بھارتی کشمیر: کورونا وائرس سے پہلی موت، مفتی اعظم کی مسجاد میں‌جمعہ نہ پڑنے کی اپیل

بھارتی زیر انتظام جموں کشمیرکے مفتی اعظم ناصر الاسلام نے جمعرات کو کہا کہ لوگوں کو مساجد میں نماز جمعہ پڑھنے سے گریز کرنا چاہئے۔

خبر رساں ادارے ساوتھ ایشین وائر کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری کشمیر کے ائمہ اور خطباسمیت تمام لوگوں اور مساجد کے منتظمین سے میری عاجزانہ اپیل ہے کہ وہ جمعہ کی اجتماعی نماز سے احتراز کریں۔انہوں نے کہا کہ مسجد کے معززین سمیت صرف تین افراد مسجدوں میں پانچ وقت کی نماز پڑھیں ، باقی لوگوں کو گھر میں ہی نماز پڑھنی چاہئے ۔

کشمیر میں کورونا وائرس سے متاثر شخص کی موت کے بعد انتظامیہ نے شہر میں جمعرات سے تمام مذہبی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ضلع مجسٹریٹ سرینگر شاہد چودھری نے اس ضمن میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تمام مذہبی اداروں نے منتظمین سے صلاح و مشورہ کرکے ان اداروں کو احتیاطی تدابیر کے تحت بند کیا گیا ہے۔انہوں نے ٹویٹ میں کہا کہ سرینگر میں نقشبند صاحب، خانقاہ، دیگر مساجد اور گرو دواروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر کورونا وائرس سے متاثر ہ ایک 65 سالہ شخص کی موت ہوئی ہے۔کووڈ-19 سے متاثرہ شخص کی موت حرکت قلب بند ہونے سے ہوئی ۔ اس طرح سے اس سنگین بیماری کی وجہ سے موت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

ممتاز کاروباری شخصیت محمد اشرف سرینگر کے ڈلگیٹ میں چیسٹ ہسپتال میں زیرعلاج تھے۔وہ شوگر، ہائی بلڈ پریشر کے مریض بھی تھے۔ان کا آبائی علاقہ سوپور ہے اور وہ اب سرینگر کے حیدرپورہ علاقے میں سکونت پذیر تھے۔چند روز قبل ان کا کیس مثبت پایا گیا تھا۔انہوں نے حال ہی میں انڈونیشیا اور ملائیشیا تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت کی تھی اور اترپردیش، نئی دہلی اور جموں سے ہو کر کشمیر پہنچے تھے۔شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں جن چار افراد کے کورونا وائرس ٹیسٹ بدھ کے روز مثبت آئے ہیں، ان سب نے ایک ساتھ مذہبی اجتماعات میں شرکت کی تھی۔

ڈویژنل کمشنر کشمیر نے ایڈیشنل کمشنر کشمیر تصدق حسین میر سے معاملے کی تحقیقات کرنے کو کہا ہے۔حکم نامے کے مطابق چیسٹ ڈیزیز ہسپتال اور اسکمز کی جانب سے متوفی کی جانچ میں لاپرواہی برتی گئی ہے۔ ہسپتال کی غلطی کی وجہ سے اس شخص کو اپنے دوستوں اور رشتے داروں سے ملنے کا موقع ملا جس وجہ سے وائرس مزید پھیل گیا۔سرینگر میونسپل کارپوریشن کے میئر جنید عظیم متو نے سرینگر میو نسپل حدودمیں تعمیراتی سرگرمیوں پر اگلے احکامات تک مکمل پابندی عائد کی ہے ۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ابھی تک 8 افراد کے ٹیسٹ مثبت پائے گیے ہیں، جبکہ پورے جموں و کشمیرمیں ان افراد کی کل تعداد 11 ہے۔ گزشتہ رات کورونا وائرس کی وبا کے خوف سے وادی کشمیر کے بیشتر علاقوں میں اذانیں دی گئیں۔بیشتر اضلاع میں لوگ اپنے گھروں کی چھتوں پر اذان کے علاوہ توبہ استغفار کرتے بھی دکھائی دیے۔یہ سلسلہ تقریبا رات ایک بجے تک جاری رہا۔

بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر میں 5124 افراد کو زیر نگرانی رکھا گیا ہے اور اب تک 11 کیسزمثبت پائے گئے ہیں۔ 3061 افراد کو گھریلو قرنطینہ میں جبکہ 80 افراد کو ہسپتالوں میں قرنطینہ میں رکھاگیا ہے۔ 1477 افراد کو گھروں میں نگرانی پر رکھا گیا ہے جبکہ 506 افراد نے 18 روزہ نگرانی کی مدت پوری کر لی ہے۔326 نمونوں کو ٹیسٹنگ کے لیے بھیج دیا گیا ہے جن میں سے 294 کو منفی پایا گیا ہے اور 25 مارچ 2020 تک 21 رپورٹ آنا باقی ہیں۔کشمیر میں درجنوں مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد ‘متحدہ مجلس علما جموں وکشمیر’ نے ان تمام افراد جو حالیہ ایام میں بیرونی سفر سے آئے ہیں، سے پر زور اپیل کی ہے کہ وہ براہ کرم اپنے سفر کی تفصیلات متعلقہ اداروں اور ایجنسیوں کو رضاکارانہ طور پر خود ہی بتائیں ۔

نظربند حریت رہنما میرواعظ مولوی عمر فاروق کی قیادت میں اس اتحاد کی طرف سے بدھ کے روز جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ایسے افراد اگر قرنطینہ میں رکھے جانے کے ڈر سے اصل حقیقت چھپاتے ہیں تو وہ اپنے کنبے، محلے، علاقے اور معاشرے کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں ۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کرگل نے کوروناوائرس کے پیش نظر ان افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا حکم نامہ جاری کیا ہے جنہوں نے متاثرہ ممالک کے سفر کی تاریخ کا انکشاف نہیں کیا۔کورونا وائرس کے پھیلا وکی روک تھام کے لئے سرینگر میں کنٹرول روم قائم میں 400 افراد سے متعلق شکایات موصول کی گئی ہیں جنہوں نے اپنی سفری تفصیلات چھپا ئی تھیں۔جن میں 200 افراد کی نشاندھی ہو چکی ہیں اور ان کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ضلع سرینگر میں 1750 افراد کو بیرونی ممالک سے وارد کشمیر ہوئے تھے کو 90 قرنطینہ مراکز میں زیر نگرانی رکھا گیا ہے۔جموں و کشمیر میں کورونا کے مثبت کیسز کی تعداد 11 ہے جس میں بدھ کے روز ضلع بانڈی پورہ میں ایک ہی علاقے کے چار افراد مثبت پائے گئے۔مقبوضہ کشمیرمیںکورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر وینٹی لیٹرز کی شدید قلت ہے۔مقبوضہ علاقے کے ہسپتالوںمیں سو کے قریب وینٹی لیٹرز موجو د ہیں جن میں سے 33کو کورونا وائرس کے مریضوں کیلئے مختص کیاگیا ہے ۔ صورہ میڈیکل انسٹیٹیوٹ سرینگر میں تین ، جواہر لال نہرو میموریل ہسپتال سرینگر میں تین اورسرینگر کے سینے کے امراض کے ہسپتال میں دس وینٹی لیٹرز کو کورونا وائرس کے مریضوں کیلئے مختص کیاگیا ہے ۔

مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے ماہرین کی ٹیم میں شامل ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا ہے کہ انہیں مقبوضہ علاقے میں کورونا وائرس میں مبتلا مریضوں کے علاج معالجے کیلئے کم سے کم 5سو وینٹی لیٹرز کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: