جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے آن لان کلاسز کے خاتمے، سمسٹرز سیز کرنے اور لاک ڈاؤن کے متاثرین کو ریلیف پیکیج دیئے جانے کے مطالبہ پر علامتی احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا ہے، اس سلسلے میں پہلا علامتی احتجاج راولاکوٹ میں جے کے این ایس ایف کے مرکزی سیکرٹریٹ کے سامنے مرکزی صدر ابرار لطیف کی قیادت میں این ایس ایف کے عہدیداران نے کیا، اس احتجاجی تحریک کے دوران کشمیر بھر میں این ایس ایف کے کارکنان کورونا وائرس کی حفاظتی تدابیر کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے حکمرانوں تک اپنے مطالبات پہنچانے کی کوشش کریں گے اور طلبہ کو حکومتی بے حسی کے خلاف متحرک کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔
مرکزی صدر این ایس ایف نے راولاکوٹ میں علامتی احتجاج کے موقع پرگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام یونیورسٹیوں میں سمسٹرز سیز کرنے اور فیسیں معاف کرنے کے علاوہ تمام نجی تعلیمی اداروں کو تخمینہ لگا کر ان میں زیر تعلیم طلبہ کی فیسیں حکومتی فنڈز سے ادا کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر یونیورسٹیوں کے سمسٹرز سیز کئے جائیں اورطلبہ کی جمع شدہ فیسوں کو ہی لاک ڈاؤن کے بعد سمسٹر رواں ہونے پر انکے لئے استعمال کیا جائے، تمام کالجز اور سکولوں کی فیسیں فوری معاف کی جائیں، بوسیدہ انفراسٹرکچر کی وجہ سے آن لائن کلاسز کے نام پر ایک نیاکاروبار شروع کر دیا گیا ہے جس پر فوری طور پر پابندی عائد کی جائے، معاشی طور پر مفلوج ہو چکے والدین پر آن لائن کلاسز کے نام اضافی مالیاتی بوجھ کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تین ہزار روپے ماہانہ مالی امداد سے پورے گھرانے کا خرچہ چلانے کا درس دینے والے حکمرانوں کو نجی سکولوں کی پندرہ سو روپے فیس کو معمولی قرار دیتے ہوئے شرم سے ڈوب مرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ فوری طور پر تمام نجی سکولوں کی فیسوں کو تخمینہ لگاتے ہوئے تین ماہ کی فیسیں حکومتی فنڈز سے جمع کروائی جائیں، محنت کشوں اور دیہاڑی دار مزدوروں کو ریلیف پیکیج دیا جائے، تمام یوٹیلٹی بلز اور قرضہ جات معاف کئے جائیں، محکمہ صحت کے ملازمین کو فوری طور پر سہولیات اور حفاظتی سامان فراہم کیاجائے۔ پی ٹی وی ٹیکس کے نام پر عوام کی جیبوں سے اربوں روپے نچوڑنے کا نیامنصوبہ فی الفور واپس لیا جائے۔ حکمران طبقات اس بحران کو اپنے لئے مال بنانے کے موقع کے طورپر دیکھ رہے ہیں، سرمایہ داروں کو سبسڈیز دی جا رہی ہیں، سامراجی امداد کیلئے لاک ڈاؤن کے نام پر لوگوں کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے تمام طلباء و طالبات سے بھی اپیل کی کہ وہ اس وقت نہ صرف اپنے طبقہ کے لوگوں کو سماجی دوری اور وبائی مرض سے بچاؤ کیلئے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ترغیب دیں، بلکہ انکی زندگیوں کو بچانے کیلئے انکے کندھوں سے کندھا ملا کر اپنا کردار ادا کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ طلبہ پر اس وقت معاشرے کی سب سے باشعور پرت ہونے کی وجہ سے یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ ریاست کو اسکی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبورکرنے کیلئے ایک تحریک منظم کریں۔ اس نظام کے اندراب وہ گنجائش موجود نہیں ہے، نہ ہی حکمران طبقہ میں یہ اہلیت موجود ہے کہ وہ ایک چھوٹے سے بحران کے خلاف کوئی سنجیدہ پالیسی ترتیب دے سکیں، وہ ہر بحران، ہر ترقی کے عہد میں صرف اپنی تجوریاں بھرنے کی پالیسیاں بناسکتے ہیں۔
ہمیں اس نظام کے خلاف ایک جدوجہد کو منظم کرنا ہوگا تاکہ بھوک، بیماریاں، لاعلاجی، نفرت، دہشت گردی اور استحصال کا موجب بننے والے اس نظام کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ آج دنیا بھر کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی بقاء صرف اورصرف سائنسی سوشلزم کے نظریات میں ہی ہے کہ جن کے تحت اس دنیا میں موجود ترقی اور ٹیکنالوجی کو انسانیت کی فلاح کیلئے استعمال کرتے ہوئے اس کرہ ارض کو انسانیت کیلئے جنت کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔












Your point of view caught my eye and was very interesting. Thanks. I have a question for you.