈیا کے اعتراضات پر عالمی اداروں کی جانب سے ڈیم کی تعمیر کے لیے سرمایہ کاری عارضی طور پر روک دی گئی۔ مگر سنہ 2012/13 میں اس وقت کی حکومت کی کوشش کے باوجود عالمی اداروں نے سرمایہ کی فراہمی انڈیا کی طرف سے این او سی سے مشروط کر دی تھی۔

سنہ 2014 میں اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا تھا کہ عالمی ادارے ڈیم منصوبے کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کو تیار ہیں مگر عملاً ایسا نہ ہو سکا۔

سنہ 2015 ہی میں حکومت نے دعویٰ کیا کہ اس نے اپنے وسائل سے 5.5 ارب روپے کی رقم سے زمین کو حاصل کرنا شروع کر دیا ہے۔ تاہم مقامی متاثرین نے رقوم ملنے کی تصدیق نہیں کی تھی۔

سنہ 2016 میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے باقاعدہ طور پر منصوبے کے لیے معاشی منصوبے کو منظور کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ سنہ2017 کے احتتام سے قبل اس منصوبے پر کام شروع کیا جائے۔

سنہ 2017 میں چین کے ساتھ اس منصوبے کو سی پیک میں شامل کرنے پر بات ہوئی تھی۔ اس کے لیے باقاعدہ ٹینڈر بھی جاری کر دیئے گئے تھے مگر بعد میں اس ٹینڈر کو منسوخ کر دیا گیا تھا کیونکہ اس منصوبے پر چین کی سخت شرائط قابل قبول نہیں تھیں۔ چین نے اس منصوبے کے لیے کیا شرائط پیش کی تھیں اس بارے میں اطلاعات فراہم نہیں کی گئیں تھیں۔

بھاشا دیامیر ڈیم سی پیک منصوبے میں اب بھی شامل نہیں ہے۔

جولائی 2018 میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس ثاقب نثار نے حکومت پاکستان کو حکم دیا تھا کہ ملک میں پانی اور بجلی کی کمی کو ختم کرنے کے لیے فی الفور دیامیر بھاشا ڈیم سمیت دیگر منصوبے شروع کیے جائیں۔

اس موقع پر انھوں نے عدالت میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد ڈیم منصوبوں کے لیے کام کریں گے۔

ڈیم منصوبوں کے لیے سپریم کورٹ اور حکومت پاکستان نے الگ الگ چندہ مہم کی اپیل کی تھی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی ویب سائٹ پر چندہ مہم کی دی گئی تفصیلات کے مطابق مجموعی طور پر 1,738,194 روپے اکھٹے ہو سکے ہیں جبکہ اس رقم سے سرمایہ کاری بھی کی گئی ہے۔

ویب سائٹ پر دی گئی تفصیلات کے مطابق سرمایہ کاری اور چندہ سے حاصل ہونے والی مجموعی رقم 12,175,081,380روپے ہیں۔

ذرائع کے مطابق دیامیر بھاشا ڈیم پر اب بڑی رقم چین ہی فراہم کرے گا۔ مگر وہ کن شرائط پر فراہم کرئے گا اس حوالے سے حکومت پاکستان اور متعلقہ وزارتوں نے ابھی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔

دو حکومتوں اور قبائل کے درمیان تنازعہ
دیامیر بھاشا ڈیم تعمیر کے منصوبے کے اعلان کے ساتھ ہی گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا حکومتوں کے درمیان ڈیم میں آنے والے آٹھ کلومیٹر رقبے کی حدود کا تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔

اس تنازع کی وجہ صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے کوھستان اور گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر کے درمیان سرحدی علاقہ گندلو نالہ ہے۔ دونوں حکومتیں اس مذکورہ علاقے کو اپنی حدود میں ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں۔

اس ڈیم کے تعمیر کے لیے کوہستان اور دیامیر میں ابھی تک متبادل زمین کا بندوبست نہیں ہیں،عموماً زمینیں قبائل کی اجتماعی ملکیت ہوتی ہیں لہذا کوھستان کی ہربن ویلی اور دیامیر کی تھور ویلی کے قبائل گندلو نالہ کے علاقے پر اپنی اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔

اس تنازع پر دونوں قبائل کے درمیان دو سے زائد مسلح تصادم بھی ہو چکے ہیں۔ جس میں چھ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے جس کے بعد گندلو نالہ کے علاقے پر وفاقی حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے اسے رینجرز کے حوالے کر رکھا ہے۔ گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ کے مطابق مذکورہ علاقے کی زرتلافی رقم کم ازکم چالیس کروڑ روہے بنتی ہے۔

دونوں قبائل کے درمیان مسلح تصادم کے بعد نواز شریف دور حکومت میں وفاقی حکومت نے جسٹس تنویر کی سربراہی میں ایک رکنی کمیشن کو اس کی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرنے کی ذمہ داردی تھی تاہم ابھی تک اس کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا گیا ہے۔

گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ علاقہ ضلع دیامیر میں آتا ہے۔ یہ علاقہ دیامیر کے قبائل کی ملکیت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لوگ ڈیم کے مخالف نہیں ہیں بلکہ ڈیم کو علاقائی اور ملکی ترقی کا ضامن سمجھتے ہیں مگر ڈیم کی تعمیر سے قبل اس تنازع کا حل ہونا لازم ہے۔

دوسری جانب کوہستان کے قبائل کے رہنما اسد اللہ کا کہنا تھا کہ کوہستان میں صرف ایک نہیں بلکہ کئی ڈیم تعمیر ہو رہے ہیں۔ ہمارے قبائل نے ان ڈیموں کی تعمیر کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ اب دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں بھی تعاون کریں گے مگر ہم سے ہمارا حق نہ چھینا جائے۔

ان کا بھی مطالبہ تھا کہ دیامیر بھاشا ڈیم کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے اور ڈیم کی تعمیر سے قبل اس تنازع کو حل کیا جائے۔

واپڈا کے مطابق کمیشن کی رپورٹ وفاقی حکومت کو موصول ہو چکی ہے اور یہ حساس معاملہ ہے جس کو باہمی اتفاق سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

(نوٹ: دیامر بھاشا ڈیم سے متعلق یہ مضمون صحافی محمد زبیر خان نے تحریر کیا ہے، جسے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو نے اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا ہے. مجادلہ پر اس مضمون کو چند ایک تبدیلیوں کے ساتھ شائع کیا گیا ہے. بی بی سی پر پڑھنے کےلئے یہاں‌کلک کریں)

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: