پاکستان کے زیر انتظام جموںکشمیر میںمحکمہ سپورٹس میںہاکی کے کوچ کی خالی آسامی پر کرکٹ کے کھلاڑی کو تعینات کر دیا گیا ہے. جس کا تعلق باغ سے ہے اور وزیرحکومت مشتاق منہاس کا قریبی عزیز ہے. لاک ڈاؤن کے دوران مشتاق منہاس نے خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے یہ ٹیسٹ انٹرویوز منعقد کروائے اور اپنے من پسند افراد کی تقرریاںکر دی گئی ہیں.
گزشتہ جمعہ کے روز مظفرآباد میں محکمہ سپورٹس کی چند آسامیوںپرٹیسٹ انٹرویو رکھے گئے تھے، اس کے علاوہ اتوار کو سدھنوتی اور پیر کے روزراولاکوٹ میںبھی ٹیسٹ انٹرویوز منعقد کئے گئے. مذکورہ اسامیوںکےلئے اخبارات میں اشتہارات دیئے گئے تھے، ڈی جی سپورٹس اور دیگرعملہ نے ٹیسٹ انٹرویو کے عمل کو سرانجام دیا.
مظفرآباد میںہونے والے انٹرویوز اوپن کوٹہ کی پوسٹوںپر تھے جن میںہاکی کوچ، ڈرائیور، فوٹو کاپی مشین آپریٹر سمیت دیگر آسامیاںشامل تھیں. لاک ڈاؤن کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کے باوجود ٹیسٹ انٹرویوز موخر نہیںکئے گئے، جس کی وجہ سے بھمبر، میرپور، کوٹلی سمیت دیگر اضلاع کے لوگ ٹیسٹ انٹرویوزمیںشامل ہی نہیںہو سکے.
جبکہ وزیر حکومت مشتاق منہاس نے پہلے سے تمام آسامیوںپر تعیناتیوںکےلئے نام فائنل کر رکھے تھے، ٹیسٹ انٹرویوز اور اشتہار کی اشاعت کا سارا پراسیس صرف فائل پوری کرنے کےلئے کیا جا رہا تھا.
ہاکی کوچ کی آسامی پرباغ سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے شخص کو تعینات کو تعینات کر دیا گیا جس نے زندگی میںکبھی نہ ہاکی کھیلا اور نہ ہی ہاکی سے متعلق کسی قسم کی کوئی تعلیم حاصل کی. وجاہت نامی شخص کو وزیر حکومت مشتاق منہاس نے تمام قواعد و ضوابط اور خود اشتہار میںدی گئی شرائط کو روندھتے ہوئے تعینات کر دیا ہے.
پاکستان کےزیر انتظام جموںکشمیر میںمحض تین افراد نے پاکستان ہاکی فیڈریشن سے ہاکی کوچ کے تربیتی سرٹیفکیٹ حاصل کر کھے ہیں، جن میںسے صرف ایک امیدوار ٹیسٹ انٹرویو میںشامل تھا، جبکہ ہاکی کے کچھ معروف کھلاڑی بھی اس ٹیسٹ انٹرویو میںشامل ہوئے. جبکہ وزیر حکومت نے اپنے من پسند امیدوار کو تعینات کروانے کےلئے محکمہ پر دباؤ ڈالے رکھا اور تقرری کا آرڈر اسی روز جاری کروایا گیا.
وزیر حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے تریسٹھ ہزار ووٹر ہیں اور انہیںدو وزارتیںملی ہوئی ہیں، جن میںاسامیاں ہی اتنی نہیںہیں کہ اپنے ووٹرز کی ضرورت پوری کر سکوں، ان آسامیوںپر بھی اگر دوسرے اضلاع سے لوگ لگیںگے تو پھر وہ الیکشن میںکیسے لوگوںکے پاس جائیںگے.
تاہم ہاکی کے سابق و موجودہ کھلاڑیوں، ایسوسی ایشنز کے عہدیداران اور سیاسی و سماجی حلقوں نے وزیر حکومت کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم سے فوری طور پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے. انکا کہنا تھا کہ ہاکی کا کھیل ضلع پونچھ کی وجہ شہرت ہے، راولاکوٹ میںپورے کشمیر کا واحد آسٹرو ٹرف بچھا ہوا ہے، جہاںہر طرحکے ٹورنامنٹس ہوتے ہیں. راولاکوٹ، سدھنوتی سمیت دیگراضلاع کے کھلاڑیوں کی ذاتی محنت کے باعث اس کھیل کو فروغ دیا جارہا ہے.
اب جب ہاکی کے فروغ کےلئے حکومتی سطحپر کسی منصوبے کا آغازکیا جا رہا ہے تو وزیر حکومت اس منصوبے کو اقرباءپروری کی نذر کر رہے ہیں جسے کسی صورت قبول نہیںکیا جائے گا. اس سے قبل بھی سپورٹس کے مختلف منصوبوںمیں بھاری کرپشن کی گئی ہے. راولاکوٹ کا سپورٹس کمپلیکس آج تک مکمل تعمیر نہیںہو سکا اور منصوبے کو ختم کر دیا گیا. کروڑوںروپے کے منصوبہ کی ناقص تعمیر، کرپشناور اراضی پر قبضہ کی انکوائری تاحال چل رہی ہے، لیکن پچیس سال پرانا منصوبہ آج تک راولاکوٹ کے کھلاڑیوںکو مکمل سہولیات فراہم کرنے کے قابل نہیںہو سکا ہے.
سیاسی و سماجی حلقوںنے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ہاکی کوچ کی آسامی پرکی جانیوالی جعلی تقرری کو منسوخکرتے ہوئے تعلیمی قابلیت پوری کرنے والے امیدوار کی تعیناتی عمل میںلائی جائے، بصورت دیگرسخت احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا.












15 تبصرے “کھیل سے کھلواڑ: مشتاق منہاس نے کرکٹ کھلاڑی کو ہاکی کوچ تعینات کر دیا”