پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے ڈویژنل صدر مقام راولاکوٹ کے قریبی گاؤں تراڑ(دیوان)کے پورے گاؤں کوانتظامیہ نے مکمل سیل کردیاہے۔
دو روزقبل اس گاؤں کے ایک شخص محمداشفاق کوکروناوائرس کامریض قراردے کرآئی سی یووارڈمیں منتقل کردیاگیاتھا۔اس مریض کے گھروالوں اورجن جن لوگوں سے اس نے ملاقات کی تھی جواس کی تیمارداری کے لئے آئے تھے ان میں سے تقریباًتیس مردوں عورتوں کوانتظامیہ نے راولاکوٹ میں قائم مختلف قرنطینہ سنٹرزمیں منتقل کردیاہے۔
ہفتہ کے روزراولاکوٹ کے صحافیوں نے تراڑدیوان کادورہ کیامگرگاؤں کے انٹری پوانٹس پرپولیس کی بھاری نفری سب انسپکٹرکی سربراہی میں تعینات ہے جونہ ہی کسی کواس گاؤں میں داخل ہونے دیتی ہے اورنہ ہی باہرنکلنے دیتی ہے البتہ راستے میں صحافیوں کوپانچ گاڑیاں اورتین موٹرسائیکل ملے جن پرسوارافرادراولاکوٹ شہرکی طرف آرہے تھے۔
وہاں موجودوہاں کی سیاسی وسماجی شخصیت سردارامتیازاکبرایڈووکیٹ جوکہ ورلڈاسلامک پولی ٹیکل پارٹی کے چیئرمین بھی ہیں نے صحافیوں کوبتایاکہ جس گاؤں کوسیل کیاگیاہے اس میں اس وقت نہ ہی سپرے کروایاگیانہ ہی سیل شدہ گاؤں کے مکینوں کواس وقت تک کوئی راشن مہیاکیاگیااورنہ ہی ان کوراشن لانے کے لئے گھروں سے باہرنکلنے دیاجارہاہے،محکمہ صحت عامہ کی کوئی ٹیم اس وقت تک اس گاؤں میں نہیں آئی۔
نہ انتظامیہ کاکوئی اہلکاردیکھنے میں آیا۔صحافیوں کے مطابق وہاں موجودتین چاردکانات کھلی ہوئی تھیں۔












Thank you for your sharing. I am worried that I lack creative ideas. It is your article that makes me full of hope. Thank you. But, I have a question, can you help me?