پاکستانی کشمیر: کورونا کا دوسرا کیس مثبت، انتظامیہ کی غفلت سے شہری پریشان

پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیرمیں‌کورونا وائرس کا دوسرا مریض سامنے آگیا. لاک ڈاؤن پر عملدرآمد اس وقت بے معنی ہو کر رہ گیا جب سیکڑوں‌کی تعداد میں‌ مختلف شہروں‌سے آئے شہریوں‌کو رات کے اندھیرے میں‌کشمیر کے مختلف شہروں‌میں‌داخل ہونے کی کھلی اجازت دی گئی. آزاد پتن سے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سیکڑوں‌افراد کو راولاکوٹ داخل ہونے دیا گیا، کسی کو بھی قرنطینہ مرکز منتقل نہیں‌کیا گیا. اس کے علاوہ بیرون ملک سے آنے والے بھی کئی افراد بغیرکسی ٹیسٹ کے مختلف شہروں‌میں‌موجود ہیں. اسی طرح‌کا ایک کیس میرپورمیں‌ٹیسٹ کرنے پر مثبت آیا ہے.

ابھی تک جن افراد کے ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں ان میں‌کورونا کی کوئی نا کوئی علامت ظاہر ہوچکی ہوتی ہے. جبکہ قرنطینہ مراکز میں‌رکھے گئے افراد کے ٹیسٹ نہیں‌کئے جا رہے ہیں.

شہریوں‌کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے شہریوں‌نے جو مالی قربانی دی اور جو مشکلات جھیلی ہیں وہ اس وقت رائیگاں‌چلی گئیں‌جب انتظامیہ نے دیگرشہروں سے آنے والے مسافروں‌کو داخلے کی اجازت دی.

تاہم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں‌نے بدھ اورجمعرات کی درمیان شب مسافروں کو آخری مرتبہ کشمیر میں‌داخلے کی اجازت دی. اور تمام لوگوں‌کے ٹیسٹ کر کے انہیں‌داخل ہونے دیا گیا. اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ شدید موسم میں‌فیملیز کے ہمراہ لوگ بڑی تعداد میں‌انٹری پوائنٹس پر پھنس چکے تھے. لیکن اب کسی کو بھی نہ کشمیر میں‌داخلے کی اجازت دی جائے گی اور نہ ہی باہر جانے کی اجازت دی جائے گی.

دوسری طرف شہروں‌میں‌لاک ڈاؤن پر عملدرآمد سختی سے جاری ہے. تاہم پولیس کی جانب سے شہریوں کی تذلیل کرنے کے الزامات بھی سامنے آرہے ہیں. پولیس اہلکاران راہ چلتے لوگوں‌کو روک کے گالیاں‌دینے اور سخت لہجے میں‌گفتگو کرنے کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں، جبکہ جو لوگ بیرون ملک سے آئے ہیں ان کی معلومات اکٹھی کر کے انہیں‌قرنطینہ مراکز منتقل کرنے کے عمل میں‌مسلسل غفلت برتی جا رہی ہے.

لاک ڈاؤن کی صورتحال میں‌مصنوعی مہنگائی اور اشیائے صرف کی قلت کی شکایات بھی موصول ہونا شروع ہو رہی ہیں.

محکمہ صحت عامہ کے مطابق پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں کرونا وائرس کے شبہ میں 04 نئے کیس درج ہوئے جن کے ٹیسٹ لیکر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کو بھیج دیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں اب تک کرونا وائرس کے شبہ میں کل 83 افراد کے ٹیسٹ لیے گئے جن میں سے 59 کے رزلٹ آچکے ہیں اور57 افراد میں کرونا وائرس کی موجودگی نہیں پائی گئی جبکہ02 افراد میں کرونا وائرس پایا گیا ہے اور وہ قرنطینہ سینٹر میرپور میں زیر علاج ہیں۔24کے رزلٹ آنا باقی ہیں اور ان کی رپورٹ آئندہ ایک دو روز میں موصول ہو جائے گی۔رپورٹ کے مطابق ایمزمظفرآباد، سی ایم ایچ مظفرآباد، راولاکوٹ، ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میرپور، ڈی ایچ کیو ہسپتال ہٹیاں بالا، نیلم، باغ، حویلی، سدھنوتی، بھمبر، کوٹلی اور نیو سٹی میرپور میں آئسولیشن وارڈز قائم کر دیے گئے ہیں۔

ایک اور سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق محکمہ لوکل گورنمنٹ کو پاکستانی زیر انتظام جموں‌کشمیر میں سپرے کرنے کے حوالے سے بھی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں. تمام اضلاع میں‌لوکل گورنمنٹ کا عملہ کورونا وائرس کی انسداد کےلئے سپرے کرے گا.

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: