لبریشن فرنٹ نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور دیگر پروگرامات ملتوی کر دیئے

جموں‌کشمیر لبریشن فرنٹ نے 16 اپریل کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا ہے. تیس مارچ کو مظفرآباد اور بارہ اپریل کو اسلام گڑھ میں‌منعقد ہونے والے پروگرامات بھی ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے.

ترجمان جموں‌کشمیر لبریشن فرنٹ سردار عمر حیات خان کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نےکرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر 16 اپریل 2020 کو راولاکوٹ سے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی طرف ہونے والے آذادی مارچ کو ملتوی کرنے جبکہ 30 مارچ 2020 کو اسی مارچ کے سلسلے میں ہونے والی عوامی رابطہ مہم کے اختتام پر مظفرآباد میں ہونے والے پروگرام اور 12 اپریل 2020 کو اسلام گڑھ میں حاجی مشتاق مرحوم اور کمانڈر حنیف شہید کی برسی کے پروگرامات کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس بات کا اعلان جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چئیرمین سردارمحمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے ایک پیغام کے ذریعے کیا ہے.

سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ فیصلہ پارٹی کے سنئیر دوستوں کے ساتھ بذریعہ ٹیلی فون مشاورت کے بعد کیا گیا ہے اور حالات معمول پر آنے کے بعد دوبارہ مشاورت کے ساتھ نئ تاریخ کا اعلان کیا جائے گا.

انھوں نے کہا کہ کرونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا میں لوگ بری طرح متاثر ہورہے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر اموات میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے جو کہ باعث تشویش ہے. ہم پوری دنیا کے عوام کے ساتھ اپنی طرف سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور اس موقع پر جب پوری دنیا کو لاک ڈاون کا سامنا ہے ایسے حالات میں سیاسی سرگرمیوں سے ذیادہ ضروری ہے کہ انسانوں کو بچانے کے عمل کا حصہ بن کر اپنے عوام کو اس جان لیوا وائرس سے بچانے میں اپنا کردار ادا کیا جائے.

انھوں نے کہا کہ ہم اپنا پروگرام پوری دنیا کے متاثر ہونے والے عوام کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کے لئے ملتوی کر رہے ہیں اور جب حالات اس قابل ہوں گے تو ہم اپنے ان مطالبات کے حق میں اپنا یہ مارچ دوبارہ نئ تاریخ کے ساتھ کریں گے، انھوں پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا جنھوں نے اس مارچ کے لئے چلائی جانے والی عوامی رابطہ مہم کے دوران پارٹی کے ساتھ تعاون کیا اور مختلف مقامات پر پارٹی کے کامیاب پروگرام منقعد کر کے ریاست جموں کی تقیسم کے لئے ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لئے جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا بھرپور ساتھ دیا.

سردار صغیر خان نے اس موقع پر حکومت پاکستان اور ہندوستان پر زور دیا کہ وہ عالمی برادی کی کرونا وائرس کے خاتمے کے لئے کی جانے والی کوششوں کا ساتھ دیں اور بھارتی مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کے زیر قبضہ گلگت بلتستان میں قید تمام قیدیوں کو فوری طور پر غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے تاکہ ان لوگوں کی جانوں کو بچایا جا سکے جو دونوں ملکوں کی مختلف جیلوں میں قید ہیں، جہاں اس وائرس کے پھیلنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں.

انھوں نے پاکستان کے زیرانتظام جموں کشمیر کی حکومت سے فوری طور پر ضروری اقدامات کرنے پر بھی زور دیا ہے، جن میں ہسپتالوں میں فوری طورپر ضروری بندوبست شہریوں کے لئے مفت ماسک کی ترسیل کو یقینی بنانا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سےنمٹنے کے لئے لوگوں کے لئے خوراک اور ضروریات زندگی ان تک آسانی سے پہنچانا شامل ہے.

انھوں نے کہا کہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کم آمدنی والے لوگوں اور عام مزدور اور محنت کش لوگوں کے لئے فوری پیکیج کا اعلان کرے تاکہ ان کو ہنگامی حالات سے نمٹنے میں کسی دشواری کا سامنا نہ ہو.

انھوں نے لبریشن فرنٹ کے کارکنوں اور عام عوام سے کہا ہے کہ وہ جہاں پر بھی مقیم ہیں وہاں کے حکومتی اداروں اور طبی عملے کی ہدایات اور احکامات پر عمل کریں اور ان اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں. انھوں نے لبریشن فرنٹ اور سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ کے کارکنوں کو ہدایت کی کے وہ دیگر سماجی تنظیموں اور افراد کے ساتھ عوام کے اندر آگہی مہم چلانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ اس وائرس کے خلاف جنگ میں مشترکہ کاوشوں سے فتح حاصل کی جا سکے.

Leave a Reply

Translate »
%d bloggers like this: