پاکستانی کشمیر:‌3 نئے کورونا کیسز کی تصدیق، 1 راولاکوٹ جبکہ 2 باغ کے رہائشی

پاکستان کے زیر انتظام جموں‌کشمیر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید3افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو گئی جبکہ کرونا کا ایک اور مریض صحت یا ب ہو گیااور 208نئے افراد کے کرونا وائرس کے شبہ میں ٹیسٹ لیے گئے ۔نئے سامنے آنے والے کیسز میں سے02 کا تعلق ضلع باغ جبکہ ایک کا راولاکوٹ سے ہے ۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں اب تک3245 افراد کے ٹیسٹ لیے گئے جن میں سے3183 کے رزلٹ آچکے ہیں اور91افراد میں کرونا وائرس کی موجودگی پائی گئی ہے جن میں سے69افراد صحت یاب ہو چکے ہیںاور انہیں ڈسچارج کر دیا گیا ہے جبکہ21مریض زیر علاج ہیں اور ایک مریض کی موت ہوئی ہے۔

محکمہ صحت عامہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ڈی ایچ کیو راولاکوٹ سے12، ڈی ایچ کیو کوٹلی سے 06،ڈی ایچ کیو باغ سے 03،ٹی ایچ کیوسدھنوتی سے 10مریض،ڈی ایچ کیو بھمبر سے 15،جبکہ نیوسٹی ہسپتال میرپور سے 12،آئسولیشن ہسپتال مظفرآباد سے08،ٹی ایچ کیو ہسپتال ڈڈیال میرپور سے03 مریض صحت یاب ہوئے جنہیں ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔کرونا کے21مریضوں میں سے6ڈی ایچ کیو ہسپتال کوٹلی، 02 ڈی ایچ کیو ہسپتال باغ،1ڈی ایچ کیو ہسپتال راولاکوٹ،01ڈی ایچ کیو ہسپتال میرپور، 01ڈی ایچ کیو بھمبر،10 آئسو لیشن ہسپتال مظفرآبادمیں زیر علاج ہیں۔

رپورٹ کے مطابق3092افراد میں کرونا وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی اور62افراد کے ٹیسٹ کے رزلٹ آنا باقی ہیں۔نئے افراد کے کرونا کے ممکنہ کیسز کے حوالہ سے لیے گے ٹیسٹ کی رپورٹ ایک دو روز میں آجائے گی۔ رپورٹ کے مطابق تمام اضلاع میں 58قرنطینہ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ تمام انٹری پوائنٹس پر محکمہ صحت کا عملہ موجود ہے جو ہمہ وقت مسافروں کی سکریننگ کررہا ہے۔ویرالوجی لیب عباس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ، ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال میرپوراور سی ایم ایچ راولاکوٹ میں پی سی آر ٹیسٹنگ ہو رہی ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے تعاون سے پاکستانی زیر انتظام کشمیرمیں قائم تمام آئسولیشن سنٹرز میں انفکیشن ، پری وینشن اینڈ کنٹرول (IPC)ٹریننگ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ تمام انٹری پوائنٹس پر ضلعی ریپڈریسپانس ٹیمیں اور صحت کا عملہ کرونا سے متاثرہ علاقوں سے آنے والے لوگوں کی مکمل سکریننگ کر رہا ہے ۔پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے اضلاع سدھنوتی، بھمبر ، کوٹلی ، میرپور ، نیلم، باغ، اور مظفرآباد کی ریپڈ ریسپانس ٹیمیں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ افراد سے رابطہ میں رہنے والے افراد سے رابطہ کر کے انہیں قرنطینہ سنٹرز اور ہوم قرنطینہ کر رہی ہیں۔