تیل کی قیمتوں‌میں کمی: کون سا ملک کتنا تیل زخیرا کر سکتا ہے؟

تیل درآمد کرنے والے ایشیائی ممالک بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں گراؤٹ کا فائدہ اٹھا کر اپنے خام تیل کے سٹاک کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایشیائی ممالک کی تیل کی سپلائی اور سٹریٹیجک ریزروز (محفوظ ذخائر) کے حوالے سے چند اہم سوالات کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

سٹریٹیجک ریزروز تیل یا دوسرے ایندھن کے وہ ذخائر ہوتے ہیں جنہیں حکومتیں سٹوریج کی محفوظ سہولیات میں ذخیرہ کرتی ہیں تاکہ توانائی کی ترسیلات کی غیر متوقع بندش کی صورت میں انہیں استعمال کیا جا سکے۔

’فراسٹ اینڈ سولیون‘ نامی کنسلٹنسی فرم میں انرجی اور انوائرمنٹ کے ریجنل نائب صدر راوی کرشنا سوامی کے مطابق بڑی معیشتیں جیسے کہ امریکہ، روس اور چین نے 1970 کی دہائی میں تیل ذخیرہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ ان ممالک کی جانب سے تیل ذخیرہ کرنے کی شروعات کی وجہ 1973 کی عرب اسرائیل جنگ اور ایران کا انقلاب بنے۔

تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش
چین کے بارے میں خیال ہے کہ اس کے پاس ایشیا پیسیفک میں تیل ذخیرہ کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت ہے۔ گوکہ بیجنگ اپنی صلاحیت کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی معلومات فراہم نہیں کرتا تاہم تجزیہ نگاروں کے مطابق چین 550 ملین بیرل تیل سٹور کر سکتا ہے۔

اس کے مقابلے میں امریکہ کی سٹریٹیجک ریزروز 630 ملین بیرل کے قریب ہیں۔

حال ہی میں چین کے سرکاری چائنہ نیشنل پٹرولیم کارپوریشن کا کہنا تھا کہ ملک کے تیل کے محفوظ ذخائر ناکافی ہیں اور یہ ابھی تک 90 دن کے لیے کافی عالمی معیار تک نہیں پہنچے ہیں۔

انٹرنیشل انرجی ایجنسی کے ممبران کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے 90 دن کی درآمدی ضروریات کے برابر تیل سٹاک میں رکھیں۔ تاہم چین ایجنسی کا مکمل نہیں بلکہ ایسوسی ایٹ ممبر ہے۔

جاپان کے تیل کے ذخائر تقریبا 500 ملین بیرل کے قریب ہیں جو کہ سات مہینے کے لیے کافی ہے۔

دسمبر 2019 میں جنوبی کوریا کے تیل کے سٹریٹیجک ریزروز 96 میلن بیرل تھے جو کہ 89 دنوں کے لیے ملکی ضروریات کے لیے کافی ہے۔

اس کے مقابلے میں انڈیا کے تیل کے سٹریٹیجک ریزروز 40 ملین بیرل ہیں جو ملک کی صرف دس دن کی ضروریات کے لیے کافی ہے۔

سٹریٹیجک ریزروز عموماً زیرزمین غاروں میں ذخیرہ کیے جاتے ہیں۔ امریکہ کے سٹریٹیجک پٹرولیم ریزروز گلف کوسٹ کے ساتھ زیر زمین نمک کے غاروں میں ذخیرہ کیے جاتے ہیں۔
لیکن تیل ذخیرہ کرنے کے لیے زیر زمین غاروں کی تعمیر ایک چیلینجنگ کام ہے کیونکہ اس کے لیے صیحح ارضیاتی تشکیل کی ضرورت ہوتی ہے۔

ان غاروں کی تعمیر پر اٹھنے والے اخراجات انتے زیادہ ہیں جس کی وجہ سے بہت سے ممالک اپنی ضرورت کے لیے کافی سہولیات تعمیر نہیں کر سکے ہیں۔

ایشیا میں تیل ذخیرہ کرنے کے لیے انڈیا زیرزمین غاریں استعمال کرتا ہے تاہم جاپان اس مقصد کے لیے زمین کے اوپر رکھے ٹینک استعمال کرتا ہے۔

آسٹریلیا جو کہ کبھی ترقی یافتہ ممالک میں سب سے کم تیل ذخیرہ کرنے والا ملک تھا، کا کہنا ہے کہ وہ قیمتوں میں کمی سے فائدہ اٹھا کر امریکہ میں تیل ذخیرہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ کیونکہ آسٹریلیا کے پاس تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش پہلے ہی پوری ہوچکی ہے۔

آسٹریلیا کا امریکہ کے ساتھ معاہد ہے جس کے تحت وہ سٹریٹیجک پٹرلیم ریزروز میں جگہ لیز پر لے سکتا ہے۔

چین میں گذشتہ ماہ شنگھائی انرجی ایکسچینج نے سرکاری سنوپگ پٹرولیم ریزروز کو تیل ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کی اجازت دی تھی۔

انڈیا کی توانائی کی وزات نے 15 اپریل کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ وہ اپنے ذخائر کو مکمل گنجائش تک بھرنے کے لیے خام تیل خرید رہا ہے لیکن انڈیا کے پیٹرو واچ کے ایڈیٹر مادھو نیان نے سوال اٹھایا کہ کیا ملک میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے بھی کہ نہیں؟

ان کے مطابق انڈیا میں سٹوریج ٹینک اور پائب لائن اور ڈیلرز کے ٹینک بھی بھرے ہوئے ہیں۔
جاپان کی وزارت تجارت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ موجودہ زخائر کافی ہیں جب کہ جنوبی کوریا رواں سال اپنےذخائر میں ایک فیصد بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

کئی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ لاک ڈاون ہٹانے سے معاشی سرگرمیاں فوراً پہلے کی طرح بحال نہیں ہوجائیں گی تاہم ویکسین تیار ہوجانے کے بعد ایسا ممکن ہے۔

او اے این ڈی اے کے سینیئر تجزیہ کار جیفری ہیلے نے اے ایف پی کو بتایا کہ ‘تیل کی کم قیمتیں ایشیا کی معیشت کی بحالی میں تیزی نہیں لا سکتیں۔’

تیل کے بڑے درآمد کنندگان جیسے چین، جاپان اور جنوبی کوریا کو عام حالات میں تو قیمتیں کم ہونے سے فائدہ پہنچتا تھا لیکن موجودہ حالات میں ایسا ممکن نہیں کیونکہ کورونا وائرس کی کی وجہ سے ان کی معیشتوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔

ڈائی ایچی لائف ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے اقتصادی ماہر توشیریو ناغاما کا کہنا ہے کہ ‘قیمتیں گرنے کا جاپان کی معیشت پر منفی اثر پڑا ہے۔’

کچھ اقتصادی ماہرین کو توقع ہے کہ تیل کی قیمتیں لمبے عرصے تک کم رہنے سے بنیادی درآمدکنندگان کی معیشت پر اچھا اثر پڑے گا۔

کوریا انرجی اکانومکس انسٹیٹیوٹ کے محقق جونگ جون ہوان کا کہنا ہے کہ ‘کورونا کے بعد کے حالات میں تیل کی قیمتیں کچھ حد تک کم رہنے کا امکان ہے جس کا جنوبی کوریا کی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا۔’

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: