پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے وزیر حکومت ڈاکٹر مصطفی بشیر نے کہا ہے کہ حکومت موبائل فون سروس اور تھری جی اور فور جی سروس کی بہتری کیلئے کوئی اقدام کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی، یہ پی ٹی اے (پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی) کا اختیار ہے۔ اس لئے سروس کی بہتری کیلئے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔
یہ بات انہوں نے قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں ممبر اسمبلی محمد صغیر خان کے ایک سوال کے جواب میں کہی۔ اجلاس کی صدارت سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر کر رہے تھے۔ ایم ایل اے محمد صغیر خان نے سوال کیا کہ موبائل سروس کی کارکردگی انتہائی ناقص ہے۔ کال کرتے ہوئے بھی بار بار کال کٹ جاتی ہے جس کے باعث صارفین کو دوہرے چارج پڑتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں جبکہ انٹرنیٹ کی مزید تیز سپیڈ درکار ہے، یہاں 3Gاور 4Gبرائے نام ہیں۔
اس ضمن میں بیان دیتے ہوئے ڈاکٹر مصطفےٰ بشیر عباسی وزیر حکومت نے کہا کہ دراصل 3Gاور 4G سپیکٹرم کے حوالے سے لائسینسنگ نہیں ہوئی۔صوبوں کے لیے 3Gتھی لیکن پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے لیے نہیں۔لائسینس میں تین چار ماہ لگ جائیں گے۔ ہم نے request کی کہ دو ماہ کے لیے عارضی طور پر spectrumدے دیں۔اُنہوں نے کہا کہ یہ چیپڑ PTA کا ہے۔یہ پی ٹی اے کا ڈومین ہے ہم اس میں ہم نہیں کر سکتے۔
تاہم سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر نے کہا کہ net worksسے رابطہ کر کے سروس کو بہتر کرنے کو کہا جائے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں محض تین بین الاقوامی جبکہ ایک پاک فوج کی مواصلاتی کمپنی فورجی سروس مہیا کرتی ہیں، لیکن سروس انتہائی ناقص ہے، انٹرنیٹ کی سپیڈ نہ ٹو جی کے برابر بھی نہیں ہے۔ ایسی صورتحال میں آن لائن کلاسز کا آغاز کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ گزشتہ چار سال سے اس متنازعہ علاقے میں تھری جی اور فورجی سروس کے لائسنس کی نیلامی کی تاریخیں دی جا رہی ہیں لیکن تاحال وہ لائسنس بھی جاری نہیں ہو سکا۔
مقامی حکومت اس خطے سے بھاری ریونیو وصول کرنے والی کمپنیوں کو سروس بہترکرنے پر بھی پابند نہیں کر سکتی اور نہ ہی ان سے متعلق کوئی قانون سازی کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ حتیٰ کہ پاکستان کے چاروں صوبوں اور وفاق میں موبائل کمپنیاں تشہیر سمیت دیگر شعبہ جات میں بھاری فنڈنگ بھی کرتی ہیں۔ لیکن پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں ان کمپنیوں پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ پاکستان میں نافذ العمل موبائل کال ریٹس، پیکیجز پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں بھی نافذ ہیں، اضافی ٹیکسز بھی لئے جا رہے ہیں، لیکن پاکستان کے معیار کے مطابق سروس فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔ کئی ایسے پیکیجز ہیں جن میں مفت کال منٹ کے ساتھ انٹرنیٹ کے پیکیج بھی فراہم کئے جاتے ہیں، لیکن یہاں انٹرنیٹ کی سپیڈ ہی نہ ہونے کی وجہ سے صارفین قیمت ادا کرنے کے باوجود انٹرنیٹ استعمال نہیں کر سکتے۔
کسی بھی خطے میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کو اس علاقے کی ترقی کیلئے بھی اپنے منافعوں سے ایک مناسب حصہ مقامی حکومتوں کے ذریعے مختلف منصوبہ جات میں دیناہوتے ہیں۔ تشہیر کیلئے مقامی میڈیا کو کوٹہ فراہم کیا جاتا ہے، کھیلوں کی سرگرمیوں سمیت دیگر سماجی سرگرمیوں میں بھی فنڈنگ کرنا پڑتی ہے۔ لیکن پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی حکومت ان کمپنیوں کو اس طرح کے کسی کام پر پابند کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتی۔ نہ ہی شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والی کمپنیوں پرکوئی چیک اینڈ بیلنس کیا جا سکتا ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ جو کمپنیاں پاکستان میں دی جانیوالی سروس کے معیار کے مطابق سروس فراہم نہیں کر رہیں انہیں اپنے پیکیجز اور ریٹس بھی پاکستان میں نافذ پیکیجز اور ریٹس سے کم کرنے چاہئیں۔ فوری طور پر تھری جی اور فور جی سروس کی ہمہ جہت اور معیار سروس مہیا کرنے کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئیں تاکہ صارفین کو درپیش مشکلاتکا ازالہ کیا جا سکے۔












I don’t think the title of your article matches the content lol. Just kidding, mainly because I had some doubts after reading the article.
Your point of view caught my eye and was very interesting. Thanks. I have a question for you. https://accounts.binance.info/sk/register?ref=WKAGBF7Y