بھارتی کشمیر میں‌لاک ڈاؤن: آبادی کے 45 فیصد حصے میں‌ذہنی امراض کی علامتیں

کورونا وائرس کے خوف اور اس کے پیش نظر نافذ لاک ڈاؤن سے بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں ذہنی صحت کی حالت بد سے بدتر ہورہی ہے جس کے باعث جہاں ایک طرف گھروں کا چین وسکون برباد ہورہا ہے وہیں یہ وبا کورونا وبا سے بھی بھیانک صورتحال اختیار کرسکتی ہے۔وادی میں بعض تنظیمیں سرگرم ہوگئی ہیں جو لاک ڈان کے بیچ ذہنی مریضوں کو ضروری سہولیات بہم پہنچانے میں مصروف عمل ہیں۔

خبر رساں ادارے ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ماہرین نفسیات کا ماننا ہے کہ وادی میں پہلے ہی ہر پانچ افراد میں سے تین افراد ذہنی مریض ہیں اور کورونا وبا اور اس کے پیش نظر لاک ڈان سے صورتحال مزید ابتر ہوگئی ہے۔

ذہنی مریضوں کو مدد پہنچانے والے ایک ادارہ اتفاق، یونائیٹڈ وی سٹینڈ سے وابستہ اور انسٹی ٹیوٹ آف منٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز کشمیر کی ریسرچ اسکالر نادیہ اشفاق کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا شدہ خوف کو دور کرنے کے متعلق ہم سے کافی سوالات پوچھے جاتے ہیں۔القمرآن لائن کے مطابق انہوں نے کہا کہ اس خوف کو دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ لوگ کورونا وائرس کے متعلق اپ ٹو ڈیٹ رہیں اور سوشل میڈیا پر آنے والے ہر پوسٹ کو پڑھیں نہ اور شیئر کریں۔ان کا کہنا ہے کہ ان کا ادارہ ذہنی مریضوں کو اس مشکل گھڑی میں ماہرین نفسیات کی سہولیات فراہم کرتے ہیں اور انہیں دیگر ضروری مشورے دینے کے لئے اقدام کررہا ہے۔

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ وادی میں پانچ اگست کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے باعث ذہنی مرض ایک وبا کی شکل اختیار کرگیا تھا لیکن اب کورونا وبا نے اس کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔وادی میں مختلف شعبہ ہائے حیات جیسے سیاحت، ٹرانسپورٹ سے جڑے لوگوں اور دیگر تجارت پیشہ لوگ بالخصوص مزدور طبقے میں ذرائع معاش مفقود ہونے کے باعث ذہنی مرض نہ صرف مزید سنگین ہوگیا ہے بلکہ اس نے مزید لوگوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا ہے اور صحت یاب ہوئے مریضوں میں بھی یہ بیماری دوبارہ زندہ ہوگئی ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق محمد علی نامی ایک اعلی تعلیم یافتہ شہری نے کہا کہ کورونا وائرس کے خوف کی وجہ سے ذہنی مرض میں اضافہ ہوا ہے اور وائرس کے پیش نظر لاک ڈان سے لوگوں خاص کر ٹرانسپورٹ اور سیاحت سے جڑے لوگوں، دکانداروں، مزدروں، ریڈہ بانوں کا روز گار متاثر ہونے سے وہ ایسی پریشانیوں میں گرفتار ہوئے ہیں جو ذہنی صحت پر اثر انداز ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ ذہنی امراض میں مبتلا لوگوں سے نہ صرف ان کے خاندان کا امن وسکون درہم و برہم ہوگا بلکہ معاشرے پر بھی اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
سینئر ذہنی صحت تھراپسٹ نازیہ رشید کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے خوف سے ہمارے تمام کام متاثر ہوجاتے ہیں لہذا اپنی ذہنی صحت کو صحت مند رکھنے کے لئے ہمیں لاک ڈان کو معمولات کا حصہ بنالینا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ لاک ڈان کے دوران ذہنی صحت کا توازن برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے آپ کو بھی وقت دیں اور گھر والوں کے ساتھ بھی ٹھیک وقت گذاریں۔پاکستان کی ایک ماہر عظمی خورشید کا کہنا ہے کہ کشمیر میں لوگوں کو اپنی خوراک کی طرف خاص توجہ دینے اور کورونا کے بارے میں جاری کی جانے والی ہدایات پر عمل کرنا چاہئے ۔2015 میں ڈاکٹرز ودآوٹ بارڈرس اور انسٹی ٹیوٹ آف منٹل ہیلتھ اور نیورو سائنسز سری نگر نے کشمیر میں ذہنی صحت پر ایک جامع سروے کیا جس میں یہ پایا گیا ہے کہ یہاں ذہنی صحت کے مسائل وبا کی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔

القمرآن لائن کے مطابق سروے میں انکشاف ہوا تھا کہ 18 لاکھ کشمیریوںمیں ذہنی امراض کی علامتیں موجود ہیں، جو یہاں کی آبادی کا 45 فیصد حصہ بنتا ہے ۔ سروے میں پایا گیا تھا کہ وادی میں 16 لاکھ بالغان میں ڈپریشن کی واضح علامتیں موجود ہیں۔ دس لاکھ ایسے ہیں جن میں اینگزائٹی کی علامتیں موجود ہیں۔ 93 فیصد کشمیری وہ ہیں جنہیں وادی میں جاری شورش کے متعلق ٹراما کا سامنا کرنا پڑا ہے۔