تین مئی کو دنیا بھر میںآزادی صحافت کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے. دنیا بھر میںصحافت کو ایک اہم شعبہ کے طورپر گردانا جاتا ہے اور صحافت کی آزادی کو معاشرے کی آزادی سے منسوب کیا جاتا ہے. گو کہ طبقاتی معاشرے میں صحافت، ادب، فن، ثقافت، سیاست، معیشت غرضیکہ ہر ایک شعبہ حکمران طبقے کے نہ صرف کنٹرول میںہوتا ہے بلکہ ہر ایک شعبے کو حکمران طبقہ اپنے نظام کو جاری و ساری رکھنے اور لوٹ مار کو جاری رکھنے کےلئے راہیںہموار کرنے کے اوزار کے طور پر ہی استوار و استعمال کرتا ہے. لہٰذا طبقاتی معاشرے میںصحافت کی آزادی کی مثالیں تلاش کرنا ایک ناممکن عمل ہے، جبکہ غیر جانبداری کا مطالبہ اور دعویٰ کرنا بھی محض خود فریبی کے علاوہ کچھ نہیںہو سکتا.
دنیا بھر میں اس وقت میڈیا ایک کارپوریٹ شکل میں موجود ہے اس لئے کارپوریٹ سیکٹر کے منافعوں کو جاری رکھنے اور حکمران طبقات کے تضادات میں متاثر میڈیا ہاؤسز (جو کہ اسی نظام کے محافظ اور حکمران طبقے کے کسی نہ کسی دھڑے کا حصہ ہوتے ہیں) کو پہنچنے والے مالی نقصانات کو میڈیا کی آزادی اور پابندیوں سے منسوب کر دیا جاتا ہے. دنیا بھر میں قلم کے سپاہیوںکے حقوق اور انکی آزادانہ رپورٹنگ کے حق میں خال خال ہی کوئی بات کی جاتی ہے یا رپورٹس جاری کی جاتی ہیں.
گزشتہ ماہ پاکستان پریس فریڈم رپورٹ کے نام سے ایک رپورٹ جاری کی گئی، جس کے مطابق ملکی دارالحکومت اسلام آباد صحافیوں کے لیے کام کرنے کی سب سے خطرناک جگہ بن کر سامنے آیا ہے کیونکہ اکانوے میں سے ایسے اکتیس واقعات اسلام آباد ہی میں ریکارڈ کیے گئے۔ صوبہ سندھ دوسرے نمبر پر رہا جہاں گزشتہ برس ایسے چوبیس کیسز ریکارڈ ہوئے جبکہ پنجاب میں بیس، خیبرپختونخوا میں تیرہ اور بلوچستان میں ایسے تین واقعات سامنے آئے۔ پاکستان کے زیر انتظام جموںکشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقوں سے متعلق کوئی ڈیٹا نہیں جاری کیا جاسکا.
جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ٹارگٹ کیا جانے والا میڈیم ٹیلی وژن ہے۔ اکانوے میں سے تریسٹھ مجرمانہ واقعات ٹیلی وژن صحافیوں کے خلاف ریکارڈ کیے گئے۔ اس کے بعد پرنٹ میڈیا دوسرے نمبر پر رہا، جہاں پچیس کیسز سامنے آئے جبکہ آن لائن صحافیوں کے خلاف جرائم کے تین واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ”پاکستان میں صحافت کو کنٹرول کرنے کی غرض سے سینسرشپ کے مختلف طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں صحافیوں کا قتل، انہیں دھمکیاں دینا اور ہراساں کیا جانا بھی شامل ہیں۔ اگر چیدہ چیدہ واقعات کو دیکھیں تو 91 میں سے سات صحافیوں اور ایک بلاگر کے قتل کے علاوہ دو کے اغوا، نو کی گرفتاری، دس پر حملے، تیئیس کو دھمکیوں، دس کے کام کو سینسر کیے جانے اور آٹھ صحافیوں کے خلاف قانونی مقدمات درج کیے گئے گئے۔ اس کے علاوہ دیگر میڈیا نمائندوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔‘‘
رپورٹ کے مطابق ”چاروں صوبوں میں کوئی بھی جگہ صحافیوں کے لیے محفوظ نہیں ہے کیونکہ صحافیوں پر حملے ہر جگہ ہو رہے ہیں اور حیران کن بات یہ ہے کہ ریاست اور اس کے اداروں کا ان حملوں کے پیچھے نمایاں کردار رہا ہے۔ اکانوے میں سے بیالیس فیصد کیسز تو میڈیا پریکٹیشنرز کے خلاف کی گئی خلاف ورزیوں پر درج کیے گیے۔ ان متاثرہ کارکنوں کے خاندانوں کا ماننا ہے کہ ان حملوں میں سیاسی پارٹیوں اور مذہبی اور جرائم پیشہ گروہوں کے ساتھ ساتھ ایسے بااثر لیکن نامعلوم افراد بھی شامل تھے، جو دھمکیاں دیتے رہے تھے۔‘‘
ایک پاکستانی صحافی نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”پاکستان میں صحافت اور صحافیوں کی صورتحال بہت پریشان کن ہے۔ صحافتی آزادی خطرے میں ہے۔ صحافیوں کو بلاخوف قتل کر دیا جاتا ہے اور قاتل آزاد گھومتے رہتے ہیں۔ آج کل کی سینسرشپ آمریت کے دور کی سینسرشپ سے بھی بدتر ہے۔ یہ غیر اعلانیہ مارشل لا ہے۔ سچ لکھنے اور بولنے کے جرم میں صحافیوں کو ڈرانے دھمکانے، غائب اور قتل کر دینے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ لیکن ایسا کرنے سے بھی سچ ختم نہیں ہوتا۔ آج کا پاکستانی صحافی سب سے زیادہ غیر محفوظ ہے کیونکہ جب صحافیوں پر حملے ہوتے ہیں تو خود ان کے اپنے آجر میڈیا ادارے بھی ان کی مدد یا حمایت نہیں کرتے۔ خود مجھ پر بھی دو بار حملہ ہو چکا ہے۔ خاص طور پر کشیدگی سے متاثرہ علاقوں میں صحافتی ذمہ داریاں نبھانا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔‘‘
اس ساری صورتحال میں اگر دیکھا جائے تو قلم کا مزدور سنگین ترین حالات میں اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے، بالخصوص تنازعات والے علاقوںمیں صحافی نہ صرف بلاتنخواہ کام کرنے پر مجبور ہیں بلکہ تنازعات سے متعلق خبریں انکی مرضی کی بجائے آئی ایس پی آر کی مرضی و منشاء سے شائع کی جاتی ہیں. بالخصوص پاکستان کے زیر انتظام جموںکشمیر اور گلگت بلتستان سے جانے والی خبروں کو کارپوریٹ میڈیا میں صرف اسی وقت جگہ مل سکتی ہے جب انکی تصدیق اور اجازت آئی ایس پی آر کی طرف سے ملتی ہے.اسی طرح سابق فاٹا اور بلوچستان سے متعلق خبروں کو بھی میڈیا پر جگہ نہیںمل سکتی، مثال کے طور پر یکم مئی کو سابق امیدوار اسمبلی عارف وزیر کو وزیرستان میں دن دیہاڑے گولیاںماری گئیں، وہ ایک روز اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئے، انکی آخری رسومات میںہزاروں افراد نے شرکت کی. عارف وزیر ایک ممبر قومی اسمبلی کے کزن تھے، لیکن یہ خبر کسی روایتی میڈیا کی زینت نہ بن سکی. جبکہ عالمی میڈیا پر اسے بھرپور جگہ دی گئی.
اسی طرحمین سٹریم میڈیا میں کام کرنے والے صحافی بیگانگی اور اکتاہٹ کا شکار ہو کر متبادل کاروبار یا کام کاج کی تلاش شروع کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں. ایک صحافی کا کہنا ہے کہ جب اپنا ہنر اجرت کیلئے فروخت کرنا پڑے اور اجرت دینے والے کی مرضی و منشاء کے مطابق حقائق کی توڑ مروڑ یا سیلف سنسرشپ پر مجبور کر دیا جائےتو اس کام کےلئے وہ جذبہ موجود نہیںرہتا جس جذبے کے تحت ہم لوگوں نے اس شعبے کا انتخاب کیا تھا. یہی وجہ ہے کہ جب اپنی مرضی کی ایک لائن بھی آپ شائع کرنے کی اہلیت نہ رکھتے ہوں تو نہ صرف اس کام سے اکتاہٹ ہو جاتی ہے بلکہ پورے معاشرے سے ہی اکتاہٹ اور بیزاری کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے.
کارپوریٹ میڈیا پر پابندیوں اور سنسرشپ نے متعدد صحافیوں کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا سہارا لینے پر مجبور کیا ہے. کارپوریٹ میڈیا سے تنخواہیں لینے والے جن صحافیوںنے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر اپنی مرضی چلانے کی کوشش کی تو انہیںنوکریوںسے محروم ہونا پڑا. عالمی یوم صحافت کے موقع پر ہی یہ خبر بھی گرم ہے کہ سوشل میڈیا، یوٹیوب وغیرہ کے ذریعے کام کرنے والے صحافیوںکو اب کام کرنے کی اجازت نہیںدی جائے گی. اب صرف وہی صحافی کام کر سکے گا جو پیمرا کے رجسٹرڈ چینلز یا رجسٹرڈ اخبارات کے ساتھ منسلک ہو گا.
صحافیوںکی یونینز اور پریس کلب بھی کارپوریٹ میڈیا اداروں یا ریاست کےلئے کام کرنے کی ہی روش اپنا چکے ہیں. جس کی وجہ سے صحافیوں کی آزادی صحافت اور صحافیوںکے حقوق کےلئے کی جانیوالی جدوجہد بھی اب تقریبآ ختم ہو چکی ہے.
آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر قلم کے مزدوروں کو اس بات کا ادراک کرنا ہو گا کہ سرمایہ دارانہ نظام کی موجودگی میں صحافت کی آزادی یا غیر جانبداری کی توقع رکھنے کی بجائے آزادی صحافت کےلئے جدوجہد کو منظم کرنا ہوگا. اقلیت کےلئے جانبداری کی کارپوریٹ میڈیا کی روش کو دھتکارتے ہوئے اکثریت کےلئے جابنداری پر مبنی صحافت کی بنیادیں رکھنے کےلئے صف آرائی کرنا ہوگی. ریاستی بندشوں، جبر، اغواء کاریوں، قتل و غارتگری سے خوفزدہ ہو کر خاموشی اختیار کرنے سے مسائل حل نہیںہونگے بلکہ ان میںمزید اضافہ ہی ہوتا جائے گا.
اس لئے سرمائے کی جھکڑ بندیوںمیں قید قلم کے مزدوروں کو نہ صرف کارپوریٹ میڈیا بلکہ ریاست کے جبر کے خلاف جدوجہد میں اپنے آپ کو ریاست کا چوتھا ستون سمجھنے کی بجائے اپنی طبقاتی حیثیت کا ادراک کرتے ہوئے اس نظام کے خلاف ہونے والی جدوجہد کا اپنے آپ کو نہ صرف حصہ بنانا ہوگا بلکہ ایک غیر طبقاتی معاشرے کے اندر پنپنے والی آزاد و خودمختار صحافت کی بنیادیں ڈالنی ہونگی تاکہ حکمرانوں کے سماج پر حاوی لوٹ مار اور استحصال کے فلسفے کے خلاف مزاحمت کے فلسفے سے معاشرے کو آشکار کیا جا سکے اور جبر کو سہنے کی بجائے جبر کے خلاف جدوجہد کی ترغیب کو اجاگر کیا جا سکے.












Your article helped me a lot, is there any more related content? Thanks!