سائنسدانوں کا زمین کے شمالی مقناطیسی قطب کے سرکنے کی وجہ جان لینے کا دعویٰ

جوناتھن ایموس
بی بی سی سائنس رپورٹر

یورپی سائنسدانوں کے مطابق وہ زمین کے شمالی مقناطیسی قطب کے اپنی جگہ سے ہٹنے کی وجہ اب قابلِ اعتماد طور پر بتا سکتے ہیں جو حالیہ سالوں میں کینیڈا سے سائبیریا کی جانب منتقل ہوا ہے۔

اور اس تیز حرکت کی وجہ سے نیویگیشن یعنی بحری، فضائی اور زمینی راستوں کی نشاندہی کرنے والے نظام میں بار بار تبدیلی کرنی پڑی ہے، جس میں سمارٹ فونز میں موجود نقشوں کے نظام بھی شامل ہیں۔

لیڈز یونیورسٹی کی زیرِ سربراہی ایک ٹیم کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ ممکنہ طور پر ان دو مقناطیسی ٹکڑوں کے درمیان مقابلے کی وجہ سے ہے جو زمین کے بیرونی مرکز یعنی آؤٹر کور کے کنارے پر موجود ہیں۔

زمین کے مرکز میں موجود پگھلے ہوئے مادوں کے بہاؤ میں تبدیلی کی وجہ سے ان خطوں کے اوپر موجود منفی مقناطیسی بہاؤ کی قوت میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔

ڈاکٹر فِل لیورمور کہتے ہیں کہ ‘بہاؤ میں تبدیلی کی وجہ سے کینیڈا کے نیچے موجود حصہ کمزور ہوا ہے اور اس سے سائبیریا کے نیچے موجود حصے کی قوت میں اضافہ ہوا ہے۔‘

زمین کا مقناطیسی قطب شمالی 1840 سے 2019 تک اتنا سرک چکا ہے
بی بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘اسی لیے قطبِ شمالی کینیڈین آرکٹک خطے سے اپنی جگہ چھوڑ کر بین الاقوامی خطِ تاریخ (انٹرنیشنل ڈیٹ لائن) پر سے گزر چکا ہے۔ اگر آپ اسے ‘رسہ کُشی’ کہیں تو شمالی روس اس میں جیت رہا ہے۔’

زمین کے اوپر تین قطب ہیں۔ ایک تو جغرافیائی قطب ہے جس کے گرد زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہے۔

اس کے بعد ارضی مقناطیسی قطب ہے جس کا مقام کم ہی تبدیل ہوتا ہے۔ اس کے بعد شمالی مقناطیسی قطب ہے جہاں مقناطیسی میدان کی لکیریں زمین کی سطح کے مقابلے میں عمودی ہوتی ہیں۔

اور یہ وہی تیسرا قطب ہے جس کی حرکت کا یہاں تذکرہ کیا جا رہا ہے۔

جب اسے پہلی مرتبہ 1830 کی دہائی میں جیمز کلارک روس نے شناخت کیا تھا اس وقت یہ کینیڈا کے نوناووت خطے میں تھا۔

اس دور میں یہ اتنی تیزی سے حرکت پذیر نہیں تھا اور نہ ہی اتنی دور تک جا نکلا تھا۔ مگر 1990 کی دہائی میں اس نے رفتار پکڑی اور یہ بلند سے بلند عرض البلد کی جانب سفر کرتا رہا۔ سنہ 2017 میں یہ خطِ تاریخ عبور کر چکا تھا۔

مقناطیسی قوت کے دو مختلف حصے آپس میں رسہ کشی میں مصروف ہیں۔ دائیں جانب یہ مضبوط ہو رہی ہے تو بائیں جانب سے یہ کمزور پڑ رہی ہے
اس دوران یہ جغرافیائی قطب کے صرف چند سو کلومیٹر کے قریب تک پہنچ گیا تھا۔

گذشتہ 20 سال میں زمین کے مقناطیسی میدان کی ارتقا پذیر ساخت پر نظر رکھنے والی سیٹلائٹس سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے تجزیے سے ڈاکٹر لیورمور اور ان کے ساتھیوں نے شمالی مقناطیسی قطب کی حرکت کا ماڈل تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔

دو سال قبل جب انھوں نے پہلی مرتبہ امریکن جیوفزیکل یونین کی واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے اجلاس میں اپنے تصورات پیش کیے تھے تو انھوں نے تجویز دی تھی کہ زمین کے بیرونی مرکز میں مغرب کی جانب تیزی سے بڑھتے ہوئے مائع مادوں کے ایک فوارے کا اس سے تعلق ہو سکتا ہے۔

مگر یہ تمام ماڈلز پیچیدہ تھے اور ٹیم نے اب اپنے تجزیے پر نظرِثانی کرتے ہوئے بہاؤ کے ایک مختلف انداز کے ساتھ اسے ہم آہنگ کیا ہے۔

ڈاکٹر لیور مور کہتے ہیں کہ مغرب کی جانب بڑھنے والا یہ فوارہ کافی بلند عرض البلد کے نیچے ہے جبکہ بیرونی مرکز میں موجود بہاؤ کی وہ تبدیلی جو قطب کی حرکت کی وجہ بنتا ہے، درحقیقت کافی جنوب میں ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ اس فوارے کی رفتار میں اضافہ سنہ 2000 میں ہونا شروع ہوا جبکہ قطب کی رفتار میں اضافہ 1990 کی دہائی میں ہوا۔

زمین کے تین قطب اور ان کے محلِ وقوع
ٹیم کی تازہ ترین ماڈلنگ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قطب روس کی جانب اپنا سفر جاری رکھے گا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کی رفتار میں کمی آئے گی۔ اپنی تیز ترین رفتار پر بھی یہ 50 سے 60 کلومیٹر فی برس کی رفتار سے سرکتا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘کہا نہیں جا سکتا کہ یہ مستقبل میں واپس جائے گا یا نہیں۔’

حالیہ عرصے میں شمالی مقناطیسی قطب کے اس تیز سفر کی وجہ سے گذشتہ سال امریکہ کے نیشنل جیوفزیکل ڈیٹا سینٹر اور برٹش جیولاجیکل سروے نے عالمی مقناطیسی ماڈل کے لیے قبل از وقت اپ ڈیٹ جاری کی تھی۔

یہ ماڈل پورے کرہ ارض پر پھیلے ہوئے مقناطیسی میدان کا ماڈل ہے۔ اسے دنیا کی تمام نیویگیشن آلات بشمول جدید سمارٹ فونز میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ قطب نما کی غلطیوں کو درست کیا جاسکے۔

ڈاکٹر لیورمور اور ان کے ساتھیوں نے یورپی خلائی ادارے کی سوارم سیٹلائٹس سے حاصل کردہ ڈیٹا پر انحصار کیا اور ٹیم نے اپنی تحقیق نیچر جیوسائنس نامی تحقیقی جریدے میں شائع کروائی ہے۔

(نوٹ:‌یہ تحقیقی مضمون برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو پر شائع کیا گیا)

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: