فاروق حیدر حکومت کراچی سمیت دیگر شہروں میں پھنسے کشمیریوں کی ذمہ داری لے، سردار صغیر خان ایڈووکیٹ

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے کہاہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں پھنسے محنت کشوں کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے فوری طور پر اقدامات کئے جائیں۔ کراچی، لاہور، کوئٹہ، فیصل آباد اور دیگر شہروں میں ہزاروں کشمیری محنت کش مختلف فیکٹریوں اور ہوٹلوں وغیرہ میں محنت مزدوری کرنے کی غرض سے مقیم تھے جنہیں لاک ڈاؤن کے بعد نوکریوں سے بھی فارغ کر دیا تھا اور انکے پاس وہاں رہنے اور کھانے پینے کے اخراجات بھی موجود نہیں ہیں۔

ہزاروں محنت کش بارہا سوشل میڈیا کے ذریعے بھی حکومت سے مدد کی اپیل کر چکے ہیں لیکن تاحال حکمرانوں نے ان کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے ہیں۔ انہوں نے میڈیاکو جاری ایک بیان میں کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں محنت کش دو وقت کے کھانے سے بھی محروم ہیں اور اگر انکی بحالی کیلئے فوری اقدامات نہ کئے گئے تووہ فاقہ کشی کا شکار ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر حکومت ان محنت کشوں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے فوری طور پر اقدامات کرے تاکہ انکی مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح گلگت بلتستان حکومت نے پاکستان کے مختلف شہروں میں پھنسے اپنے شہریوں کی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے انہیں آبائی علاقوں تک پہنچانے کیلئے اقدامات کئے ہیں اسی طرح فاروق حیدر حکومت بھی پاکستان کے مختلف شہروں میں پھنسے کشمیریوں کی ذمہ داری لیتے ہوئے انہیں آبائی علاقوں تک پہنچانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ گلف ممالک سے واپس بھیجے جانے والے کشمیریوں کی مشکلات کا ازالہ کرنے کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں، انہیں حکومت اپنے اخراجات میں قرنطینہ مراکز میں رکھے اور ترجیحی بنیادوں پر انکے ٹیسٹ کرتے ہوئے انہیں گھروں تک پہنچانے کیلئے اقدامات کئے جائیں، بیرون ممالک موجود محنت کش اپنا خون پسینہ نچوڑ کر اس خطہ کی معیشت کو چلاتے ہیں، آج جب ان پر مشکل وقت آیا ہے تو مقامی حکومتیں انکی ذمہ داری لینے سے گریزاں ہیں۔