تحریر: اُسامہ ممتاز،سعد رفیق
ترجمہ:صبغت اللہ
1947ء میں ہندوستان اور پاکستان کی جنگ کے بعد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان ریفرنڈم ہونے تک پاکستان کی عملداری میں آگئے۔ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق پاکستان سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ جموں کشمیر سے اپنے بھیجے ہوئے قبائلی لشکرنکالے اور اس کے بعد ہندوستان اور پاکستان سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی فوجیں پاکستانی اور ہندوستانی مقبوضہ کشمیر سے نکالیں جس کے بعد رائے شماری عمل میں لائی جا سکے اور ریاست کے لوگوں کو اپنی مرضی کے مطابق مستقبل کا فیصلہ کرنے دیا جائے۔(1)
مئی 1948ء میں پاکستان کی فوجیں باضابطہ طور پر جموں کشمیر میں داخل ہوئیں۔پاکستان نے مزید آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے اپریل 1949ء کو ایک معاہدہ کیا۔
28 اپریل 1949 کو مشتاق احمد گورمانی(پاکستان کے وزیر بے محکمہ)، سردار ابراہیم(صدر ریاست) اور غلام عباس (صدر مسلم کانفرنس) کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس کی رو سے خارجہ اور دفاع جیسے اہم معاملات پاکستان کے سپرد کر دیئے گئے اور وزارت امور کشمیر نے عملاً اس حصے کا انتظام سنبھال لیا۔(2)
قابل غور بات یہ ہے کہ اس معاہدے میں گلگت بلتستان کی طرف سے کوئی نمائندگی نہیں تھی۔
معاہدہ کراچی کے اہم نکات:
معاہدہ کراچی کی روح سے آٹھ اہم نکات پاکستان کے سپرد کیے گئے جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
۱۔دفاع
۲۔خارجہ
۳۔UNCIP سے مذاکرات
۴۔مہاجرین کی آباد کاری
۵۔رائے شماری کے لیے حالات سازگار کرنا۔
۶۔پاکستان میں کشمیر کے متعلق تمام معاملات اور گلگت بلتستان کے تمام انتظامی معاملات جو اُس سے پہلے پاکستان کے پولیٹیکل ایجنٹ کے سپرد تھے۔
آخری مشق کے مطابق آزاد کشمیر کی گلگت بلتستان پر عملدآمدی عملاًختم ہوئی۔ اس معاہدے کے نتیجے میں آزاد حکومت کا دعویٰ،کہ یہ ریاست جموں و کشمیر کی نمائندہ حکومت ہے،غلط ثابت ہوا۔کیونکہ معاہدے کی روح سے یہ انقلابی حکومت ایک لوکل اتھارٹی کی حیثیت اختیار کی گئی۔ معاہدے کے مطابق پاکستان نے آزادکشمیر کا مکمل اختیار سنبھال لیا اور حکومت سے مذاکرات کی ذمہ داری بھی سنبھال لی۔ نتیجتاً آزاد حکومت عالمی حیثیت حاصل کرنے سے محروم ہو گئی۔
1972 میں آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی نے گلگت بلتستان کا اختیار واپس لینے کے لیے ایک قرار داد پیش کی۔ لیکن پھرایکٹ 74ء متعارف کروایاگیا۔ جس کی رو سے بیوروکریسی اور تمام تر انتظامی معاملات لینٹ افسران کے سپرد کرکے اُنکو تمام مخصوص اداروں کا سرابرہ مقرر کر دیا گیا۔ ان تمام لینٹ افسران کا تعلق پاکستان سے تھا۔ اس عمل نے پاکستانی ریاست کی آزادکشمیر حکومت پر گرفت کو مزید مضبوط کیا اوریہ 1972 کی قرارداد کا ایک ردعمل تھا۔ 1990 کی دہائی میں آزاد کشمیر ہائیکورٹ نے حکومت آزاد کشمیر کو گلگت بلتستان کا انتظام واپس سنبھالنے کا حکم نامہ جاری کیا مگر اسے سپریم کورٹ آزادکشمیر میں چیلنج کر دیا گیا اور کراچی معاہدہ پیش کرکے ہائیکورٹ آزادکشمیر کا فیصلہ واپس کروا دیا گیا۔ تاہم گلگت بلتستان کو تنازعہ کشمیر کا حصہ برقرار رکھا گیا۔
کراچی معاہدہ شفافیت کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ جس کے مکمل مندرجات سے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے لوگوں کو اُس وقت اور دہائیوں بعد تک اندھیرے میں رکھا گیا۔ جس معاہدہ نے اُن کی سیاسی اور سماجی حیثیت کو ایک بڑے پیمانے پر متاثر کیا، محض چند لوگوں کو اُس معاہدے کا علم تھا اور محض ایک اعلیٰ عدالتی شخصیت نے اس کے بارے میں اپنی ایک کتاب میں ذکر کیا اور ثبوت کے طور پر ایک ہفتہ وار رسالہ کا حوالہ دیا جو کہ اُس وقت کے نامی گرامی اخبارات اور رسالوں میں دور دور تک نہیں آتا۔
اس معاہدے کا انکشاف پہلی بار 32 سال بعد 1990 کی دہائی میں ہائیکورٹ آزادکشمیر کے گلگت بلتستان سے متعلق ایک فیصلے میں کیا گیا۔ بعد ازاں 2008 میں آئین آزادکشمیر ضمیمہ نمبر 170 میں جسٹس سید منظور حسین گیلانی نے شامل کیا۔(3)
ریاست کی آزادی جس کے لئے لوگوں نے مہاراجہ ہری سنگھ کے شخصی راج کے خلاف جہدوجہد کی اور ایک انقلابی حکومت کا قیام عمل میں لایا۔ جس کو کراچی معاہدہ میں غیر موثر کر دیا گیا اور 24 اکتوبر 1947 کی حکومت اپنے اغراض و مقاصد کو مکمل کرنے کی قوت سے محروم ہو گئی۔ جن لوگوں نے 1947 کی انقلابی حکومت کی بنیاد رکھی تھی انہی نے بد نام زمانہ معاہدہ کراچی پر دستخط کرکے اپنے ہی موقف کی تردید کر دی۔
ریاست کے عوام کو یہ تاثر دیا گیا کہ کیونکہ کشمیر حکومت اور مسلم کانفرس پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتی تھیں اور یہ رائے شماری کے ذریعے جلد متوقع بھی تھا اور اس کے پیش نظر یہ معاہدہ بھی کیا گیا۔ لیکن درحقیت اس معاہدے کے نتیجے میں وزارت امور کشمیر کے جوائنٹ سیکرٹری کو آزادکشمیر حکومت کے حقیقی سربراہ کی حیثیت دلادی گئی۔
معاہدے کے 71 سال بعد بھی گلگت بلتستان میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے جو اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ یہ معاہدہ حقیقی عوامی خواہشات کے مطابق نہیں تھا اور گلگت بلتستان کے عوام آج بھی اس معاہدے سے نالاں نظر آتے ہیں۔(4،5)
اس معاہدے کے مندرجات سے یہ واضح ہے کہ یہ معاہدہ اتفاق رائے سے منظور نہیں ہوا بلکہ یہ الحاق پاکستان کی طرف ایک اور قدم تھا اور اس معاہدے کے حصہ داروں کی ذاتی خواہشات پر مبنی تھا جوا قوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی تھی۔
بعد ازاں یہ معاہدہ کشمیر یوں کے لیے موثر ثابت نہیں ہوا جیسا کہ پاکستان اور ہندوستان نے 1971 کی جنگ کے بعد شملہ معاہدہ پر دستخط کرتے ہوئے تنازعہ کشمیر کو ایک اندرونی مسئلہ قرار دیا۔ اس معاہدے کی وجہ سے اس مسئلہ کے عالمی اثرورسوخ میں کمی واقع ہوئی۔ دوسرا یہ کہ یہ مسئلہ عالمی سطح پر پاکستان کے قومی مفادات اور خارجہ پالیسی کو مد نظر رکھ کے پیش کیا جاتا رہا۔ لیکن اس مسئلے کو اپنی مکمل ہیت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
گلگت بلتستان عرصہ 50 سال تک اپنے بنیادی حقوق سے محروم رہا۔ 1990 میں الجہاد ٹرسٹ کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک پٹیشن دائر کی گئی۔ جس میں گلگت بلتستان کی محرومیوں کا تذکرہ کیا گیا، جس کے پیش نظر سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کے متنازعہ حیثیت کو تسلیم کیا اور لوگوں کو قانونی اور آئینی حقوق دینے کی ہدایت کی۔
2009 کے گورننس آرڈر کے نتیجے میں خطے کا نام باضابطہ طور پر گلگت بلتستان رکھا گیا جو پہلے شمالی علاقہ جات کے نام سے مشہور تھا۔ گورننس آرڈر کے تحت گلگت بلتستان کو تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنی قانون ساز اسمبلی رکھنے کا حق دیا گیا۔
1949 سے عارضی انتظام کے باوجود پاکستان نے 2009 تک مقامی نمائندگی سے گلگت بلتستان کو محروم رکھا۔ اور یہ نمائندگی ملنے کے باوجود گلگت بلتستان کو اپنے قدرتی ذخائر پر کنٹرول سے محروم رکھا۔ ریفامرز آرڈر 2018 اسی مقصد کا پیش خیمہ تھا۔ جس کے نتیجے میں مقامی لوگوں نے احتجاج ریکارڈ کروائے۔
جنوری 2019 میں پاکستان سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے نے گلگت بلتستان کا پاکستان سے انتظامی رشتہ واضح کیا۔ عدالت نے جہاں گلگت بلتستان کو تنازعہ کا ایک حصہ قرار دیا، وہاں پر اپنی رٹ کو مزید ترویج فراہم کی۔(6،7) متنازعہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 جس کو گلگت بلتستان کی سپریم اپیلٹ کورٹ نے منسوخ کیا تھا کو واپس بحال کر دیاگیا۔
المختصر، سپریم کورٹ کے فیصلے نے دو اہم امورکی طرف توجہ مبذول کروائی۔
پہلا یہ کہ گلگت بلتستان پر پاکستان کا مستقل اور عارضی دونوں طرح کا مکمل انتظامی کنٹرول ہے۔ اور پاکستان کے کنٹرول کا مطلب یہ ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی رٹ خود بخود گلگت بلتستان پر لاگو ہوتی ہے۔ دوسرا یہ کہ گلگت بلتستان میں کوئی آئینی تبدیلیاں نہیں کی جا سکتیں۔ اور اسے پاکستان کا حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیونکہ یہ تنازعہ کشمیر پر موجود اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کریگا۔
ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ معاہدہ کراچی کے نقصانات اس کے فوائد سے زیادہ اس وقت بھی تھے جب یہ معاہدہ عمل میں لایا گیا۔ اب یہ ریاست کی دھرتی پر ایک بوجھ کے سوا کچھ نہیں جو کہ ہماری آزادی کے راستے میں ایک رکاوٹ ہے۔ اس معاہدہ نے آزادکشمیر کا کچھ بھلا نہیں کیا۔ جبکہ گلگت بلتستان کو اس کے بھیانک ثمرات بھگتنا پڑے۔ مزید براں اس معاہدے نے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے درمیان نفرتوں کے پہاڑ کھڑے کیے۔ حالیہ پانچ اگست کے یکطرفہ ہندوستانی فیصلے(جس نے ہندوستانی زیر انتظام کشمیر کی ریاستی حیثیت کو مکمل طور پر تبدیل کرکے رکھ دیا) کے بعد اگر معاہدہ کراچی ایک حقیقت کا روپ اختیار نہ کر چکا ہوتا تو آزاد کشمیرحکومت بشمول گلگت بلتستان 1947 ے پہلے موجود ریاست کی متبادل حکومت کے طور پر عالمی سطح پر تسلیم کی جاسکتی تھی۔ لیکن 1949 میں معاہدہ کراچی کے تحت 24 اکتوبر کی حکومت کو ایک لوکل اتھارٹی بنا دیا گیا۔ تاریخی تناظر میں یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
”قانونی حیثیت لینے نکلے اور آزادی بھی کھو بیٹھے“۔
References
1. 47 (1948). Resolution of 21st April 1948{s/726} The Security Council,2. Human Rights watch{September 2006),”III. Constituitional Structure of Azad Kashmir and its Relationship to Pakistan”. With Freieds like these…. Human Rights Violation in Azad Kashmir, Human Rights Watch.
3. Snedden{ Th untold story of the people of Azad Kashmir) pp.90-91
4. Crisis Group { 2 April 2007) Discord in Pakistan’s Northern Areas.
5. Brussels; International Crisis Group p-5 May 20,2016.
6. Bhatti, Haseeb, 2018 . “Top Court’s Powers Extended to Gilgit- Baltistan, Rules Supreme Court “. Dawn, 2018.
7. Supreme Court ruling on Gilgit Baltistan, January 7, 2019.












20 تبصرے “’معاہدہ کراچی تاریخ کے آئینہ میں‘”